ہفتہ , 1 اکتوبر 2022

بائیکاٹ سے لے کر منفی پروپیگنڈہ، اربعین دشمن ذرائع ابلاغ کا ردعمل

(تحریر: فاطمہ محمدی)

ہر سال صفر کے مہینے میں مغربی ایشیا کے ملک عراق میں انسانی تاریخ کا عظیم ترین اجتماع منعقد ہوتا ہے۔ یہ اجتماع سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کے چہلم کے موقع پر اربعین کی مشی کی صورت میں منعقد ہوتا ہے اور عراق کے مختلف شہروں اور دیہاتوں سے امام حسین علیہ السلام کے عقیدت مند اور عزادار ٹولیوں کی صورت میں کربلا کی جانب پیدل چلتے ہیں جسے اصطلاح میں مشی کہا جاتا ہے۔ اربعین کی مشی چہلم یعنی 20 صفر سے کئی ہفتے پہلے شروع ہو جاتی ہے۔ اس واک یا مشی کے بہت سے روٹس ہیں جن میں سے نجف سے کربلا تک 80 کلومیٹر کا روٹ ایک خاص بین الاقوامی رنگ اختیار کر چکا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا بھر سے امام حسین علیہ السلام کے عزادار اس روٹ پر مشی انجام دیتے ہیں۔

سابق صدر صدام حسین کی سرنگونی کے بعد یہ اجتماع بہت بڑے پیمانے پر منعقد ہوتا ہے اور اسے دنیا کا عظیم ترین انسانی اجتماع قرار دیا جا سکتا ہے۔ دوسری طرف اکیسویں صدی میں آزادی اظہار کی دعویدار دنیا اور اس کے علمبردار مغربی ممالک کے ذرائع ابلاغ ہر سال اس عظیم انسانی واقعے کی شدید سینسرشپ کرتے ہیں اور انتہائی مشکوک طرز عمل کا اظہار کرتے ہوئے اس کا مکمل بائیکاٹ کر دیا جاتا ہے۔ بعض ذرائع ابلاغ نہ صرف اس عظیم مذہبی اجتماع کو بھرپور کوریج نہیں دیتے بلکہ اس کے بارے میں منفی پروپیگنڈہ بھی انجام دیتے ہیں۔ بہت کم ایسے ذرائع ابلاغ ہیں جو پورے انصاف کے ساتھ چہلم سید الشہداء علیہ السلام پر منعقد ہونے والی اس عظیم مشی کو کوریج دیتے ہیں اور حقائق کو درست انداز میں بیان کرتے ہیں۔ تحریر حاضر میں ہم بعض ایسے ذرائع ابلاغ کا ذکر کریں گے جو یا تو اربعین مشی کا بائیکاٹ کر دیتے ہیں یا اسے غلط انداز میں پیش کرتے ہیں۔

بترکی کے چینل آناتولی نے جمعرات 8 ستمبر 2022ء کے دن نجف سے کربلا اربعین مشی کے بارے میں ایک رپورٹ شائع کی۔ اس رپورٹ میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ اس میں شرکت کرنے والے افراد کی اکثریت ایرانی شہریوں کی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ گذشتہ دو برس تک کرونا وائرس کی وجہ سے عراقی حکومت نے غیر ملکی زائرین کی آمد پر پابندی لگا رکھی تھی لیکن اس سال سب کو اربعین مشی میں شرکت کی اجازت دی گئی ہے۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ ایران سے اس سال تقریباً 50 لاکھ شہری اربعین مشی میں شرکت کیلئے عراق جانا چاہتے ہیں جس کے باعث سرحدی علاقوں میں شدید رش کا امکان پایا جاتا ہے۔ آناتولی چینل کی اس رپورٹ میں ایران اور عراق کی سرحدوں پر زائرین کی ناگفتہ بہ صورتحال کا بھی ذکر کیا گیا۔

