اتوار , 25 ستمبر 2022

شہباز پیوٹن ملاقات

پاکستان اور روس کے سفارتی اور تجارتی تعلقات شروع ہی سے اتار چڑھائو سے دوچار رہے ہیں البتہ 1970ء کے عشرے میں کچھ ٹھہرائوآیا تھاجس کی بدولت پاکستان سٹیل ملز کی تعمیر عمل میں آئی ۔بعد ازاں سوویت جنگ ، افغان خانہ جنگی اور دہشت گردی کے حالات خطے پر غالب رہے جس سے دونوں ملکوں کے درمیان بڑی حد تک خلیج قائم رہی ۔جمعرات کے روز ازبکستان کے دورے کے موقع پر وزیر اعظم شہباز شریف کی روسی صدر ولادی میر پیوٹن کے ساتھ ملاقات کے تناظر میں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ پاکستان اس وقت توانائی کے جس بحران سے گزر رہا ہے اس کا انتباہ ارضیاتی ماہرین گزشتہ دو دہائیوں سے کرتے چلے آ رہے ہیں اور موجودہ صورتحال یہ ہے کہ قدرتی گیس کے مقامی ذخائر ملک کی محض چند فیصد ضرورت پوری کر پا رہے ہیں سردی کے سیزن میں کمرشل اور گھریلو صارفین کو سپلائی نہ ہونے کے برابر کرنی پڑ رہی ہے اور رفتہ رفتہ یہ سلسلہ انتہائی سنگینی کی طرف بڑھ رہا جبکہ 2025سے 2028تک موجودہ ذخائر کے ختم ہو جانے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے تاہم خطے کے ملکوں سے پائپ لائن کے ذریعے گیس درآمد کرنے کے حوالے سے پاکستان کے پاس اس وقت مختلف آپشن موجود ہیں۔ ایران ایک سابقہ معاہدے کے تحت پاکستانی سرحد تک گیس کی سپلائی مستقبل قریب میں دینے کو تیار ہے ۔

ترکمانستان سے افغانستان کے راستے گیس پاکستان اور اس سے آگے بھارت تک پہنچانے کا ایک منصوبہ (تاپی)سرد خانے میں پڑا ہے بعض دوسرے وسطی ایشیائی ممالک بھی پاکستان کو توانائی کے منصوبے فراہم کرنے کی پیشکش کر چکے ہیں جبکہ روس سے قدرتی گیس حاصل کرنے پر بڑی حد تک پیش رفت ہو چکی ہے رواں سال فروری میں پی ٹی آئی حکومت کے سربراہ عمران خان کے دوررہ ماسکو کے بعد جمعرات کے روز جب وزیر اعظم شہباز شریف شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے با ئیسویں سربراہی اجلاس کے موقع پر ازبکستان کے شہر سمرقند میں موجود تھے ان سے ایران، بیلا روس ، تاجکستان، ازبکستان اور روس کے صدور کی ملاقاتیں ہوئیں اور دو طرفہ امور پر الگ الگ بات چیت ہوئی ۔

روس کے صدر ولادی میر پیوٹن کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں جہاں پاکستانی قیادت نے غذائی تحفظ ،تجارت و سرمایہ کاری ،توانائی، دفاع اور سیکورٹی سمیت باہمی مفاد کے تمام شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کیلئے روس کے ساتھ ملکر کام کرنے کےعزم کا اعادہ کیا اسی دوران روسی صدر نے انکشاف کیا کہ روس کے پاس پاکستان کو گیس کی فراہمی کا انفرا اسٹرکچرپہلے سے موجود ہے جس کی رو سے یہ منصوبہ قابل عمل ہے۔ یاد رہے کہ 2015ء میں نواز شریف کے دور میں پاکستان اور روس کے درمیان دو ارب ڈالر کی لاگت سے قازقستان، ازبکستان اور افغانستان کے راستے 1100کلو میٹر طویل گیس پائپ لائن بچھانے کا معاہدہ ہوا تھا جسے دسمبر 2017ء میں مکمل ہو جانا تھا بعد ازاں یہ پروگرام بھی سرد خانے کی نذر ہو گیا۔

رواں برس دونوں ملکوں میں سربراہی سطح پر اسےآگے بڑھانے پر بات چیت ہوئی ہے جو وقت کی اہم ضرورت بھی ہے۔ اس وقت ملک کا گھریلو سطح سے لیکر صنعتی پہیہ رواں دواں رکھنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے جس کی وجہ سے سب سے زیادہ برآمدی شعبہ متاثر ہو رہا اور ڈالر آنے کی بجائے ملک سے باہر جا رہا ہے۔اس وقت یورپی ملکوں کو ملنے والی کل گیس کا ایک تہائی حصہ روس سے آ رہا ہے۔ ان میں بارہ ممالک ایسے ہیں جن کی آدھی ضروریات اسی سے پوری ہو رہی ہیں۔ پاکستان کو بھی دیکھنا چاہئے کہ اگر روس سے سستی گیس کی درآمدہر لحاظ سے قابل عمل ہے تو اس کام میں مزید تاخیر نہیں کی جانی چاہئے۔بشکریہ جنگ نیوز

 

یہ بھی دیکھیں

جب انگریز راج میں خواتین نے نمک پر ٹیکس کے خلاف تحریک چلائی

(وقار مصطفیٰ) 31 دسمبر 1929 کی ٹھٹھرتی رات، لاہور میں راوی دریا کے مشرقی کنارے …