منگل , 27 ستمبر 2022

یوکرین تنازع: کیا ایشیا کی منڈیوں میں روسی تیل کی مانگ بڑھ رہی ہے؟

(شروتی مینن)

ایشیائی ممالک سستے تیل کو حاصل کرنے کے لیے روس کا رخ کر رہے ہیں کیونکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بہت بلند ہیں اور مغربی ممالک روسی توانائی پر اپنا انحصار کم کرنا چاہتے ہیں۔شپنگ ڈیٹا کے مطابق انڈیا اور چین بڑی مقدار میں روسی تیل خرید رہے ہیں۔

شنگھائی تعاون تنظیم کے آذربائیجان میں ہونے والے اجلاس میں روسی صدر پوتن انڈین وزیر اعظم نریندر مودی سے ملے اور کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت بڑھ رہی ہے۔

روسی تیل جا کہاں رہا ہے؟
اگرچہ یوکرین پر روسی قبضے کے بعد یورپی یونین کے لیے روسی درآمدات میں کمی آئی ہے لیکن اس کے باوجود یہ بلاک یومیہ 10 لاکھ بیرل سے بھی زیادہ مقدار میں تیل خرید رہا ہے۔

بہرحال یورپی یونین کی ممبر ریاستوں کی جانب سے کہا جا چکا ہے کہ وہ دسمبر تک سمندر سے آنے والی درآمدات پر پابندی عائد کر دیں گے۔ روس کا زیادہ تر تیل پائپ لائن کے بجائے سمندر سے جاتا ہے۔

چین اور انڈیا حال ہی میں روسی تیل کے بڑے خریدار بن گئے ہیں اور اب روس کی سمندر سے برآمدات میں نصف سے زیادہ حصہ ان دو ممالک کا ہے۔تیل کے حوالے سے تجزیہ کار شان کرونن کہتے ہیں، ایشیا کی جانب آنے والے روسی تیل کا بڑا حصہ انڈیا حاصل کرتا ہے۔

اگر مقدار کو دیکھیں تو رواں برس مارچ میں چین اور انڈیا کی مشترکہ درآمد یورپی یونین کے 27 ممالک سے زیادہ تھی۔اس سال کے شروع میں انڈیا کی جانب سے روسی تیل یورالز (ایک خام مرکب جو عام طور پر یورپ کو برآمد کیا جاتا ہے) کی خریداری میں تیزی سے اضافہ ہوا۔

شپنگ کی معلومات ظاہر کرتی ہیں کہ انڈیا کی جانب سے ایسٹ سائبیریا پیسفک اوشن (ای ایس پی او) نامی ایک اور روسی خام مرکب کی درآمدات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

چین مارچ سے یورالز اور ای ایس پی او دونوں کی بڑی مقدار خرید رہا ہے۔جولائی کے شروع میں لگاتار دوسرے مہینے ریکارڈ مقدار میں خریداری ہوئی ہے۔

اس کے برعکس جاپان واضح کر چکا ہے کہ وہ روسی تیل کی درآمدات کو مرحلہ وار بند کر دے گا اور روسی خام تیل کی جنوبی کوریا کو درآمدات میں بھی کمی آئی ہے۔ادھر میانمار کی فوج نے حال ہی میں کہا ہے کہ وہ روس سے درآمدات شروع کر رہا ہے۔

سری لنکا جو شدید ابتر مالی صورتحال کا سامنا کر رہا ہے، تین شپمنٹس کے ذریعے کم قیمت پر دستیاب روسی تیل سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔

سستے تیل کا بہاؤ ایشیا کی جانب
فروری میں یوکرین پر قبضہ کرنے کے بعد روس کے خام تیل یورالز کے خریدار کم تھے۔ کچھ غیر ملکی حکومتوں اور کمپنیوں نے اپنی توانائی کی برآمدات کو روکنے کا فیصلہ کیا، اور اس کی قیمت گرنا شروع ہو گئی۔

سال کے شروع میں ایک موقع پر روسی خام تیل برینٹ کروڈ سے 30 ڈالر فی بیرل سے زیادہ سستا تھا۔ اب یہ تقریباً 20 ڈالر فی بیرل سستا ہے۔

