منگل , 27 ستمبر 2022

‘بات معیشت سے شروع ہوگی اور انتخابات تک جائے گی’

(عظیم چوہدری)

پاکستان کے موجودہ وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے 2013ء کے انتخابات کے وقت سپریم کورٹ آف پاکستان میں ایک آئینی پٹیشن دائر کی تھی، جس میں استدعا کی گئی تھی کہ نگران حکومت کے زمانے میں کی گئی تعیناتیاں، بھرتیاں، پوسٹنگ اور ٹرانسفر کے بارے میں فیصلہ کیا جائے، یعنی وہ کیا اور کتنے اہم فیصلے کرسکتی ہے اور اس کے اختیارات میں کیا کچھ موجود ہے۔

2013ء کی 30 نمبر آئینی پٹیشن کو 3 رکنی فاضل بینچ نے سنا اور فیصلہ کیا تھا۔ یہ بینچ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری، جناب جسٹس اعجاز چوہدری اور جسٹس گلزار احمد جو بعد میں چیف جسٹس بھی بنے، پر مشتمل تھا۔

اس فیصلے کے صفحہ نمبر 41 پر تحریر ہے کہ نگران کابینہ اور وزیرِاعظم کی تعیناتی آئین کی دفعہ 224 (1) اور (2) یا 244 اے کے تحت ہوتی ہے، اور یہ حکومت صرف معمول کے ضروری امور کے حل کا اختیار رکھتی ہے۔ مزید وضاحت یوں کی گئی کہ وہ ریاستی مشینری، ذرائع، افرادی قوت، وسائل استعمال کرسکتی ہے اور قدرتی آفات کے آنے، جنگ کے شروع ہونے پر ناگہانی آفت کے وقوع پذیر ہونے یا دہشتگردی کے خلاف اقدامات کرنے کی مجاز ہوگی تاہم بڑے پالیسی فیصلے، ملازمتوں کے دینے، افسران کی تبدیلی وہ نہیں کرسکے گی اور ایسے تمام بڑے فیصلے عوام کے منتخب نمائندوں پر مشتمل آنے والی حکومت ہی کرے گی۔

فیصلے کے مطابق دستوری دفعات کے تحت ریاست اور اس کے معاملات عوام کے منتخب نمائندے ہی چلاتے ہیں اور چونکہ نگران حکومت کے پاس نہ تو عوام کا مینڈیٹ ہوتا ہے اور نہ ہی عوام کی حمایت حاصل ہوتی ہے اس لیے وہ مستقل پالیسی یا ایسی پالیسی اور فیصلہ کرنے سے اپنے آپ کو دُور ہی رکھے جن کے نتائج دُور رس ہوں اور مستقبل پر اثرانداز ہوسکیں۔

اس حوالے سے ایک فیصلہ بھی یاد آگیا۔ لیفٹننٹ جرنل سید واجد حسین کو چیئرمین ہیوی انڈسٹری ٹیکسلا لگانے کا فیصلہ ہوا تھا، مگر عملدرآمد روک دیا گیا۔ یہاں یہ بات یاد رہے کہ انہیں تعینات کرنے کا فیصلہ تو منتخب حکومت نے ہی کیا تھا، مگر نوٹیفکیشن نگران حکومت نے جاری کیا تھا۔

فیصلے میں لیفٹننٹ جنرل واجد حسین سے متعلق معاملہ
اس فیصلے میں نئی ملازمتیں دینے، پوسٹنگ اور ٹرانسفر پر بھی ان کے غیرقانونی ہونے بلکہ نہ ہی ہونے پر مہر تصدیق ثبت ہوئی تھی۔

یہ بات تو سامنے آچکی ہے کہ حکومت عمران خان کی ناکامیوں اور غیر مؤثر حکومتی فیصلوں کا بوجھ اٹھا کر خود کو غیر مقبول کرچکی ہے اور کیا یہ اس لیے کیا کہ وہ عمران خان کا اقتدار طویل کریں اور خود جیلوں میں بند رہیں، یقیناً نہیں۔

پھر عمران خان اپوزیشن کو جس دیوار کے ساتھ لگا چکے تھے خود اس کے قریب بھی نہیں جانا چاہتے اور خود کو ‘خطرناک’ قرار دے رہے ہیں۔ لغت کے مطابق خطرناک کی تعریف یوں کی جاتی ہے کہ ‘خوفناک، ڈراؤنا، جس سے نقصان کا ڈر ہو’۔ اب ایسا کون ہے جو کسی خطرناک کو یہ موقع دے کہ وہ خطرناک بن کر نقصان پہنچائے۔

یہ بات بھی یقین کی حد تک کہی جارہی ہے کہ جب عمران خان کو یہ باور کروایا گیا کہ ان کو خطرناک نہ بننے دیا جائے گا اور ایسا کرنے کے طریقے آزمودہ ہیں تو ان کو یہ بات زیادہ پسند نہیں آئی، نتیجہ یہ نکلا کہ انہوں نے نئے آرمی چیف کی تعیناتی مؤخر کرنے، مذاکرات کرنے، تعاون کرنے وغیرہ کے الفاظ میں اپنی پناہ گاہ کو ڈھونڈ لیا۔

