ہفتہ , 1 اکتوبر 2022

مغرب کی ضمانتوں کو ایران کیلئے اطمینان بخش ہونا ہوگا: صدر رئیسی کی الجزیرہ ٹی وی چینل سے انٹرویو

تہران: ایرانی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ مغرب کی ضمانتوں کو ایران کیلئے اطمینان بخش ہونا ہوگا اور آپ کو اسلامی جمہوریہ ایران کو ضمانتیں مانگنے کا حق دینا ہوگا کیونکہ ایران کیساتھ معاہدہ کرنے والے ممالک ایسے نہیں ہیں جو اپنے کیے گئے وعدوں پر عمل کریں؛ ہم امریکی فریق سے معادہ کرنے والے ہیں جو اپنے وعدوں کی خلاف ورزی کی ہے اور اس کا اعتراف بھی کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، سید "ابراہیم رئیسی” نے شنگھائی تعاون تنظیم کے 22 ویں سربراہی اجلاس میں حصہ لینے کیلئے اپنے دورہ ازبکستان کے موقع پر الجزیرہ ٹی وی چنیل سے ایک انٹرویو کی ہے جس کے تفصیلات درج ذیل ہیں؛

* ہمارے مذاکرات کا موضوع اور ویانا مذاکرات سے ہماری توقع، ایران کیخلاف ظالمانہ پابندیوں کی منسوخی ہے۔ اس معاہدے میں جس فریق نے اپنے وعدوں پر عمل کیا وہ اسلامی جمہوریہ ایران ہی تھا۔ عالمی جوہری ادارے نے تقریبا 15 دفعہ اس بات کا اعلان کیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے اپنے کیے گئے وعدوں کو پورا کیا ہے اور ایران کی جوہری سرگرمیاں پُرامن ہیں؛ یہ امریکی فریق تھی جو اس معاہدے سے علیحدہ ہوگئی اور یورپی ممالک نے بھی اپنے وعدوں پر عملی جامہ نہیں پہنایا۔

* ہم نے ویانا مذاکرات میں پابندیوں کی منسوخی کا تعاقب کیا اور اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی معاہدے میں ضمانتیں دینی ہوں گی۔ ہماری طریف سے ضمانتیں مانگن کی وجہ یہ ہے کہ مذاکراتی فریقین نے اپنے وعدوں کیخلاف ورزی کی اور یہ معمول کی بات ہے کہ ہم معاہدے کو یقینی بنانے کے خواہاں ہو۔ کیونکہ اس بات کا امکان ہے کہ وہ پھر سے وعدہ خلافی کریں۔

* پابندیوں کی منسوخی، سیف گارڈ معاہدے کے باقی مسائل کے حل کیساتھ ہونا ہوگا۔ اگر اسلامی جمہوریہ ایران کیخلاف سیاسی اور بے بنیاد دعوے بجائے خود رہیں تو معاہدے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ کیونکہ اس بات کا امکان ہے کہ معاہدے کے فریق، جیسا کہ انہوں نے مذاکرات کے دوران ہالمی جوہری ادارے کے بورڈ آف گورنرز کو ایک قرارداد پیش کی تھی، موجودہ اثر و رسوخ اور رابطوں کا غلط استعمال کرتے ہوئے دوبارہ مسائل پیدا کریں۔

* جس بات نے اس معاہدے میں رکاوٹ بنی ہے وہ امریکہ کیجانب سے وعدہ دینا ہے؛ ہم نے اپنے موقف کا اظہار کیا ہے اور ہماری مذاکراتی ٹیم ویسے ہی مذاکرات کی میز پر حاضر ہے اور ہم نے بارہا کہا ہے کہ ہم ایک اچھے اور پائیدار معاہدے پر پابند ہیں۔

* اسلامی جمہوریہ ایران نے اس بت کا مظاہرہ کیا ہے کہ پابندیاں، کسی بھی طرح ہمارے ملک کو روک نہیں سکتیں اور نہیں سکیں گی۔

* ایرانی جوہری صنعت پہلے مرحلے میں ہمارا جائز حق ہے اور دوسرے مرحلے میں ان کے صنعت، زارعت، طبی، آئل، گیس، پٹروکیمیکل اور بجلی کی پیداواری کے شعبوں میں بہت فائدے ہیں۔

* وہ جو جھوٹے دعوے کرتے ہیں کہ ان کو ایران کی پُرامن جوہری سرگرمیوں پر خدشات ہیں، کیوں ناجائز صہیونی ریاست جس کے پاس تباہ کن ہتھیار ہیں اور اپنے لیے کوئی حد نہیں سمجھتی ہے، کو روکنے میں کسی بھی کوشش نہیں کرتے ہیں؟

* ہم نے ایک بار امریکہ سے براہ راست مذاکرات کا تجربہ کیا ہے؛ جس سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوا اور وہ بس مزید پوانٹس لینے کے درپے ہیں۔ ہمیں امریکیوں سے براہ راست مذاکرات کا کوئی فائدہ نظر نہیں آتا اور نہ ہی ہمیں مذاکرات میں اپنی قوم کا فائدہ نظر آتا ہے۔

* جمہوریہ اسلامی ایران کے اپنے ارمان اور نظریات ہیں؛ ایران نے دنیا کو کہا ہے کہ ہم نہ ظلم کرتے ہیں اور نہ ہی ظلم کے سامنے ہتھیار ڈالتے ہیں اور نہ اپنے خلاف سامراجیت اور قبضے کو تسلیم کرتے ہیں۔ امریکہ، اسلامی انقلاب سے پہلے کی طرح ایران پر تسلط کرنا چاہتا ہے لیکن ایرانی قوم کسی بھی طرح امریکی تسلط میں نہیں آئے گی۔

