بدھ , 5 اکتوبر 2022

عمران خان کی مارکیٹنگ بہتر یا سیاست؟

(حسنین جمال)

عمران خان ایک اچھے سیاست دان ہیں یا انہوں نے ہمیشہ آؤٹ آف دا باکس ’مارکیٹنگ‘ کے ذریعے اپنے تمام مقاصد حاصل کیے، فیصلہ آپ پر ہے۔

شوکت خانم کی تعمیر اور 92 کا ورلڈ کپ

عمران ٹائیگر والا پیلے رنگ کا بیج یاد ہے آپ کو؟ اس سے پہلے پاکستان کے جھنڈے یا اپنے سکول والے بیج کے علاوہ کسی پاکستانی بچے نے کبھی کسی کھلاڑی یا ہیرو کا بیج چھاتی پہ فخر سے سجانے کا سوچا تھا کیا؟ ان کی اپنی ’گلیمرس‘ شخصیت تو تھی ہی لیکن اس بیج جیسی چیزوں نے بھی ان کی کافی مدد کی۔

کہانی وہاں سے شروع ہوتی ہے۔

10 نومبر 1989 کو عمران خان نے قذافی سٹیڈیم لاہور میں شوکت خانم ہسپتال کے لیے پاکستان انڈیا میچ سے فنڈز اکٹھا کرنے کی ملک گیر اپیل کا آغاز کیا۔

شوکت خانم ہسپتال کی ویب سائٹ کے مطابق اس مہم کے دوران 29 لاکھ دو ہزار چھ سو روپے اکٹھے ہوئے۔اس کے بعد دنیا بھر میں انہوں نے 50 سے زیادہ کامیاب فنڈ ریزر پروگراموں کا سلسلہ شروع کیا۔

میلبورن میں 1992 ورلڈ کپ عمران خان کی کپتانی میں جیتا گیا جس کے بعد فنڈ ریزنگ کی کوششوں میں انہیں پہلے سے کئی گنا زیادہ مدد ملی۔

ورلڈ کپ کے بعد صرف چھ ہفتوں میں عمران خان اپنے ہسپتال کے لیے ڈیڑھ ملین پاؤنڈ جمع کرنے میں کامیاب ہوئے۔ اس سے پہلے اپنی پوری انعامی رقم یعنی 85,000 پاؤنڈ اس منصوبے کے لیے وہ اپنے ہسپتال کو عطیہ کر چکے تھے۔

1994 میں جب اس منصوبے کو مزید فنڈز کی ضرورت تھی تب عمران خان نے ایک عوامی رابطہ مہم شروع کی جس میں انہوں نے ملک کے 27 شہروں کا دورہ کیا، یہ عمرانز ٹائیگر والا بیج اس مہم کا حصہ تھا۔

انہی چندہ اکٹھا کرنے کی مہمات کے دوران غالباً عمران خان نے اپنی زندگی کا وہ تجربہ حاصل کیا جس میں کئی مارکیٹنگ کمپنیوں سے ان کا پالا پڑا اور انہیں یہ اندازہ ہوا کہ فنڈ ریزنگ ہو یا کوئی بھی مہم، روایتی طریقے سے ہٹ کر عوامی رابطہ میں آنا اور اپنے مقاصد حاصل کرنا دنیا بھر میں کیسے ہوتا ہے اور پاکستان کہاں موجود ہے۔

مارکیٹنگ مِکس کیا ہوتا ہے؟

مارکیٹنگ مِکس ایسے فارمولے کو کہتے ہیں کہ جس پر عمل کر کے کوئی بھی کمپنی صارفین کو اپنی پراڈکٹس بیچنے میں کامیاب ہوتی ہے۔

