جمعرات , 6 اکتوبر 2022

امریکہ کا منجمد اثاثوں سے متعلق فیصلہ ناقابل قبول: افغانستان بینک

کابل:امریکی اور سوئس حکومتوں اور افغان معاشیات کے ماہرین نے بدھ کو کہا کہ وہ افغانستان کے مرکزی بینک سے تین عشاریہ پانچ ارب ڈالر کے منجمد فنڈز منتقل کریں گے تاکہ ان کو ملک کے عوام کے لیے استعمال کیا جا سکے۔ تاہم افغانستان کے قومی بینک نے اس فیصے کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔

خبررساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق طالبان حکومت نئے افغان فنڈ کا حصہ نہیں ہوگی جو سوئٹزرلینڈ میں بینک فار انٹرنیشنل سیٹلمنٹس کے پاس برقرار رہے گا۔

تاہم اپنے ابتدائی ردعمل میں افغانستان کے قومی بینک نے اس اقدام کو مسترد کیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے اعلان کے جواب میں بینک آف افغانستان نے ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ’بینک آف افغانستان کے کرنسی کے ذخائر افغانوں کی ملکیت ہیں اور ان ذخائر کا استعمال اور غیر متعلقہ علاقوں میں منتقلی قابل قبول نہیں ہے۔‘

امریکی خزانہ اور محکمہ خارجہ نے بدھ کو ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ ’عبوری مدت میں افغانستان کے مرکزی بینک کو جس کے پاس فروری میں سات ارب ڈالر کے منجمد فنڈز تھے، یہ ثابت کرنا ہوگا کہ اس کے پاس مرکزی بینک کے فرائض ذمہ داری سے انجام دینے کی مہارت، صلاحیت اور آزادی ہے۔’فنڈز کو ناجائز سرگرمیوں کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کے لیے ٹھوس حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں۔‘

اگست 2021 میں امریکی فوج کے انخلا کے بعد جب طالبان نے ملک کا کنٹرول سنبھالا تو افغانستان کو دی جانے والی بین الاقوامی فنڈنگ معطل کر دی گئی تھی اور بیرون ملک رکھے گئے اس کے اربوں ڈالر کے اثاثے منجمد کر دیئے گئے تھے جن میں زیادہ تر اثاثے امریکہ میں تھے۔

فروری 2022 میں امریکی صدر جو بائیڈن نے ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا تھا جس میں بینکوں سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ افغان ریلیف اور بنیادی ضروریات کے لیے انسانی گروپوں کے ذریعے تقسیم کی غرض سے ٹرسٹ فنڈ کو منجمد رقم کا تین عشاریہ پانچ ارب ڈالر فراہم کریں۔

دیگر تین عشاریہ پانچ ارب ڈالر امریکہ میں 9/11 حملوں کے متاثرین کے اہل خانہ کو دیئے جائیں گے جنہوں نے عدالتوں میں مقدمے دائر کر رکھے ہیں۔

خزانے کے ڈپٹی سیکرٹری ولی ادیمو نے کہا، ’افغان فنڈ افغانستان کو درپیش معاشی مسائل کو کم کرنے میں مدد کرے گا جبکہ افغانستان کے مرکزی بینک دا افغانستان بینک (DAB) کے تین عشاریہ پانچ ارب ڈالر کے ذخائر کی حفاظت اور تحفظ کرے گا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’طالبان کے ’جبر اور معاشی بدانتظامی‘ نے افغانستان کے دیرینہ معاشی مسائل میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔‘

ہیومن رائٹس واچ نے اگست میں کہا تھا کہ افغانستان کے انسانی بحران کو اس وقت تک موثر طریقے سے حل نہیں کیا جا سکتا جب تک امریکہ اور دیگر حکومتیں اقتصادی سرگرمیوں اور انسانی امداد کی اجازت دینے کے لیے ملک کے بینکاری شعبے پر پابندیوں میں نرمی نہیں کرتی ہیں۔