* ہمارا سوال یہ ہے کہ کیوں مغربی ممالک، وہ گروہ (مجاہدین خلق) جس کو خود انہوں نے دہشتگرد کہا تھا اور واضح طور پر اعلان کیا تھا کہ اس گروہ کے ہاتھ 17 ہزار افراد کے خون سے رنگین ہیں، کی حمایت کرتے ہیں۔

* مغربیوں بالخصوص امریکیوں کی ایران سے دشمنی کی فہرست ایک طویل فہرست ہے جن میں سے ایک ایران کے مسافربردار طیارے کو مار گرانا ہے، ان کو اس سوال کا جواب دینا ہوگا کہ ایران کیخلاف ان کی بڑی دشمنی کی کی کیا وجہ ہے؟

* اگر امریکی، اپنی پالیسیوں میں تبدیلی کا دعوی کرتے ہیں تو اس کے اثرات ان کے سلوک میں نظر آنا ہوگا۔

* وہ اسلامی جمہوریہ ایران کو روکنے کے درپے تھے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا وہ اس بات کو عملی جامہ پہنا سکیں؟

* میں امریکہ کے ترجمان کے اس جملے کو دھراتا ہوں جنہوں نے باضاطہ طور پر اعلان کیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کیخلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی پالیسی بُری طرح شکست کھا چکی ہے۔ یہ ہماری بات نہیں بلکہ امریکی ترجمان اور عہدیداروں کی بات ہے۔ وہ ناکام ہوگئی پالیسی کو کیوں دھراتے ہیں؟ اور کیوں پھر سے پابندیاں عائد کرتے ہیں؟

* ہم اسلامی جمہوریہ ایران کیخلاف امریکیوں کی دشمنی کو برداشت نہیں کرسکتے۔ ہم روک نہیں گئے ہیں اور نہیں ہوں گے۔ان کے پاس بہت سارے میڈیا ہیں جو دن رات ایرا کیخلاف منفی پروپیگنڈے پھیلا رہے ہیں اور ان کا مقصد ایرانی قوم کو مایوسی کا شکار کرنا ہے۔ لیکن آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ہماری قوم کس طرح ہر سال مارچ جیسی تقریبات میں شرکت کر کے امریکہ اور یہ کرائے کے میڈیا امریکیوں اور اسلامی انقلاب کے دشمنوں کو ناکام بنا دیتے ہیں۔

* اگر امریکی اور مغربی ممالک کو اس دشمنی کے راستے کو جاری رکھنے کا فیصلہ ہے تو ان کو جاننا ہوگا کہ اس راستے کی کوئی منزل نہیں ہے اور وہ کامیاب نہیں ہوں گے۔

* ہم اپنے دوست اور برادر ملک عراق کی میزبانی میں سعودی عرب کیساتھ مذاکرات کرر ہے ہیں۔ اب تک پانچ دور کے مذاکرات منعقد ہوگئے ہیں۔ اگر اغیار مداخلت نہ کریں تو علاقائی مسائل کو اندروں خطے میں حل کرسکتے ہیں لہذا ہم علاقائی مذاکرات کی بڑی اہمیت دیتے ہیں اور ہمارا عقیدہ ہے کہ یہ مذاکرات خطے کے مفاد میں ہیں۔

* یہاں ضروری بات یمن کیخلاف ناکہ بندی کا جلد اختتام اور پائیدار جنگ بندی کا قیام ہے۔ ہم نے عراق کی تبدیلوں سے متعلق جیسے کہ قائد اسلامی انقلاب حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے؛ اعلان کرتے ہیں کہ ہم ایک مضبوط عراق کے خواہاں ہیں۔

* ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ عراقی عوام کو خود اپنے ملک کے مستقبل کا فیصلہ کرنا ہوگا اور ہمارا موقف شام سے متعلق بھی یہی ہے۔ امریکی شام میں کیا کرنا چاہتے ہیں؟ جس قوم پر آج اتنا ظلم ہوا ہے، امریکی کن اصولوں پر ان کا تیل لوٹ رہے ہیں؟

* تیرہویں حکومت کی خارچہ پالیسی میں توازن ہے۔ ہم تمام ممالک بالخصوص آزاد ممالک سے تعلقات برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ ہمارا چین سے 25 سالہ جامع تعاون منصوبہ ہے اور اس منصوبے کے نفاذ کے درپے ہیں۔ ہمارا چین سے رابطہ، دیگر بین الاقوامی تعلقات سے متاثر نہیں ہوگا۔

* تیرہویں حکومت کی بیناد علاقائی ممالک بالخصوص پڑوسی ممالک سے تعلقات کا فروغ ہے۔ درحقیقت ہم ایک متوازن نظریہ کو قبول کرتے ہیں۔اس سلسلے میں ہم پڑوسی ممالک سمیت مشرقی ممالک کے ساتھ اور ان مغربی ممالک کے ساتھ بات چیت کر سکتے ہیں جو ہمارے ساتھ تسلط اور سامراجیت کے جذبے سے پیش نہیں آنا چاہتے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

برطانیہ میں کینسر کے روزانہ 400 کینسر سامنے آنے لگے

لندن: ایک تجزیاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ برطانیہ میں روزانہ 400 سے زائد …