جمعرات , 6 اکتوبر 2022

مشکلات برائے عوام

(مظہر برلاس)

جب سے موجودہ وفاقی حکومت اقتدار میں آئی ہے لوگوں کی مشکلات میں اتنا اضافہ ہوا ہے کہ اب انہیں زندگی مشکل لگتی ہے ۔ہر طرف مہنگائی کا سیلاب ہے اور اس سیلاب میں لوگوں کو بے یارو مددگار چھوڑ دیا گیا ہے ۔حکمراںاتنے بے حس بھی ہو سکتے ہیں یہ کبھی سوچا نہ تھا ۔وزیر خزانہ ہنستے ہنستے لوگوں پر مہنگائی کی بجلیاں گراتے ہیں، ان کا یہ ہنسنا لوگوں کے دل چیر کے رکھ دیتا ہے لوگ بے بس ہیں ،بے بسی میں کیا ہو سکتا ہے ،بے بسوں کا تو بس بھی نہیں چلتا،حالات نے ان کی بس کروا دی ہے ۔مہنگائی پہ لوگوں کی بے بسی کسی وقت بھی ایسے حالات پیدا کر سکتی ہے جو کسی کے بس میں نہیں ہوں گے ۔

حکمرانوں کو حالات کی سنگینی کا اندازہ نہیں اسی لئے انہوں نے وفاقی کابینہ کی تعداد کو 70تک پہنچا دیا ہے انہیں لوگوں کی مشکلات کا اندازہ نہیں کہ لوگوں کے لئے بجلی کے بلوں کی ادائیگی جان لیوا بنی ہوئی ہے ۔شاید حکمرانوں کو یہ بھی علم نہ ہو کہ اشیائے خورونوش عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوچکی ہیں، وقت کے حاکموں کو شاید یہ بھی معلوم نہ ہو کہ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں کس قدر بڑھ چکی ہیں آج کل حالات یہ ہوگئے ہیں کہ وطن عزیز میں لوگوں کی اکثریت دال روٹی کے چکر میں پھنس کر رہ گئی ہے۔ سانس کی ڈوری کو بحال رکھنے کے لئے لوگوں کو کئی طرح کے پاپڑ بیلنے پڑ رہے ہیں۔مہنگائی کے اثرات معاشرے کے سفید پوش طبقے کے چہروں پر بھی نمایاں ہونے لگے ہیںوہ نہ کسی سے مانگ سکتے ہیں نہ ہی کوئی حکومتی ادارہ انہیں سپورٹ کرتا ہے بلکہ آج کل وہ محض دوا لینے کیلئے کسی میڈیکل اسٹور کا رخ کرتے ہیں تو سب سے پہلے دوا کی قیمت پوچھتے ہیں پھر اس کے بعد فیصلہ کرتے ہیں کہ دوا لی جائے یا نہ لی جائے ؟

اس مشکل ترین مرحلے تک پہنچنے میں لوگوں کو چند ماہ لگے ہیں ۔بازاروں میں رش کم ہو گیا ہے بلکہ گاہک نہ ہونے کےبرابر ہیں۔ اس صورتحال نے تاجروں کو الگ پریشان کر رکھا ہے۔ رہ گیا کاروبار تو اس کے حالات بہت سنگین ہیں ملک میں کوئی کاروبار رہا ہی نہیں کاروباری طبقہ اس الجھن کا شکار ہے کہ وہ کیا کرے ؟ سرکاری ملازمین کی تنخواہیں اتنی نہیں ہیں کہ وہ زندگی کی تمام الجھنوں پر قابو پا سکیں ، انہیں کبھی بجلی کے بل کی فکر ہوتی ہے تو کبھی بچوں کی فیس کا مسئلہ ہوتا ہے، نجی اداروں میں کام کرنے والے الگ پریشان ہیں کہ تنخواہیں کم ہیں مسائل

زیادہ ہیں پھر نجی اداروں میں بیروزگاری کا سانپ لوگوں کو نگلتا جا رہا ہے۔ کسانوں کی حالت کافی عرصے سے پتلی تھی اب ان کےلئے تن ڈھانپنا تک مشکل ہو گیا ہے ۔مزدوروں کی بستیوں میں پہلے ہی غربت کا بسیرا تھا اب وہاں بیروزگاری کا قد دراز ہوتا جا رہا ہے ۔ بڑھتی ہوئی بیروزگاری فیکٹریوں کی بندش کے باعث ہے، فیکٹریاں حکومتی پالیسیوں کے طفیل بند ہو رہی ہیں وزیر خزانہ فرماتے ہیں کہ ’’ہم نے درآمدات پر پابندی لگا رکھی ہے ‘‘ انہیں یہ بات کون سمجھائے کہ حضور ہماری فیکٹریوں کے لئے خام مال بیرونی دنیا سے آتا ہے جب خام مال ہی نہیں آئے گا تو فیکٹریاں کیسے چلیں گی جب ہماری فیکٹریاں نہیں چلیں گی تو ہم باہر بھیجنے کے لئے مال کیسے تیار کریں گے اور ویسے بھی جب آپ کی فیکٹریاں بند ہوں گی تو آپ کے مزدوروں کو روزگار کیسے ملے گا جب روز گار نہیں ملے گا تو غربت میں اضافہ ہو گا ،جب غربت میں اضافہ ہو گا تو جرائم میں بھی اضافہ ہوگا کیونکہ لوگ غربت کے اثرات کو زائل کرنے کیلئے چوری سمیت دیگرسب حربے استعمال کریں گے جب ان حربوں کا استعمال ہو گا تو زندگی کی کشتی مشکلات کے بھنور میںپھنس جائے گی۔

مہنگائی کا گرداب کشتی کو گھیر لے گا اور یاد رکھیئے کہ گرداب میں پھنسے لوگ جلد یا بدیر لہروں کی نذر ہو جاتے ہیں۔ایسے لمحے زندگیوں میں زہر گھول کے رکھ دیتے ہیں یہی زہر پھر خانہ جنگی کا روپ دھار کر گلیوں میں موت کی آواز بن جاتا ہے بس پھر موت کی یہ آواز مزید آوارگی اختیار کرکے پھیلتی چلی جاتی ہے، یہ پھیلائو کسی صورت بھی اچھا نہیں مگر اب ہمارے ہاں حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ یہ کام کسی وقت بھی شروع ہوسکتا ہے۔

حکمرانوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں ایک عمران خان کو روکنے کے چکر میں حالات کا اتنا ستیاناس کر دیا گیا ہے کہ اب خطرہ ہے کہ کہیں خانہ جنگی کا خطرناک کھیل شروع نہ ہو جائے اگر یہ کھیل شروع ہو گیا تو بے بسی بولے گی اور جب بے بسی بولتی ہے تو پھر وہ محلات کو اور محلات کے پہرے داروں کو نہیں دیکھتی۔یاد رکھیئے عوامی سیلاب میں سب کچھ بہہ جاتا ہے سیلاب کی آنکھیں نہیں ہوتیں وہ چھوٹے اور بڑے گھروں میں تمیز نہیں کرتا شاید اسی لئے نوجوان نسل کا مقبول ترین شاعر وصی شاہ پکار کر کہہ رہا ہے کہ ؎

خالق ہمیں حساب میں دیجو رعائتیں

ارض وطن میں زندگی دشوار تھی بہت

(بشکریہ جنگ نیوز)

 

یہ بھی دیکھیں

ایران پر خوردبین لگائے اہل وطن، یہ فساد ہے

(تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس) ایران میں خواتین کتنی آزاد ہیں؟ اس کا اندازہ آپ کو …