منگل , 27 ستمبر 2022

صدر اردوغان روس، یوکرین تنازع سے کیسے فائدہ اٹھا رہے ہیں؟

جیسے جیسے یوکرین میں جنگ آگے بڑھ رہی ہے ویسے ویسے ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کا نیا چہرہ سامنے آ رہا ہے۔ بہت سے ماہرین اسے ترکی کا دو طرفہ کھیل قرار دے رہے ہیں کیونکہ مغربی طاقتوں کا اتحادی ہونے کے ساتھ ساتھ ترکی اس جنگ کے دوران روس کے قریب تر آ گیا ہے۔

نیٹو کا رُکن اور یوکرین کا روایتی ساتھی ہونے کی وجہ سے رواں برس فروری میں روس، یوکرین جنگ کے آغاز پر ترکی نے روس مخالف مغربی طاقتوں کے اتحاد کے ساتھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔

یوکرین کے لیے ترکی کی حمایت صرف سیاسی حد تک محدود نہیں تھی بلکہ اس نے یوکرین کی فوجی مدد بھی کی۔ ترکی کی جانب سے یوکرین کو دیے گئے ’ٹی بی ٹو‘ ڈرونز حالیہ دنوں میں روسی افواج کے لیے ایک ڈراؤنا خواب ثابت ہوئے ہیں۔

تاہم ترکی نے مغربی طاقتوں کے اس اقدام کی کبھی حمایت نہیں کی جس کے تحت روس پر معاشی پابندیاں عائد کی گئیں بلکہ صورتحال یہ ہے کہ اس دوران ترکی نے روس کے ساتھ اپنے اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط کیا ہے۔

اور رواں ماہ کے آغاز میں ترک صدر رجب طیب اردوغان نے امریکہ اور یورپی یونین پر ماسکو کے خلاف ’اشتعال انگیزی‘ کی پالیسی پر عمل پیرا ہونے کا الزام لگا کر دنیا کو چونکا دیا۔

انھوں نے روس کی تعریف بھی کی اور کہا کہ ’روس کے حوالے سے غلط اندازے‘ نہ لگائیں جائیں اور اب رواں ہفتے وہ روس کے صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات بھی کرنے والے ہیں۔

اردوغان نے اس جنگ کے دوران ’توازن‘ کی پالیسی پر عمل پیرا رہنے کا دعویٰ کیا ہے اور روس یوکرین تنازع میں ثالث کے طور پر اپنے کردار کی توثیق بھی کی ہے۔

سیاسی تجزیہ کار کریم ہاس کے مطابق ’صدر اردوغان امریکہ اور مغرب کے ساتھ اپنے تعلقات میں روس کارڈ کا استعمال کرتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اس معاملے میں ترکی امریکہ اور مغرب کے لیے ایک قابل قدر اتحادی ہے۔ دوسری جانب وہ روس کے ساتھ اپنے تعلقات میں بھی مغرب کے کارڈ کا استعمال کرتے ہیں۔‘

بعض تجزیہ کاروں کے مطابق یہ دو جہتی حکمت عملی ترکی کے لیے اہم اقتصادی اور سیاسی فوائد کا باعث بن سکتی ہے۔

اقتدار اور پیسہ
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سیاسی تجزیہ کار کریم ہاس کا کہنا ہے کہ ’اردوغان کو دو چیزیں پسند ہیں: طاقت اور پیسہ۔‘

گذشتہ دو دہائیوں سے ملک پر حکمرانی کرنے والے ترک صدر کی مقبولیت میں گذشتہ سال کمی دیکھی گئی، اور اس عوامی مقبولیت میں کمی کی ایک بنیادی وجہ ترکی میں سنگین ہوتا معاشی بحران سے ہے۔

گذشتہ 12 ماہ کے دوران ترکی کی کرنسی لیرا کی قدر نصف سے بھی نصف سے بھی کم رہ گئی ہے جبکہ ملک میں افراط زر 80 فیصد سے زیادہ بڑھ چکا ہے اور اسی معاشی صورتحال کے بیچ جون 2023 میں صدارتی انتخابات ہونا ہیں، جو 20 سال سے زیادہ اقتدار میں رہنے والے اردوغان کے اقتدار کے تسلسل کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔

کریم ہاس کے مطابق ’صدارتی انتخابات سے قبل اردوغان کو بیرونی ممالک سے بہت زیادہ اقتصادی اور مالی مدد اور سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، تاکہ ملکی معیشت کی بحالی ممکن ہو سکے اور انتخابات میں ان کی کامیابی یقینی بن پائے۔‘

دوسری جانب روس ہے جسے ایک ایسے شراکت دار کی ضرورت ہے جو روس پر لگنے والے عالمی پابندیوں کو زیادہ سے زیادہ روک پائے جبکہ روس کو عالمی منڈیوں میں اپنی مصنوعات فروخت کرنے کے لیے ایک ثالث کی بھی ضرورت ہے۔