انڈیا 80 فیصد تیل برآمد کرتا ہے

جولائی میں، انڈیا کی روسی تیل کی درآمد میں قدرے کمی آئی کیونکہ سعودی عرب کے خام تیل کے مقابلے روسی تیل کی قیمت زیادہ تھی۔

انڈین حکومت نے روس سے اپنی خریداری کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے تیل وہاں سے حاصل کرنا ہے جہاں سے یہ سب سے سستا ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ انڈیا روسی تیل کی کتنی قیمت ادا کر رہا ہے۔

امریکی حکومت مانتی ہے کہ وہ ان خریداریوں کو نہیں روک سکتی کیونکہ روس کے ساتھ کاروبار کرنے والے ممالک پر کوئی ثانوی نوعیت کی پابندیاں نہیں ہیں۔

یہ بھی واضح نہیں ہے کہ آیا انڈیا یا چین جی سیون ممالک (برطانیہ، امریکہ، کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی اور جاپان) کی طرف سے روسی تیل کی قیمتوں کو محدود کرنے کے منصوبے پر عمل کریں گے تاکہ توانائی کی برآمدات سے ماسکو کی آمدنی کو کم کیا جا سکے ۔

ابھی حال ہی میں یوکرین کے وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ انڈیا کو جانے والے خام تیل کے ہر بیرل میں یوکرین کے خون کا اچھا خاصہ حصہ ہے۔

پابندیوں کا اثر
اگرچہ قیمت پرکشش ہے، لیکن انڈیا کی بڑی ریفائننگ کمپنیوں کو روسی بینکوں پر پابندیوں کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے۔دونوں سمتوں میں تجارت ایک مسئلہ ہے۔

انڈیا جن اختیارات پر غور کر رہا ہے ان میں سے ایک مقامی کرنسیوں پر مبنی لین دین کا نظام ہے جہاں روس، انڈیا کے برآمد کنندگان کو ڈالر یا یورو کے بجائے روبل میں ادائیگی کرتا ہے اور درآمدات کی ادائیگی روپے میں کی جاتی ہے۔

امریکہ نے اس پر اپنے تحفظات کو واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اس سے روبل کو سہارا مل سکتا ہے یا ڈالر پر مبنی مالیاتی نظام کمزور ہو سکتا ہے۔‘

یہ بھی بتایا گیا کہ روس انڈیا سے یو اے ای کی کرنسی میں ادائیگیاں مانگ رہا ہے، حالانکہ اس میں شامل تجارتی فرم نے اس رپورٹ کی تصدیق نہیں کی۔

اور چین کے سرکاری تیل کے ادارے بیرون ملک سے تیل کی خریداری کے لیے امریکی ڈالر کے بجائے چینی کرنسی کو تیزی سے استعمال کر رہے ہیں۔

چین اور انڈیا اور کہاں سے تیل لے رہے ہیں

انڈیا کی امریکہ سے خام تیل کی خریداری سنہ 2021 کے آخر میں اور رواں برس کے آخر میں بہت تیزی سے بڑھی، اور پھر دوبارہ بڑھنے کے بجائے یہ کم ہو گئی۔

اگرچہ انڈیا کی روس سے درآمدات بڑھی ہیں لیکن وہ مشرق وسطیٰ کے ممالک، خاص طور پر عراق اور سعودی عرب سے بھی بڑی مقدار میں تیل خریدتا ہے۔

چین مشرق وسطیٰ کے ساتھ ساتھ انگولا اور برازیل سے بھی تیل خریدنا جاری رکھے ہوئے ہے، حالانکہ جولائی میں روس مسلسل تیسرے مہینے چین کو تیل سپلائی کرنے والا تیسرا بڑا ملک رہا۔بشکریہ بی بی سی

 

یہ بھی دیکھیں

چین سی پیک منصوبوں میں مزید سرمایہ کاری کیوں نہیں کر رہا؟

(میاں عمران احمد) گل زیب خان گوادر کے رہائشی ہیں۔ وہ چھوٹے تاجر ہیں اور …