جمعرات , 6 اکتوبر 2022

آذربائیجان اور آرمینیا کے تنازعے کی اصل وجہ؟

File photo of Azerbaijan soldiers in position in the Tartar region in 2016

آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان سرحد پر فوجی جھڑپوں کا ایک سلسلہ ان خدشات کو بڑھا رہا ہے کہ ان کے درمیان ایک نئی جنگ چھڑ جائے گی۔

سنہ 1980 کی دہائی کے آخر سے، دو سابق سوویت ریاستیں نگورنو کاراباخ کے علاقے پر اپنے حق کے دعوے کے لیے لڑتی چلی آ رہی ہیں، جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک اور دسیوں ہزار لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔

آرمینیا اور آذربائیجان کہاں ہیں؟

یہ دونوں ملک جنوبی قفقاز (ساؤتھ کاکیسس) میں بحیرہ اسود اور بحیرہ کیسپین کے درمیان مشرقی یورپ اور ایشیا کے ایک پہاڑی علاقے میں واقع ہیں۔

آذربائیجان کی آبادی ایک کروڑ سے کچھ زیادہ ہے جس میں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ آرمینیا کی 30 لاکھ آبادی مسیحیوں پر مشتمل ہے۔

Map showing Armenia, Azerbaijan and Nagorno-Karabakh

سنہ 1923 میں، سوویت یونین نے نگورنو کاراباخ کو جس میں آرمینیائی آبادی کی اکثریت تھی، آذربائیجان جمہوریہ کا ایک خود مختار خطہ بنایا تھا۔ اس خطے کی 150,000 آبادی کی اکثریت اب بھی آرمینیائی ہے۔

آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان لڑائی کیسے شروع ہوئی؟

سنہ 1988 میں نگورنو کاراباخ میں نسلی آرمینیائی باشندوں نے اس پر آرمینیا کی حکمرانی کے لیے تحریک شروع کی۔ اس نے نسلی کشیدگی کو ہوا دی اور جب، سنہ 1991 میں اس خطے نے باضابطہ طور پر آزادی کا اعلان کیا تو آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان جنگ چھڑ گئی۔

اس کے نتیجے میں تقریباً 30,000 ہلاکتیں ہوئیں اور لاکھوں افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔

سنہ 1993 تک آرمینیا نے نگورنو کاراباخ اور آذربائیجان کے آس پاس کے بہت سے علاقے پر قبضہ کر لیا تھا۔

سنہ 1994 میں روس نے جنگ بندی کی ثالثی کی

نگورنو کاراباخ آذربائیجان کا حصہ رہا ہے، لیکن اس جنگ کے بعد سے زیادہ تر ایک علیحدگی پسند، خود ساختہ جمہوریہ کے زیر انتظام ہے، جسے آرمینیائی نسل کے لوگ چلاتے ہیں اور انھیں آرمینیائی حکومت کی حمایت حاصل ہے۔

An image shared by Azerbaijan's Ministry of Defence, firing missiles towards Armenian positions
آذری فوج کا آرمینائی مورچوں پر سنہ 2020 جنگ میں گولہ باری کا منظر۔

آرمینیا اور آذربائیجان کے مابین ستمبر اور نومبر سنہ 2020 کے درمیان ایک اور جنگ ہوئی تھی۔

اس بار آذربائیجان جسے ترکی کی حمایت حاصل تھی، کا پلڑا بھاری رہا اور اس نے نگورنو کاراباخ کے بڑے حصوں پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا۔

روس کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے تحت، آرمینیا نے وہاں سے فوجیوں کو واپس بلا لیا اور تقریباً 2000 روسی امن دستے جنگ بندی کی نگرانی کے لیے خطے میں تعینات کیے گئے۔

اس جنگ میں 6,600 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔

دونوں ملکوں کے رہنما نگورنو کاراباخ کے لیے امن معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے کئی بار ملاقاتیں کر چکے ہیں، لیکن تاحال کوئی نمایاں فائدہ نہیں ہوا۔

A woman visits the grave of a soldier killed during the Nagorno-Karabakh war of 2020.
سنہ 2020 کی جنگ میں متحاربین کے 6600 لوگ ہلاک ہوئے تھے۔

حال ہی میں لڑائی کی نوعیت؟

گذشتہ دنوں آرمینیا اور آذربائیجان کی سرحد پر جھڑپیں پھر سے شروع ہو گئی ہیں اور ان کے بارے میں آرمینیا کے وزیر اعظم نکول پیشین یان کا کہنا ہے کہ ان میں 49 آرمینیائی فوجی مارے گئے ہیں۔

آرمینیا کا دعویٰ ہے کہ آذری افواج نے آذربائیجان کی سرحد کے قریب کئی قصبوں پر گولہ باری کی اور اس نے اپنی گولہ باری کو آرمینیا کی ’بڑے پیمانے پر اشتعال انگیزی‘ کا جواب قرار دیا۔

اس کی حکومت کا کہنا ہے کہ آذربائیجان نے لڑائی شروع کی کیونکہ وہ نگورنو کاراباخ پر مذاکرات نہیں کرنا چاہتا تھا۔

آذربائیجان کا کہنا ہے کہ سب سے پہلے حملہ آرمینیا نے کیا تھا۔

اس نے آرمینیا کی سرحد پر انٹیلیجنس سرگرمیاں انجام دینے اور اس کی فوجی پوزیشنوں پر حملہ کرنے کا الزام لگایا۔