سیاست ہو یا جنگ، دونوں میں پی آر فرم سے کام لینا، اشتہاری مہم چلانا، مخالفین کے خلاف پراپیگینڈا کرنا، اپنا امیج بہتر بنانے کے لیے لابنگ اور مارکیٹنگ کرنا؛ یہ سب کچھ پہلی عالمی جنگ سے لے کر آج تک امریکہ یورپ ہر جگہ ہوتا نظر آیا ہے لیکن پاکستان کی روایتی سیاست میں عمران خان سے پہلے مارکیٹنگ محض مخالفین پر الزام لگانے کا نام تھا۔

پراجیکٹ مینیجر بمقابل فنکشنل مینیجر

مارکیٹنگ کی دنیا میں پراجیکٹ مینیجر وہ ہوتا ہے جو ساری ٹیم کو ساتھ لے کر چلتے ہوئے، سارے حالات و واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے، اپنے پراجیکٹ کے تمام مقاصد حاصل کرنے کی طرف بڑھتا ہے۔

ایک اور بندہ ہوتا ہے اسی دنیا میں جسے فنکشنل مینیجر کہا جاتا ہے۔ فنکشنل مینیجر اسی ٹیم کے اندر کسی بھی ٹارگٹ کو حاصل کرنے کے لیے وسائل کا انتظام کرتا ہے اور اصل میں کمپنی کے لیے ریڑھ کی ہڈی ہوتا ہے۔ جب تک وہ کمپنی کو ’اون‘ نہیں کرتا، مشکل فیصلوں کے لیے تیار نہیں ہوتا، نامناسب حالات میں ڈٹا نہیں رہتا، کمپنی کی جاندار اشتہار بازی نہیں کرتا، مثبت امیج نہیں بناتا، یہ فیصلہ نہیں کرتا کہ پراڈکٹ بیچنی کسے ہے اور ٹارگٹ آڈیئنس کو ڈائریکٹ مخاطب نہیں کرتا، اس وقت تک کمپنی کامیاب نہیں ہو سکتی۔ اسے یہ بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ مخالفین کہاں کھڑے ہیں اور ان کا ویک پوائنٹ کیا ہے؟ اسے یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ ’ہم بہترین ہیں، ہمارے لوگ بہترین ہیں، ہمارے پاس آپ کے مسئلوں کا حل ہے۔‘

فنکشنل مینیجر اور باقی تمام مینیجرز میں وسائل پر ہمیشہ مسئلہ رہتا ہے۔ فنکشنل مینیجر ٹیم کا ساتھی ہونے سے زیادہ ٹیم کے ساتھ مقابلے میں رہتا ہے۔

پراجیکٹ لیڈر جتنا مرضی سیانا ہو، یا تو اسے خود فنکشنل مینیجر بننا پڑتا ہے یا کوئی قابل فنکشنل مینیجر ملازم رکھنا پڑتا ہے۔تحریک انصاف میں عمران خان نے ہمیشہ ایک بھرپور فنکشنل مینجر کا کردار نبھایا۔

فنکشنل مینیجر کے مقاصد اور عمران خان

فنکشنل مینیجر کے سامنے ہمیشہ چند سوال ہوتے ہیں۔ عمران خان کو ذہن میں رکھتے ہوئے ان کے متوقع جواب دیکھیے اور پھر ان کے نعروں اور سلوگنز پر آتے ہیں۔

کمپنی کیا حاصل کرنا چاہتی ہے؟ (بلا شرکت غیرے اقتدار، جو ہر سیاسی جماعت کی خواہش ہوتی ہے)
مارکیٹ میں وہ خود کو کس جگہ کھڑا دیکھتے ہیں؟ (اچھے اور برے کا مقابلہ، ریاست مدینہ بمقابل عام نظام)
حکمت عملی ٹھیک ہے یا بدلنا پڑے گی؟ (وقتاً فوقتاً انہوں نے بدلی۔)
کمپنی کی مارکیٹنگ کے دوران مخالفین سے اپنا کون سا پہلو بہتر ثابت کرنا ہے؟ (ایماندار بمقابلہ ’کرپٹ‘)
ٹارگٹ آڈیئنس کون ہے؟ (نئی نسل، پاکستان دنیا کا پانچواں نوجوان آبادی کا حامل ملک ہے، نوجوانوں کی تعداد 63 فیصد ہے۔)
ذرائع ابلاغ کون سے استعمال کرنے ہیں؟ (یوٹیوب، ٹوئٹر، فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک، انٹرنیٹ یا جو کچھ نوجوان استعمال کرتے ہیں۔)