2)۔ بی بی سی: اربعین مشی حج کے مقابلے میں ہے
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی فارسی ویب سائٹ نے منگل 13 ستمبر 2022ء کے دن مسعود آذر نامی مصنف کا ایک کالم شائع کیا جس میں اربعین کی مشی کو "نئی جنم لینے والی” مذہبی تقریب قرار دیا گیا۔ مصنف نے ایرانی حکومت کے خلاف شدید پروپیگنڈہ کرتے ہوئے اس پر ایرانی زائرین اور دیگر ممالک سے آنے والے زائرین کے درمیان امتیازی سلوک روا رکھنے کا الزام عائد کیا۔ مسعود آذر نے اپنے اس کالم میں اسلامی جمہوریہ ایران پر ی الزام بھی عائد کیا کہ وہ اربعین مشی کو حج کے مقابلے میں لانے کے درپے ہے تاکہ اس طرح اپنے نظام اور انقلاب کیلئے زیادہ سے زیادہ عوامی حمایت حاصل کر سکے۔ اس نے مذہبی اسکالر کا روپ دھارتے ہوئے قم مقدس میں حرم حضرت معصومہ س سے مسجد جمکران کی جانب اربعین مشی کو "بدعت” قرار دیا۔

3)۔ سعودی ذرائع ابلاغ: منفی رنگ دینے کی کوشش
سعودی شہزادوں سے وابستہ دو میڈیا ذرائع یعنی انڈیپنڈینٹ فارسی اور ایران انٹرنیشنل نے مشترکہ انداز اپناتے ہوئے اربعین مشی کا چہرہ بگاڑ کر پیش کرنے کی کوشش کی۔ پیر 12 ستمبر 2022ء کے دن انڈیپنڈینٹ فارسی نے عجیب قسم کی خبر لگائی: "اربعین واک، کم از کم 28 جاں بحق اور 30 ہزار زخمی۔” اس خبر سے یہ تاثر ملتا تھا کہ اربعین واک ایک مذہبی تقریب نہیں بلکہ زائرین کے درمیان شدید جنگ جاری ہے۔ اس میڈیا ذریعے نے ایرانی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مزید لکھا: "اربعین واک میں گذشتہ دس برس سے ایرانی حکومت کے چھوٹے اور بڑے اداروں کی مداخلت کے باوجود اب تک اس تقریب میں مناسب نظم و ضبط ایجاد نہیں ہو سکا ہے۔” دوسری طرف اربعین واک میں موجود افراد نے حقیقت برملا کرتے ہوئے عراقیوں کی زبردستی مہمان نوازی کی خبر دی۔

4)۔ وائس آف امریکہ: اربعین مشی کے خلاف نفسیاتی جنگ کا کنٹرول روم
صفر کا مہینہ شروع ہونے اور مختلف ممالک کے زائرین کا عراقی بارڈر کی جانب سفر شروع ہونے کے ساتھ ہی "وی او اے” نے اہل تشیع کے مذہبی عقائد اور ایرانی حکومت اور عوام کے خلاف نفسیاتی جنگ شروع کر دی۔ اس امریکی میڈیا ذریعے نے "اربعین واک، شیعہ طاقت کے اظہار کیلئے اسلامی جمہوریہ ایران کی بدعت” کے عنوان سے ایک مقالہ شائع کیا جس میں یہ ظاہر کیا گیا کہ اربعین واک دراصل عراق میں ایک مذہبی تقریب تھی جو دھیرے دھیرے سیاسی اور حکومتی تحریک میں تبدیل ہوتی جا رہی ہے۔ اس مقالے میں زائرین امام حسین علیہ السلام کی واضح توہین کرتے ہوئے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی کہ زائرین کا اصل مقصد اربعین واک کے راستے میں موجود کھانے پینے کی اشیاء اور دیگر سہولیات سے بہرہ مند ہونا ہے۔ وائس آف امریکہ کے انداز سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایرانی اور عراقی اہل تشیع کے درمیان قرابتیں بڑھنے سے شدید خوفزدہ ہے۔بشکریہ اسلام ٹائمز

یہ بھی دیکھیں

کیا پیوٹن کا ‘ فوج کو جزوی طور پر متحرک کرنے کا عمل’ یوکرین میں روسی مقاصد کو حاصل کر سکتاہے؟: شفقنا بین الاقوامی

روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے 300,000 ریزرو کو حکم دیا ہے کہ وہ ایک …