دوسری قوموں نے نئے سرے سے شروع ہونے والی جھڑپوں پر کیا ردعمل ظاہر کیا؟

بہت سی قومیں یوکرین کی جنگ کے علاوہ مشرقی یورپ میں سابق سوویت یونین کے علاقے میں دوسری جنگ چھڑنے سے گھبراتی ہیں۔

Volunteers and reservists, who wish to join the Karabakh Defence Army to fight against Azerbaijani forces during the ongoing military conflict over the breakaway region of Nagorno-Karabakh, take part in a military training course in Yerevan on October 22, 2020
اکتوبر، سنہ 2020 کی جنگ کے وقت ایک آرمینائی رضاکار فوجی تربیت کے دوران۔

روس کا کہنا ہے کہ اس نے آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان جنگ بندی پر بات چیت کی تھی لیکن اس کے بعد سے مسلسل جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

ترکی نے آذربائیجان کا ساتھ دیا ہے اور آرمینیا سے کہا ہے کہ وہ ’اپنی اشتعال انگیزی بند کرے‘۔

فرانس، جس کے پاس اِس وقت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت ہے، نے اس سے کہا ہے کہ وہ اس تنازعے پر بحث کرے۔

یورپی کونسل کے صدر چارلس مشیل کا کہنا ہے کہ وہ آرمینیا کے صدر پیشین یان اور آذربائیجان کے صدر الہام علیئیف دونوں سے رابطے میں ہیں تاکہ مزید کشیدگی کو روکا جا سکے۔

یورپ آذربائیجان کو پرامن ریاست کے طور پر رکھنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔

یورپی یونین کے ممالک اس وقت آذربائیجان سے ہر سال 8 ارب مکعب میٹر گیس درآمد کرتے ہیں۔

روس کی گیس کی سپلائی میں کمی سے دوچار یورپی یونین نے حال ہی میں آذربائیجان کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے کہ وہ سنہ 2023 میں ممکنہ طور پر 12 ارب کیوبک میٹر اور سنہ 2027 تک 20 ارب مکعب میٹر تک گیس کی سپلائی میں اضافہ کرے۔

تاہم، معاہدے کا انحصار آذربائیجان میں سرمایہ کاری کرنے والی غیر ملکی کمپنیوں پر ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ اس کے پاس اتنی مقدار میں گیس برآمد کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔

کونول خلیلووا، نیوز ایڈیٹر، بی بی سی آذربائیجانی کا تجزیہ:

Armenian Prime Minister Nikol Pashinyan, President of the European Council Charles Michel, and Azerbaijan's President Ilham Aliyev, arrive for an official picture before their meeting at the European Council in Brussels on April 6, 2022
آرمینیا کے وزیر اعظم نکول پیشین یان (بائیں)، یورپی کونسل کے صدر چارلس مشیل (درمیان) اور آذربائیجان کے صدر الہام علیوف (دائیں) نے امن پر تبادلہ مذاکرات کرنے کے لیے اس سال کئی ملاقاتیں کیں۔

جب اگست کے آخر میں آذربائیجان کے صدر الہام علیوف نے برسلز میں آرمینیا کے وزیر اعظم نکول پیشین یان سے ملاقات کی تو دونوں نے پہلی بار ایک دوسرے سے ہاتھ ملایا اور زیادہ تر لوگ امن معاہدے کے بارے میں کافی مثبت امکانات دیکھ رہے تھے جس پر انھوں نے اتفاق کیا تھا۔ اس پر کام جاری ہے.

کسی کو بھی اتنی جلدی اس پیمانے کی لڑائی کی توقع نہیں تھی۔ آرمینیا کا کہنا ہے کہ آذربائیجان نے اس کے جنوب مشرقی علاقوں پر حملہ کیا ہے۔ آذربائیجان نے آرمینیائی سرزمین میں کسی قسم کی دراندازی کی تردید کی ہے، اور کہا ہے کہ فوجی کارروائیاں آرمینیا کی طرف سے ’بڑے پیمانے پر تخریبی کارروائیوں‘ کے جواب میں تھیں۔

دو سابق سوویت جمہوریہ کے درمیان ان کی آزادی کے بعد سے زیادہ تر لڑائی نگورنو کاراباخ پر ہوئی ہے، جسے بین الاقوامی سطح پر آذربائیجان کا حصہ تسلیم کیا جاتا ہے لیکن اس خطے کی زیادہ تر آبادی اور حکمرانی نسلی آرمینیائی باشندوں کی ہے۔لیکن اس ہفتے کی لڑائی کاراباخ سے کم از کم 200 کلومیٹر دور ہوئی۔

آرمینیا کا یہ حصہ سٹریٹیجی کے لحاظ سے اہم ہے، کیونکہ یہ آذربائیجان کے مرکزی حصے کو اس کے محصور خطے، نخیچیوان سے جدا کرتا ہے، جو کہ ترکی کی سرحد سے متصل ایک زمینی خطہ ہے۔

آذربائیجان آرمینیائی سرزمین سے ہو کر نخیچیوان اور بالآخر ترکی تک ایک راہداری کھولنا چاہتا ہے، اس امکان کو آرمینیا کے صدر پیشین یان نے یکسر مسترد کر دیا ہے۔

آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان سرحدیں کہاں واقع ہیں اس بارے میں کبھی کوئی باہمی معاہدہ نہیں ہوا، کیونکہ سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد آزاد ہوتے ہی دونوں نے خود کو ایک دوسرے کے ساتھ جنگ ​​میں پایا۔بشکریہ بی بی سی

یہ بھی دیکھیں

ڈالر اور پاک امریکہ تعلقات…

(ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی) ایسا محسوس ہورہا ہے کہ امریکی ڈالرتاریخ کی سب سے بڑی …