بدھ , 28 ستمبر 2022

شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس، ایران مستقل حصہ بن گیا

(سید عدیل زیدی)

شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے سربراہان مملکت کا 22واں اجلاس ازبکستان کے تاریخی شہر سمرقند میں منعقد ہوا، جس میں رکن ممالک کے سربراہان مملکت نے شرکت کی، عالمی بالخصوص خطہ کی صورتحال میں ہوتی تبدیلی کے تناظر میں یہ اجلاس شروع ہونے سے پہلے ہی خاصی اہمیت اختیار کرگیا تھا۔ اس اہم بیٹھک میں کئی اہم فیصلے کئے گئے، جن میں ایک اہم فیصلہ برادر اسلامی ملک جمہوری اسلامی ایران کو شنگھائی تعاون تنظیم کے مستقل رکن کی حیثیت دینا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے ایک بیان میں اس امر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے ازبکستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل کے ہمراہ تنظیم کے رکنیت کے میمورنڈم پر دستخط کردیئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنظیم کی مکمل رکنیت حاصل ہونے کے بعد دیگر رکن ممالک کیساتھ ایران کے تعلقات نئے مرحلے میں داخل ہوگئے ہیں جو کہ معیشت اور تجارت سمیت کئی شعبوں میں باہمی تعاون کے فروغ کا باعث بنے گا۔

تنظیم کے سربراہان مملکت کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے صدر آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی نے ایشیا کو عالمی تبدیلیوں کا مرکز قرار دیتے ہوئے شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ملکوں کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ پر زور دیا ہے۔ ایرانی صدر نے اس موقع پر امریکی پالیسیوں پر بھی کھل کر تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ بین الاقوامی نظام پر اپنی جابرانہ تسلط اور مرضی مسلط کرکے آزاد ممالک کو ناکام بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ یاد رہے کہ اس اجلاس میں بارہ ممالک کے سربراہوں نے شرکت کی اور علاقائی ترقی و پیشرفت، امن و سلامتی اور اقتصادی تعاون جیسے امور پر اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اجلاس میں تنظیم کی بیس سالہ کارکردگی کا بھی جائزہ لیا گیا اور علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر شنگھائی تعاون تنظیم کے پروگراموں پر غور کیا گیا۔ اجلاس کے دوران رکن ملکوں نے ایران کو تنظیم کا باقاعدہ رکن بنانے کی اسناد و دستاویزات پر بھی دستخط کئے۔

قبل ازیں اس اجلاس کی سائیڈ لائن پر ایران کے صدر آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی نے اپنے روسی اور چینی ہم منصبوں سمیت دیگر سربراہان مملکت سے ملاقاتیں بھی کیں، ان ملاقاتوں میں روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن اور چینی صدر شی جن پنگ کیساتھ ہونے والی ملاقات کو عالمی سطح پر خاصی اہمیت دی گئی۔ سید ابراہیم رئیسی کی روسی صدر کیساتھ ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ اقتصادی تعاون کے شعبے کا تفصیلی جائزہ لیا اور تعلقات بالخصوص بینکنگ، زمینی اور سمندری نقل و حمل، کسٹم اور توانائی کے شعبوں میں نمایاں پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ ملاقات میں پیوٹن نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کی مکمل رکنیت کے لئے جو کچھ ضروری ہوگا ہم کریں گے اور روس اس سلسلے میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گا، آخری رسمی کارروائیاں باقی ہیں۔ پیوٹن نے آیت اللہ رئیسی سے مزید کہا کہ تنظیم میں ہمارے شراکت داروں نے آپ کی درخواست کی حمایت کی ہے۔ پیوٹن نے دونوں ممالک کے اقتصادی حکام کے دوروں میں اضافے پر اطمینان کا اظہار کیا۔

