منگل , 27 ستمبر 2022

’دہشت گردوں کی دیوی‘ رابن رافیل کون ہیں ؟

سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی جانب سے اپنی حکومت کے خلاف امریکی سازش کے بیانیے کی تشہیر کے بعد اُن کی ایک ایسی سابق امریکی سفارتکار سے ملاقات کے مقصد پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں جن کو ایک وقت میں جاسوسی کے الزامات کا بھی سامنا رہا ہے۔گذشتہ روز پاکستان کے سوشل میڈیا پر عمران خان اور رابن رافیل کی ملاقات کی خبروں کے بعد عمران خان نے خود اس ملاقات کی تصدیق پیر کی شب کی۔ ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں اُن کا کہنا تھا کہ رابن رافیل کو وہ پرانا جانتا ہیں اور وہ یہ کہ رابن رافیل اِس وقت امریکی حکومت کے ساتھ نہیں بلکہ تھنک ٹینکس کے ساتھ ہیں۔

یہ ملاقات اس تناظر میں اہم سمجھی جا رہی ہے کیونکہ عمران خان کی جانب سے ان کی حکومت کے خاتمے پر ایک بیرونی سازش کو ذمہ دار قرار دیا گیا جس میں ان کے بقول اپوزیشن جماعتیں شریک کار بنیں جس کے بعد سے عمران خان سمیت تحریک انصاف کے چند رہنما امریکہ پر مسلسل تنقید کرتے رہے ہیں۔تاہم گذشتہ روز عمران خان نے انٹرویو کے دوران کہا کہ ’باہمی تعلقات میں مسئلے آتے ہیں، وہ ٹھیک ہو جاتے ہیں، اس کا یہ مطلب نہیں کہ کٹی (ناراضگی) ہو جاتی ہے کسی سے۔ ہم صرف یہ کہتے ہیں کہ ہمیں استعمال نہ کیا جائے۔ ہم ایک باوقار تعلق چاہتے ہیں۔‘

عمران خان نے کہا کہ ’میری ان سے کوئی ٹینشن نہیں تھی۔ ٹینشن تب شروع ہوئی جس دن ہم روس پہنچے تو اسی دن پوتن نے حملہ کر دیا یوکرین کے اوپر۔ اب مجھے کیا پتہ تھا۔ اب کیوں کہ ان کی آپس میں ٹینشن تھی تو وہ ہم پر ناراض بھی بڑے ہوئے۔‘عمران خان کی حالیہ ملاقات کے بعد یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ رابن رافیل کون ہیں اور ماضی میں کن تنازعات سے ان کا نام جوڑا گیا؟

رابن رافیل کون ہیں؟

’طویل قامت، سنہرے بال اور نیلی آنکھوں والی پُراعتماد امریکی سفارت کار۔‘

یہ وہ الفاظ ہیں جو رابن رافیل کے بارے میں لکھے گئے ایک مضمون میں واشنگٹن پوسٹ اخبار میں استعمال کیے گئے ہیں۔امریکی محکمہ خارجہ کی ویب سائٹ کے مطابق رابن رافیل نے واشنگٹن یونیورسٹی سے تاریخ اور معاشیات میں بی اے کیا جس کے بعد انھوں نے کیمبرج یونیورسٹی سے تاریخ اور میری لینڈ یونیورسٹی سے اکنامکس میں ایم اے کیا۔واشنگٹن پوسٹ اخبار کے آرٹیکل کے مطابق کیمبرج یونیورسٹی میں پڑھائی کے دوران ان کی دوستی فرینک ایلر سے ہوئی جو بعد میں امریکہ کے صدر بننے والے بل کلنٹن کے بھی دوست تھے۔انھوں نے اپنے کیریئر کا آغاز بطور ٹیچر ایران سے کیا جہاں وہ تہران کے ایک کالج میں تاریخ پڑھاتی تھیں۔

یہاں ان کی ملاقات آرنلڈ لیوس رافیل سے ہوئی جو امریکی سفارت خانے میں پولیٹیکل افسر تھے۔امریکی حکومت کے لیے انھوں نے 1973 میں کام کرنا شروع کیا جب وہ سی آئی سے میں بطور اکنامک تجزیہ کار شامل ہوئیں۔دو سال بعد، 1975 میں، وہ پہلی بار پاکستان آئیں جہاں اسلام آباد میں امریکی ایجنسی یو ایس ایڈ کے ساتھ بطور معاشی تجزیہ کار وابستہ ہوئیں۔اس دوران آرنلڈ لیوس رافیل بھی اسلام آباد تعینات ہوئے اور دونوں نے شادی کر لی۔