ورلڈ فوڈ پروگرام نے کہا کہ جون سے نومبر 2022 کے درمیان تقریباً نصف افغان آبادی یعنی ایک کروڑ 89 لاکھ افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ملک کے تمام 34 صوبوں کو کسی نہ کسی سطح کے بحران یا ہنگامی سطح پر شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق افغانستان کی چار کروڑ افراد میں سے تقریباً نصف کو ’شدید قحط‘کا سامنا ہے۔

امریکی نائب وزیر خارجہ وینڈی شرمین نے کہا کہ ’افغانستان کے عوام کو انسانی اور معاشی بحرانوں کا سامنا ہے جو کئی دہائیوں سے جاری تنازعات، شدید خشک سالی، کویڈ-19 اور مقامی بدعنوانی سے پیدا ہوئے ہیں۔‘

انہوں نے کہا، ’آج، امریکہ اور اس کے شراکت دار اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم، مضبوط قدم آگے بڑھا رہے ہیں کہ طالبان کو جوابدہ ٹھہراتے ہوئے افغانستان کے لوگوں کے لیے مصائب کو کم کرنے اور معاشی استحکام کو بہتر بنانے کے لیے اضافی وسائل لائے جا سکتے ہیں۔‘

خبررساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق اس فنڈ کے لیے ٹرسٹیز کا ایک بورڈ قائم کیا گیا ہے جس میں سوئٹزرلینڈ میں امریکی سفیر سکاٹ ملر، افغان مرکزی بینک کے سابق سربراہ اور سابق وزیر خزانہ انور احدی اور ڈی اے بی سپریم کونسل میں شامل امریکی ماہر تعلیم شاہ مہرابی بھی شامل ہیں۔

ٹرسٹیز کے زیر انتظام یہ افغان فنڈ بجلی جیسی اہم درآمدات کی ادائیگی، بین الاقوامی مالیاتی اداروں کو قرضوں کی ادائیگی، ترقیاتی امداد کے لیے افغانستان کی اہلیت کا تحفظ اور نئی کرنسی کی چھپائی کے لیے فنڈ فراہم کر سکتا ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ افغان مرکزی بینک جسے ڈی اے بی کے نام سے جانا جاتا ہے، کو اس وقت تک کوئی رقم نہیں جائے گی جب تک کہ وہ ’سیاسی مداخلت سے پاک‘ نہ ہو جائے۔

ڈی اے بی نے کہا کہ ’مرکزی بینک کے ذخائر افغان عوام کے ہیں اور ان کا مقصد کرنسی کے استحکام، مالیاتی نظام کی مضبوطی اور بین الاقوامی تجارت کو آسان بنانا ہے۔‘

ڈی اے بی کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’غیر متعلقہ اہداف کے لیے ذخائر کی تفویض، استعمال یا منتقلی سے متعلق کوئی بھی فیصلہ ڈی اے بی کے لیے ناقابل قبول ہے۔‘

نئی فاؤنڈیشن جنیوا میں بنائی گئی ہے اور اس کا اکاؤنٹ باسل میں قائم بینک فار انٹرنیشنل سیٹلمنٹس (بی آئی ایس) کے پاس ہے جو مرکزی بینکوں کو مالی خدمات فراہم کرتا ہے۔

ایک سینئر امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر صحافیوں کو نئے فنڈ کے بارے میں ایک بریفنگ کے دوران بتایا کہ افغانستان کی معیشت کو سنگین مسائل کا سامنا ہے جو طالبان کے قبضے کی وجہ سے مزید بڑھ گئے ہیں۔‘دفتر خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے صحافیوں کو بتایا کہ رقم ابھی نئے فنڈ میں جمع کرائی جانی ہے تاہم یہ منتقلی ’جلد از جلد‘ ہوگی۔

 

یہ بھی دیکھیں

امریکی صحافی کی کتاب میں ڈونلڈ ٹرمپ سے متعلق نئے انکشافات سامنے آگئے

واشنگٹن:سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زندگی پر لکھی گئی کتاب شائع ہوگئی۔امریکی صحافی میگی …