کریم ہاس کے مطابق ’ترکی اس پورے معاملے کو اپنے لیے ایک سنہرے موقع کے طور پر دیکھ چکا ہے۔ ترکی دیکھ چکا ہے کہ وہ کیسے روس کے لیے تجارتی اور لاجسٹک مرکز بننے کے ساتھ ساتھ مغرب کے ساتھ روس کے اقتصادی تعلقات میں کردار ادا کر سکتا ہے۔‘

’عالمی معاشی پابندیوں کی وجہ سے روسی مارکیٹ اور اس کی مصنوعات کو ترک کرنے والی بہت سی مغربی کمپنیوں نے استنبول کو نئے لاجسٹک سینٹر کے طور لینا شروع کیا ہے، ایک ایسا سینٹر جس کی مدد سے وہ روس سے اپنا بزنس جاری رکھ سکیں۔‘

’اور بالکل اسی طرح وہ بہت سے روسی تاجر جو مغربی ممالک کے ساتھ تجارت کرتے ہیں، اپنے لاجسٹک اور تجارتی مراکز کو ترکی منتقل کر رہے ہیں تاکہ عالمی پابندیوں کی زد سے بچے رہیں۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ ’دوسری طرف ہم ہر روز دیکھتے ہیں کہ کیسے ترکی کی ملکیتی کوئی نہ کوئی کمپنی روسی مارکیٹ میں داخل ہوتی ہے تاکہ ان مغربی کمپنیوں کی جگہ لے لے جو اب روس سے تجارت کرنے سے گریزاں ہے۔‘

تجارت، سرمایہ کاری اور گیس
روس یوکرین جنگ نے ترکی اور روس کے درمیان دو طرفہ تجارت کو بھی متحرک کیا ہے۔ ترکی کے ادارہ شماریات کے مطابق سنہ 2021 کے ماہ جولائی کے مقابلے جولائی 2022 میں ترکی کی روس کو برآمدات میں 75 فیصد اضافہ ہوا۔

گذشتہ ماہ اگست کے آغاز میں سوچی (روس) میں ہونے والی ملاقات میں اردوغان اور پوتن نے توانائی، ٹرانسپورٹ، مالیات، زراعت اور سیاحت کے شعبوں میں تجارت کے حجم کو 100 ارب امریکی ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق کیا۔

ترکی کی معیشت میں روس کے پیسے کی آمد کی ایک اور مثال ملک کے جنوب میں جاری اکویو نیوکلیئر پلانٹ کا منصوبہ ہے جس کے لیے روس نے ترکی کو 20 ارب امریکی ڈالر منتقل کیے ہیں۔توانائی کے شعبے میں ترکی بھی موجودہ صورتحال سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

ترکی اپنی گیس کی درآمدات کا تقریباً نصف روس سے حاصل کرتا ہے۔ اور صدر پوتن سے حالیہ ملاقات سے قبل صدر اردوغان نے کہا تھا کہ وہ روس سے گیس کی قیمتوں میں رعایت پر بات چیت کریں گے۔

ترکی نے پہلے ہی گذشتہ ماہ روسی گیس کی جزوی طور پر روبل میں ادائیگی کرنے اور ملک میں ادائیگی کا نیا نظام متعارف کرانے کا وعدہ کیا تھا۔ یہ نیا نظام روس کے مرکزی بینک نے مغربی بین الاقوامی سوئفٹ کے مقابلے میں تیار کیا ہے۔

ماسکو کے ساتھ رہنے سے ترکی کو سیاحت کے شعبے میں بھی فائدہ ہوتا ہے کیونکہ یہ بہت سے روسیوں کے لیے چھٹیوں کے دوران وقت گزارنے کا ایک بہترین مقام ہے خاص طور پر ایک ایسے وقت میں جب یورپی یونین کے ممالک روسی شہریوں کو ویزے دینے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں اور اس حوالے سے بہت سے پابندیاں عائد ہیں۔

یاد رہے کہ روس یوکرین جنگ شروع سے پہلے ہی روس سے ترکی آنے والے سیاحوں کی تعداد میں بے تحاشہ اضافہ دیکھا گیا تھا۔ سنہ 2021 کے ابتدائی سات مہینوں میں 21 لاکھ سے زائد روسی سیاحوں نے ترکی کو اپنی منزل بنایا اور یہ تعداد گذشتہ سال کے اسی دورانیے کے مقابلے میں 41 فیصد زیادہ تھی۔