آرنلڈ رافیل 1987 میں اسلام آباد میں امریکی سفیر بھی تعینات ہوئے۔ آرنلڈ وہی امریکی سفیر ہیں جو 1988 میں فوجی آمر جنرل ضیا الحق کے ساتھ اس جہاز پر سوار تھے جو تباہ ہو گیا تھا۔ تاہم اس وقت تک ان کی رابن سے علیحدگی ہو چکی تھی۔اسلام آباد میں پوسٹنگ کے بعد رابن امریکی محکمہ خارجہ کا حصہ بن گئیں۔ سنہ 1978 میں امریکہ واپسی کے بعد انھوں نے اسرائیل ڈیسک کے علاوہ، بطور سٹاف ایڈ برائے اسسٹنٹ سیکریٹری جنوبی ایشیا اور پھر بطور سپیشل اسسٹنٹ برائے انڈر سیکریٹری سیاسی امور کام کیا۔

سنہ 1984 میں رابن رافیل کو لندن کے امریکی سفارت خانے بھیج دیا گیا جہاں سے وہ مشرق وسطیٰ، جنوبی اور مشرقی ایشیا سمیت افریقہ پر کام کرتی تھیں۔

سنہ 1991 سے 1993 تک انھوں نے انڈیا کے دارالحکومت دلی میں امریکی سفارت خانے میں کام کیا جس کے بعد ان کو کلنٹن انتظامیہ میں اسسٹنٹ سیکریٹری برائے جنوبی ایشیائی اُمور تعینات کر دیا گیا جس پر وہ چار سال یعنی 1997 تک کام کرتی رہیں۔

سنہ 1997 میں رابن رافیل تیونس میں امریکہ کی سفیر تعینات ہوئیں۔امریکی محکمہ خارجہ کی ویب سائٹ کے مطابق رابن رافیل کو فرانسیسی اور اُردو زبان پر عبور حاصل ہے۔

پاکستان سے مراسم اور جاسوسی کا الزام

رابن رافیل 30 سالہ سفارتکاری سے 2005 میں ریٹائر ہو گئی تھیں لیکن اوباما انتظامیہ میں پاکستان اور افغانستان کے خصوصی ایلچی رچرڈ ہولبروک کے ساتھ ان کو کام کرنے کی دعوت دی گئی۔سنہ 2009 میں اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے نے انھیں کنٹریکٹر کی حیثیت سے نوکری دی تھی۔واشنگٹن پوسٹ کی خبر کے مطابق رابن رافیل کو اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے میں ملازمت دینے پر کئی لوگوں نے تشویش ظاہر کی تھی۔اس کی وجہ یہ تھی کہ دفترِ خارجہ میں 30 سال نوکری کرنے کے فوری بعد انھوں نے کیسیڈی اینڈ ایسوسی ایٹس نامی فرم میں شمولیت اختیار کی جو پاکستان کے لیے لابنگ کرتی ہے۔

سنہ 2013 میں پاکستان سے تعلق اُن کے لیے ایک مشکل کی وجہ بنا جب امریکی تفتیشی ادارے ایف بی آئی نے شمالی واشنگٹن میں رابن رافیل کے گھر کی تلاشی لی جبکہ امریکی محکمۂ خارجہ میں ان کے دفتر کا بھی معائنہ کیا تھا۔

واشنگٹن کی سفارتی اور ماہرین کے حلقوں میں اہم مقام رکھنے والی رافیل کو انتظامی رخصت پر بھیج دیا گیا اور محکمۂ خارجہ نے ان کے نوکری کے معاہدے کی تجدید نہیں کی۔

دو امریکی اہلکاروں نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا تھا کہ رافیل کے خلاف تحقیقات کاؤنٹر انٹیلیجنس یا جاسوسی کرنے سے متعلق تھا جس میں عام طور پر بیرونی ممالک کے لیے جاسوسی کرنا شامل ہوتا ہے۔

امریکہ میں وفاقی سطح پر ہونے والی کاؤنٹر انٹیلیجنس کی تحقیقات بہت خفیہ طریقے سے کی جاتی ہیں۔ اس وقت امریکی محکمۂ خارجہ کی ترجمان جین ساکی نے کہا تھا کہ رافیل کی سکیورٹی کلیئرنس اکتوبر ہی میں واپس لے لی گئی تھی۔

