پیر , 3 اکتوبر 2022

سعودی ولی عہد کو ملکہ الزبتھ دوم کی آخری رسومات میں شرکت کی دعوت پر تنازع

(فرینک گارڈنر)

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان،2018 میں، جمال خاشقجی کے قتل سے قبل، ملکہ الزبتھ دوم سے ملاقات کرتے ہوئےبرطانیہ کی جانب سے سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کو ملکہ الزبتھ کی آخری رسومات میں شرکت کی دعوت دیے جانے پر انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں نے شدید احتجاج کیا ہے۔

واضح رہے کہ امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کی حال ہی میں ایک رپورٹ منظر عام پر لائی گئی تھی جس میں سعودی شہزادے کو 2018 میں استنبول کے سعودی قونصل خانے میں صحافی جمال خاشقجی کو قتل کرنے کے احکامات دینے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔

سعودی ولی عہد اور حکومت نے اس الزام کو رد کر دیا تھا لیکن مغربی دنیا میں ان کو ناپسند کیا جاتا ہے۔ اس وقت کے بعد سے محمد بن سلمان نے برطانیہ کا ایک بھی دورہ نہیں کیا۔

سعودی سفارت خانے کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ شہزادہ محمد بن سلمان لندن پہنچ رہے ہیں تاہم اب تک یہ واضح نہیں کہ وہ 19 تاریخ کو ملکہ الزبتھ کی آخری رسومات میں شرکت کریں گے یا نہیں۔

خدیجہ چنگیز، جو جمال خاشقجی کی منگیتر تھیں، نے کہا ہے کہ ’یہ دعوت نامہ ملکہ الزبتھ دوم کی یاد پر ایک دھبہ ہے۔‘انھوں نے کہا ہے کہ محمد بن سلمان کو لندن پہنچتے ہی گرفتار کر لینا چاہیے تاہم انھیں ایسا ہونے کا یقین نہیں ہے۔

اسلحے کی تجارت کی مخالفت کرنے والے پریشر گروپ ’کیمپین اگینسٹ آرمز ٹریڈ‘ نے سعودی عرب اور مشرق وسطی کے دیگر ممالک پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ملکہ الزبتھ کی آخری رسومات کو استعمال کرنا چاہتے ہیں اور انسانی حقوق کے اپنے ریکارڈ کو ’وائٹ واش‘ کرنا چاہتے ہیں۔

اس گروپ کے اندازے کے مطابق آٹھ سال قبل یمن میں تباہ کن جنگ کے آغاز سے اب تک برطانیہ نے سعودی عرب کی سربراہی میں بننے والے اتحاد کو 23 ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کا اسلحہ فروخت کیا ہے۔

2017 میں محمد بن سلمان کے ولی عہد بننے کے بعد سے ملک میں سیاسی آزادی، جو پہلے ہی کم تھی، مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔ حکومت پر تنقید کرنے والوں کو قید کی سزا سنائی جاتی ہے حتی کہ سوشل میڈیا پوسٹ کرنے پر بھی۔

دوسری جانب سعودی ولی عہد نے معاشرتی تبدیلی کے ایک بڑے منصوبے کا آغاز کر رکھا ہے جس کے تحت سینیما اور عوامی تفریح، جن پر سعودی عرب میں غیر اسلامی تصور ہونے کی وجہ سے پابندی عائد تھی، کھل رہے ہیں۔

محمد بن سلمان کے احکامات پر خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت ملی اور صحرائی ملک اب بین الاقوامی کھیلوں کے مقابلوں اور موسیقی کی تقریبات منعقد کروا رہا ہے، جس میں ڈی جے ڈیوڈ گویٹا کا ایک کنسرٹ بھی شامل ہے۔

انسانی حقوق کے ریکارڈ پر تنقید کے باوجود سعودی عرب برطانیہ کا قریبی اتحادی ہے اور مشرق وسطی میں اسے ایران کے خلاف دفاعی دیوار کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

سعودی عرب مغربی ہتھیار خریدتا ہے، ہزاروں غیر ملکیوں کو روزگار فراہم کرتا ہے، سالانہ حج منعقد کرواتا ہے اور تیل کی قیمت مستحکم رکھنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ یہ تمام نکات کسی حد تک یہ سمجھنے میں مدد دیتے ہیں کہ سعودی ولی عہد کے خلاف بین الاقوامی تنقید اس قدر کم کیوں ہے۔بشکریہ بی بی سی

 

یہ بھی دیکھیں

قانونِ حجاب کے خلاف ایران میں احتجاج

(تحریر: ڈاکٹر جواد حیدر ہاشمی) یہ بات تو واضح ہے کہ دین اسلام میں حجاب …