بین الاقوامی کردار
جرمن انسٹیٹیوٹ برائے بین الاقوامی امور اور سلامتی کی تجزیہ کار ڈاریا اسخنکو کے مطابق روس اور مغرب کے درمیان تصادم سے ترکی کو حاصل ہونے والا ایک اور اہم فائدہ بین الاقوامی سطح پر حاصل ہونے والی توجہ ہے، یعنی اپنی سٹریٹیجک پوزیشن اور ثالثی کے کردار کی بدولت جغرافیائی سیاسی اہمیت حاصل کرنا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’اس کی دو اچھی مثالیں استنبول میں مارچ میں روسی اور یوکرین کے وفود کے درمیان ہونے والے مذاکرات اور جولائی میں ہونے والا اناج کا معاہدہ ہیں۔‘

اقوام متحدہ اور ترکی کے زیر اہتمام ہونے والے اس معاہدے کے تحت 20 ملین ٹن سے زیادہ یوکرین میں پیدا ہونے والے اناج کی برآمد کی اجازت دی گئی- یہ وہ اناج تھا جو جنگ کے باعث بحیرہ اسود کی بندرگاہوں تک محدود ہو چکا تھا۔ اور اس معاہدے کا مقصد عالمی خوراک کے بڑھتے ہوئے بحران کو ختم کرنا تھا۔کریم ہاس کا خیال ہے کہ ترکی کے ثالثی کے کردار کی بدولت مغرب کو بھی فائدہ پہنچا۔

’امریکہ، یورپی یونین اور برطانیہ روس کے ساتھ بات چیت کا کم از کم ایک چینل کُھلا رکھنا چاہتے ہیں اور ان کے لیے یہ ضروری ہے کہ مذاکرات استنبول میں ہوں نہ کہ بیلاروس، قازقستان یا خطے کے کسی دوسرے ملک کے ذریعے۔‘

دوسری طرف اردغان روس کے ساتھ اپنے تعلقات کو اپنے روایتی مغربی اتحادیوں کے لیے ویک اپ کال کے طور پر بھی استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

’وہ اپنے ملک کے لیے مالی، سفارتی اور سیاسی مدد کے معاملے میں امریکہ اور دیگر یورپی ممالک کے ساتھ مذاکرات میں اپنے موقف کی توثیق کروانا چاہتے ہیں اور اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ مغربی رہنماؤں کے ساتھ تصاویر بنوانے کا سلسلہ جاری رکھیں۔‘

یہ ایسے وقت میں خاص طور پر اہم ہے جب ترکی میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال یا شام میں کرد ملیشیا کے معاملے پر امریکہ اور اس کے روایتی یورپی اتحادیوں کے ساتھ انقرہ کے تعلقات سرد مہری کا شکار ہیں۔

محدود دوستی
ڈاریا اسخنکو کا خیال ہے کہ کسی بھی صورت میں ’دونوں طرف سے کھیلنے‘ کی حکمت عملی کی حدود ہوتی ہیں خاص طور پر ایک ایسے وقت میں جب ترکی کے روس کے ساتھ جغرافیائی سیاسی میدان میں مفادات کے اہم تنازعات ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’بحیرہ اسود میں روس کی توسیعی عزائم پر ترکی کو بہت تشویش ہے اور وہ اسے ایک سکیورٹی معاملے کے طور پر دیکھتا ہے۔‘

’معیشت سے بالاتر ہو کر، انقرہ کی ترجیح اپنے جغرافیائی سیاسی مفادات کا تحفظ کرنا ہے، نہ صرف بحیرہ اسود میں بلکہ مشرق وسطیٰ، مشرقی بحیرہ روم، یا جنوبی قفقاز میں بھی۔‘ہاس کا کہنا ہے کہ ’ترکی حقیقت میں روس کا ‘چھوٹا بھائی’ نہیں بننا چاہتا اور نہ ہی نیٹو یا مغربی بلاک سے نکلنا چاہتا ہے۔‘

دوسری جانب ترک صدر کی جانب سے یوکرین کو ہتھیار بھیجنے پر امریکا اور یورپی یونین کی جانب سے حالیہ تنقید اس وقت حیران کن ہے، جب ترکی نے خود روسی افواج کا مقابلہ کرنے کے لیے یوکرین کو ڈرون اور آلات فراہم کیے ہیں۔

’اس کی وضاحت اس فرق سے کی جا سکتی ہے کہ ترکی اور مغرب اس جنگ کے نتائج کو کس طرح دیکھنا چاہتے ہیں، اور اس لیے یوکرین کو فراہم کیے جانے والے ہتھیاروں کا معیار اہم ہے۔‘

’مکمل طور پر شکست خوردہ روس ضروری نہیں کہ ترکی کے مفاد میں ہو، کیونکہ ایسا ہونے کی صورت میں انقرہ اپنے بیلنسنگ ایکٹ میں ایک اہم ملک کو کھو دے گا۔‘بشکریہ بی بی سی

 

یہ بھی دیکھیں

چین سی پیک منصوبوں میں مزید سرمایہ کاری کیوں نہیں کر رہا؟

(میاں عمران احمد) گل زیب خان گوادر کے رہائشی ہیں۔ وہ چھوٹے تاجر ہیں اور …