عمران خان کا مارکیٹنگ مکس

اب عمران خان کا مارکیٹنگ مکس ان الفاظ کی روشنی میں دیکھتے ہیں جنہیں وہ پچھلے دس سال سے استعمال کر رہے ہیں اور جو کسی بھی ملک کی نئی نسل کو ہمیشہ سے پسند رہے ہیں۔

جنگی حکمت عملی والے جوشیلے الفاظ
انقلاب، تبدیلی، مخالفین کی ’کرپشن‘ پر زور، آزادی، حقیقی آزادی، جدوجہد، ملک کے لیے جان قربان کرنے کا بیان، یزید اور حسینیت کا استعارہ، سونامی، بلین ٹری سونامی۔
یہ اور ان جیسے بہت سے الفاظ عمران خان نے اپنی ہر دوسری تقریر میں استعمال کیے جو بنیادی طور پہ طالب علموں اور نوجوانوں کے لیے ہر دور میں شدید پسندیدہ رہے ہیں۔ انقلاب اور نظام بدلنے کے نعرے آج سے نہیں پچھلی تین صدی سے نوجوانوں کے پسندیدہ ہیں۔

مذہبی معنی یا کوئی خاص اشارہ رکھنے والے الفاظ
حرام حلال، ریاست مدینہ، اسلامی نظام، لباس کا اسلامی تصور، ریپ پر ان کے خیالات، سنت مبارکہ کی مثالیں، معرکہ کربلا کی مثالیں
چونکہ پاکستان میں نوجوانوں کی غالب اکثریت مسلمان اور مذہبی ذہن والی ہے اور یہ حکمت عملی ان سے پہلے کامیابی سے چل چکی تھی اس لیے حسب ضرورت انہوں نے ’جہاد‘ ٹائپ کے الفاظ بھی استعمال کیے۔

خودی کا بیانیہ
غلامی، بھکاری، یوٹرن، میرٹ، کامیابی، امریکی سازش، مسٹر ایکس، وائے، زیڈ کی مثالیں، اینٹی آئی ایم ایف۔
یہ سب مثالیں ایگریسیو یا جارحانہ مارکیٹنگ کہلاتی ہیں۔ یہ مارکیٹنگ ایک ایسی حکمت عملی ہے جو عوام سے ردعمل پیدا کروانے کے لیے اشتعال انگیز حربے استعمال کرتی ہے۔ جب آپ کا ٹارگٹ آڈیئنس نوجوان ہیں تو اس سے بہتر کوئی حکمت عملی نہیں ہو سکتی۔

چونکہ اتنے بڑے پیمانے پر نوجوانوں کو آج تک عمران خان نے ہی فوکس کیا اس لیے یہ پری-ایمپٹیو سٹریٹیجی بھی کہلائے گی کہ جس میں ایک کمپنی پہلی بار صارفین میں سے کسی ایک طبقے کو فوکس کرتی ہے اور پھر اسی کی مدد سے پوری مارکیٹ پہ فنکشنل مینیجر کامیابی سے غلبہ پا لیتا ہے۔