اب فوری انتخابات کی بات، انتخابات کی تاریخ پر آگئی ہے۔ سیاسی رہنما اپنی فیس سیونگ تو چاہتے ہیں مگر خان صاحب کیونکر قومی اسمبلی، خیبر پختونخوا اور پنجاب کے انتخابات مرحلہ وار کروانے کو پسند نہیں کررہے ہیں؟

انہیں چاہیے کہ تمام ارکانِ قومی اسمبلی کے ساتھ اسپیکر کی موجودگی میں ایک ایک کرکے قومی اسمبلی کے اجلاس میں استعفیٰ کا اعلان کریں۔ اسی روز چوہدری پرویز الٰہی پنجاب اسمبلی توڑنے کا اعلان کریں اور ساتھ ہی پختونخوا کی حکومت اور اسمبلی کو بھی مستعفی ہونے دیں، اگر ایسا ہوجائے تو بھلا کون انتخابات کو روک سکے گا اور اگر بقول صدرِ مملکت کے ‘کچھ لو اور کچھ دو’ کے اصول پر کچھ بات ہوسکتی ہے تو پھر آئین سے ماورا ہونے کی ضرورت کیوں ہے؟

شہباز شریف اپنے ساتھیوں سمیت دیوار کے ساتھ کیوں لگنے کو تیار ہوں گے؟ وزیرِاعظم کا بھائی ملک میں آنے کے لیے بے قرار ہے مگر آ نہیں رہا آخر کوئی تو وجہ ہوگی اور کسی نے وزیرِاعظم اور ان کے ساتھیوں اور حلیفوں کو دیوار کے ساتھ لگایا تو کیا مزاج یونہی رہے گا یا عمران خان اور نواز شریف ماضی کی تقریروں کی طرف لوٹ جائیں گے؟

ہمارے کچھ دانشور دوست کمانڈر ان چیف یحییٰ خان کے بعد گل حسن کے کمانڈر ان چیف بننے کے واقعات کی کڑیاں ملاتے ہوئے عبد الحمید خان کا ذکر بھی کرنا شروع ہوگئے ہیں۔ مگر وہ بھول رہے ہیں کہ نہ تو آج 1971ء کا دسمبر ہے اور نہ ہی کوئی سازش کامیاب ہوگی۔

پاکستان میں نہ اب مکتی باہنی گھس سکتی ہے اور نہ کوئی تین حصے کرنے کی جرأت رکھتا ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ حالات قابو سے باہر ہوجائیں گے تو کیا کرنے والا بری الذمہ ہوگا۔ آج کا کیا اور بویا ہوا کل سامنے ہوگا۔ نفرت کے بیج بوکر محبت کے پھول حاصل نہیں کیے جاسکتے۔

درست ہے کہ معاشی صورتحال ابتر ہے اس کو درست کرنے، فیس سیونگ اور وقت حاصل کرنے کے لیے معاشی معاملات پر یکسوئی کے ساتھ اور باہمی اتفاق کے ساتھ کام کرکے مشکلات کو کم کیا جاسکے گا اور مذاکرات کی میز پر معیشت کی بات ہو تو سیاست اور انتخابات کی بات از خود آجائے گی۔ مگر شرط باندھ کر، ڈرا کر، دھمکی دے کر، خوف اور بدامنی کی بات کرکے مذاکرات شروع نہیں ہوسکیں گے۔

ماحول سازگار کرنا پڑے گا اور افتخار چوہدری اور دوسرے 2 ججوں کا 2013ء میں کیا گیا فیصلہ ضرور پڑھ لیں، پھر یوٹرن کی ضرورت بھی نہیں ہوگی اور اس مقدمے کا درخواست گزار تو آپ کی ٹیم کے ساتھ ملنے کو بھی تیار ہوسکتا ہے، آخر وہ ایک سیاسی گھرانے کا فرزند ہے اور قوم کا اس پر حق بھی ہے۔

پاکستان کے عوام کا حق ہے کہ وہ خوشحال ہوں، عزت دار ہو، مقروض نہ ہوں، تعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہوں۔ سیاسی صورتحال کے نتیجے میں ہمارے پڑھے لکھے نوجوان بیرونِ ملک جاکر دوسرے ملکوں کی خوشحالی کے کام کررہے ہیں، یہ لمحہ فکریہ ہونا چاہیے اور اس کے ذمہ دار اس ملک کے حکمران اور اشرافیہ ہی تو ہیں۔بشکریہ ڈان نیوز

یہ بھی دیکھیں

چین سی پیک منصوبوں میں مزید سرمایہ کاری کیوں نہیں کر رہا؟

(میاں عمران احمد) گل زیب خان گوادر کے رہائشی ہیں۔ وہ چھوٹے تاجر ہیں اور …