روسی صدر کے مطابق روس اور ایران کے درمیان تجارت کے حجم میں گزشتہ سال 81 فیصد جبکہ رواں سال کے پہلے 5 مہینوں میں 30 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رہبر معظم انقلاب کی حمایت سے روس اور ایران کے بہت سے منصوبے آگے بڑھ رہے ہیں، ہم مستقبل میں بھی یہ تعاون چاہتے ہیں۔ ایران کے صدر ابراہیم رئیسی نے جواب میں کہا کہ ایران اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کی رکنیت ایک ایسی شراکت داری ہے جس سے نہ صرف ایران کو فائدہ ملے گا بلکہ یہ تنظیم کے تمام اراکین کے مفاد میں بھی ہے، ایران جوہری مذاکرات سے باہر نہیں آیا بلکہ یہ امریکہ اور یورپی ممالک تھے جو اپنے وعدوں سے مکر گئے۔ ایران کے صدر نے تہران ماسکو اقتصادی تعاون کو دونوں ملکوں اور خطے کے دیگر ممالک کے لئے مفید قرار دیا اور دوطرفہ اقتصادی، ٹرانزٹ اور بینکنگ تعاون کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا۔ صدر رئیسی نے نیٹو کی توسیع پسندانہ پالیسیوں کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ خطے کی جغرافیائی سیاست اور جیو پولیٹیکس میں کوئی بھی تبدیلی عدم استحکام کے پھیلاو کا باعث اور ناقابل قبول اقدام ہوگی۔

آیت اللہ ابراہیم رئیسی نے کہا کہ امریکہ یہ سمجھتا ہے کہ جس ملک پر پابندیاں عائد کی جائیں گی وہ حکومت اور قوم رک جائے گی، تاہم یہ اندازے کی غلطی ہے کیونکہ انہوں نے عمل میں اپنے آپ کو محدود کر رکھا ہے۔ علاوہ ازیں ایران کے صدر سید ابراہیم رئیسی نے اپنے چینی ہم منصب کیساتھ بھی اہم ملاقات کی، اس ملاقات میں شی جن پنگ نے شنگھائی تعاون تنظيم میں ایران کی مستقل رکنیت پر صدر رئیسی کو مبارکباد پیش کی۔ چینی صدر کا کہنا تھا کہ چین، ایران کو عنقریب ملنے والی شنگھائی تعاون تنظیم کی مستقل رکنیت پر مبارکباد پیش کرتا ہے اور اس پلیٹ فارم کے تحت ایران کے ساتھ اپنی ہم آہنگی اور دوطرفہ تعاون کو توسیع دینا چاہتا ہے۔ اس موقع پر شی جن پنگ نے تاکید کی کہ بیجنگ، اپنی قومی خودمختاری کی حفاظت پر مبنی تہران کے اقدامات کی مکمل حمایت کرتا ہے اور اندرونی معاملات میں عدم مداخلت و ترقی پذیر ممالک کے باہمی مشترکہ مفاد کی حفاظت کے اصولوں کی بقاء کے لئے اس کے ساتھ وسیع تعاون پر تیار ہے۔

شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان مملکت کے اس اجلاس میں ہونے والے اہم فیصلہ جات، ایران کی مستقل رکن کی حیثیت سمیت اہم ممالک کے سربراہان کی سائیڈ لائن پر ہونے والی اہم ملاقاتیں، یقینی طور عالمی سطح پر ’’طاقت کی منتقلی‘‘ کے عمل کو تقویت پہنچائیں گی، خاص طور پر روس، چین اور ایران کے مابین بڑھتا ہوا تعاون امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کیلئے پریشان کن ہے۔ امریکہ مخالف قوتوں کا معاشی اور دفاعی طور پر قدرت مند ہونا اور باہمی رابطوں اور تعلقات کا فروغ خطہ کی مشکلات میں کمی کا باعث ثابت ہوسکتا ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ سے یہ اہم بیٹھک خاص طور پر علاقائی سطح پر دنیا کی اکثریتی آبادی کو موثر فوائد پہنچانے کا موجب بن سکتی ہے، اس صورتحال میں پاکستان اور ترکیہ بھی برادر اسلامی ملک ایران کی پیروی کرتے ہوئے کسی بھی قسم کے امریکی دباو کو مسترد کرکے نہ صرف خطہ اور اپنے اپنے ممالک کے عوام بلکہ امت مسلمہ کیلئے انتہائی مثبت کردار ادا کرسکتے ہیں۔بشکریہ اسلام ٹائمز

یہ بھی دیکھیں

توانائی بحران کے خدشات

(زمرد نقوی) کہا جا رہا ہے کہ موجودہ یورپ کا توانائی بحران جو 52 برس …