تاہم امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کے مطابق ایف بی آئی کو شک تھا کہ رابن رافیل پاکستانی حکومت کے لیے جاسوسی کرتی رہی ہیں۔ تاہم جلد ہی جاسوسی کے الزامات کا کوئی ثبوت نہ ملنے کے بعد ایف بی آئی نے اس کیس کو خفیہ دستاویزات اپنے گھر رکھنے کے الزام تک محدود کر دیا۔

تاہم طویل تفتیش کے بعد یہ کیس 2014 میں بنا کسی مقدمے کے اندراج کے ختم کر دیا گیا جس کے بعد رابن رافیل کے وکیل کی جانب سے بیان دیا گیا کہ سارا واقعہ ایک غلط فہمی کی بنیاد پر شروع ہوا اور رابن رافیل پر کوئی الزام ثابت نہیں ہو سکا۔

انڈیا کی ناپسندیدگی

رابن رافیل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کے پاکستانی حکام سے قریبی مراسم رہے اور اسی وجہ سے ان کو انڈیا میں ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔

ان کا تجربہ انڈیا میں ذاتی طور پر بھی کچھ اچھا نہیں رہا تھا۔ ایک شوقین گھڑ سوار، رابن رافیل، دلی میں 1991 میں ایک بار گھوڑے سے گر گئی تھیں جس کے بعد گھوڑے نے لات مار کر ان کی ناک توڑ دی اور ان کو کئی ہفتے ہسپتال میں گزارنا پڑے۔

تاہم انڈیا میں ان کو ناپسند کرنے کی وجہ کچھ اور تھی۔

دی گارڈین اخبار کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ 1990 کی دہائی میں جب رابن رافیل اسسٹنٹ سیکریٹری برائے جنوبی ایشیائی امور تھیں تو اس وقت انھوں نے انڈیا کی جانب سے کشمیر پر دعوے پر سوال اٹھایا تھا جو بعد میں لیک ہو گیا۔

اس پر جہاں پاکستان میں ان کو سراہا گیا، وہیں انڈیا میں اس معاملے پر ان کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور ایک اخبار نے ان کے خلاف تنقیدی آرٹیکل میں ان کو ’دہشت گردوں کی دیوی‘ قرار دیا۔

مبینہ امریکی سازش

وزیراعظم عمران خان نے 27 مارچ کو اسلام آباد میں ایک جلسہ عام سے خطاب کے دوران الزام عائد کیا تھا کہ ایک ملک کی جانب سے حکومت پاکستان کو دھمکی دی گئی اور حکومت ہٹانے کی سازش کی گَئی۔جلسے کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے ایک اور تقریر میں دعویٰ کیا کہ امریکی اسسٹنٹ سیکریٹری ڈونلڈ لو نے امریکہ میں تعینات پاکستانی سفیر سے کہا کہ ‘اگر عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی تو وہ پاکستان کو معاف کر دیں گے جس کا ثبوت ایک مراسلے کی شکل میں موجود ہے۔‘عمران خان کا اصرار تھا کہ ڈونلڈ لو اس امریکی سازش کا حصہ ہیں جس کا مقصد ان کی حکومت کو ہٹانا تھا۔تاہم امریکی دفتر خارجہ نے ان تمام الزامات کی تردید کی جبکہ قومی سلامتی کمیٹی کی میٹنگ میں بھی سازش جیسے کسی بھی اقدام کی نفی کی گئی۔بعد ازاں ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے ایک پریس کانفرنس میں واضح طور پر کہا کہ ’(قومی سلامتی) اجلاس کے دوران تینوں سروسز چیفس میٹنگ میں موجود تھے۔ میٹنگ میں شرکا کو ایجنسیز کی طرف سے آگاہ کیا گیا کہ کسی قسم کی سازش کے شواہد نہیں ہیں۔ میٹنگ میں کلیئر بتا دیا گیا تھا کہ سازش کے شواہد نہیں ملے۔بشکریہ آئی بی سی اردو

یہ بھی دیکھیں

چین سی پیک منصوبوں میں مزید سرمایہ کاری کیوں نہیں کر رہا؟

(میاں عمران احمد) گل زیب خان گوادر کے رہائشی ہیں۔ وہ چھوٹے تاجر ہیں اور …