’سازش‘ ڈھونڈنا اور پھر اپنی بات پر قائم رہنے کا بیانیہ
پینتیس پنکچر، حساب مانگنا، احتساب، امریکی سازش۔
یہ سب اور ان جیسی کئی مثالیں کانسپیریسی تھیوری کی مارکیٹنگ میں آتی ہیں۔ امریکی صحافی گیری ویس (Gary Weiss) کے مطابق ان سے بہرحال ’فکری کینسر‘ جنم لیتا ہے۔
جس طرح اکثر عقائد میں چند اجتماعی عبادات کا تصور ہوتا ہے اور وہ روزانہ کی بنیاد پر ہوتی ہیں اور ان کا مقصد بنیادی پیغام کو نہ بھلانا ہوتا ہے، اسی طرح ماریکٹنگ میں یہ حکمت عملی ’ہیمرنگ‘ کہلاتی ہے۔
عمران خان نے جس سازش کا بھی بیانیہ قائم کیا انہوں نے اس کو بار بار اتنی شدت سے دہرایا کہ وہ سب باتیں ان کے ماننے والوں کے دماغوں میں بیٹھ گئیں۔ جو سٹریٹیجی بطور فنکشنل مینیجر ان کی رہی اسے ’وژوئل ہیمرنگ‘ کہتے ہیں۔ مسلسل صارفین کے سامنے رہو اور اپنی بات اتنی زیادہ دہراؤ کہ لوگوں کے دماغوں پہ نقش ہو جائے۔
برصغیر میں چائے کی مارکیٹنگ یا دنیا بھر میں کولا مشروبات۔۔۔ اسی مارکیٹنگ کی مثالیں ہیں۔

مخالفین کو مارکیٹ سے آؤٹ کرنا
کرپٹ، چور، ڈاکو، ڈاکوؤں کا گلدستہ، لٹیرے، ڈیزل، چھانگا مانگا کی سیاست، لفافہ صحافی، بوٹ پالش، مفرور، میر جعفر میر صادق، سلیکٹرز، نیوٹرل ایمپائر، ان سوئنگ یارکر، آرمی چیف کی تقرری پر پبلک بیانات۔
جارحانہ مسابقتی حکمت عملی مارکیٹنگ کا ایک طریقہ ہے جو فنکشنل مینیجر وقت کی مناسبت سے استعمال کرتا ہے۔ اس میں ایک قسم مخالفین پر براہ راست حملے کی ہوتی ہے۔
اس میں حریف کی خدمات کا موازنہ اپنے ساتھ کیا جاتا ہے، اپنی خصوصیات اس طرح گنوائی جاتی ہیں کہ دوسرے بالکل مقابلے ہی کے نہ لگیں۔

عام آدمی کی دلچسپی اور اس کی سوچ کو دیکھتے ہوئے ہم آہنگی
ورلڈ کپ 92، کرکٹ کی اصطلاحیں، لنگرخانے، انڈے مرغی بچے پلان، جلسوں میں گانے، حکومت میں آتے ہی گاڑیوں کی فروخت، اعلیٰ ایوانوں کو یونیورسٹیوں میں بدلنے کا ارادہ۔
یہ مثالیں مارکیٹنگ کی بجائے فنکشنل مینیجر کی اپنی ترجیحات ہیں۔ جس وقت اسے اختیار ملا، اس نے اپنی سابق سٹریٹیجیز کی روشنی میں چند فوری اقدامات کیے جو بالکل ایسے تھے کہ جن کا اس نے اپنے صارفین سے وعدہ کیا تھا۔

ذاتی خصوصیات

شلوار قمیص، تسبیح، گورا رنگ، متناسب جسم ، پاور، کرنٹ، انرجی، سوشل میڈیا پر گرفت، ڈیجیٹل میڈیا کی سوجھ بوجھ، پش اپس، معافی نہ مانگنا (اینگری ینگ مین)، یوٹیوبرز کو اہمیت دینا، ’میرے نوجوانو‘ کہہ کر خطاب کرنا، قائد اعظم والی ٹوپی، سوراخ دار کپڑے، کہیں بھی جانماز بچھا کے نماز پڑھنے کی تصویریں، پردہ دار زوجہ، یوتھ پر خصوصی توجہ۔

یہ سب وہ خوبیاں ہیں جو آنکھیں بند کریں تو آپ کو اپنے کسی بھی آئیڈیل میں نظر آئیں گی۔ نوجوان ظاہری حلیے پر بہت توجہ دیتے ہیں۔ اسے مارکیٹنگ کی زبان میں ’بائرز پرسونا‘ کہتے ہیں۔ وہ خوبیاں جو صارفین کو حتمی طور پر چاہیے ہوں۔

عمران خان کے چند نعرے

اب اوپر دی گئی پانچ قسموں کی روشنی میں عمران خان کے مشہور نعروں یا سلوگنز کا جائزہ لیتے ہیں۔

فیصلہ ایمان دا، ووٹ عمران دا (مذہبی معنی یا کوئی خاص اشارہ رکھنے والے الفاظ)
فوج بھی میری وطن بھی میرا (مخالفین کو مارکیٹ سے آؤٹ کرنا، عام آدمی کی دلچسپی)
دو نہیں ایک پاکستان (خودی کا بیانیہ)
تبدیلی آ نہیں رہی، تبدیلی آ گئی ہے (جنگی حکمت عملی والے جوشیلے الفاظ)
تب بنایا تھا پاکستان، اب بچائیں گے پاکستان (جنگی حکمت عملی والے جوشیلے الفاظ)
جب لیڈر عوامی پھر کیسی غلامی (خودی کا بیانیہ )
نواز زرداری بھائی بھائی ملک بچائے گی پی ٹی آئی (’سازش‘ ڈھونڈنا اور پھر اپنی بات پر قائم رہنے کا بیانیہ)
گلی گلی میں شور ہے سارا ٹبر چور ہے (سازش ڈھونڈنا، قائم رہنا، مخالفین کو آؤٹ کرنا)
نہیں کرے گی کسی کو معاف، تحریک انصاف تحریک انصاف (’سازش‘ ڈھونڈنا اور پھر اپنی بات پر قائم رہنے کا بیانیہ)
اب نہیں تو کب، ہم نہیں تو کون؟ (عام آدمی کی دلچسپی)
گو نواز گو (قائم رہنا، مخالفین کو آؤٹ کرنا)
لاسٹ ہوپ عمران خان (مخالفین کو مارکیٹ سے آؤٹ کرنا)
صاف چلی شفاف چلی، تحریک انصاف چلی (اپنی بات پر قائم رہنے کا بیانیہ)
روک سکو تو روک لو تبدیلی آئی رے (جنگی حکمت عملی والے جوشیلے الفاظ)
چوکیدار چور ہے (’سازش‘ ڈھونڈنا اور پھر اپنی بات پر قائم رہنے کا بیانیہ)
میری ضد عمران خان (جنگی حکمت عملی والے جوشیلے الفاظ)
ڈٹ کے کھڑا ہے کپتان (جنگی حکمت عملی والے جوشیلے الفاظ)
عمران خان کا ٹارگٹ آڈیئنس (نوجوان) اور مارکیٹنگ کے ذرائع

نوجوانوں کو مخاطب کرنے کے لیے جو بہترین ذرائع ابلاغ ممکن تھے انہیں عمران خان نے استعمال کیا۔ ترجیہاتی لحاظ سے ترتیب دیکھیے؛

یوٹیوب
ٹوئٹر
انسٹاگرام
فیس بک
ٹک ٹاک
موبائل میسج
ٹی وی
اخبار
سپانسرشپ
آن لائن ڈسپلے
پوڈ کاسٹ
پیڈ اشتہار
جو ذرائع کم استعمال ہوئے:

ای میل
سینیئر کالم نگار
ریڈیو
اب، عمران خان ایک اچھے سیاست دان ہیں یا انہوں نے ہمیشہ آؤٹ آف دا باکس مارکیٹنگ کے ذریعے اپنے تمام مقاصد حاصل کیے؛ فیصلہ آپ پر ہے!بشکریہ دی انڈپینڈنٹ

 

یہ بھی دیکھیں

پاکستان، پاکستان ہے !

(محمد مہدی) بین الاقوامی تعلقات میں مفادات کا حصول صرف اس وقت ہی ممکن ہے …