منگل , 27 ستمبر 2022

بے زبان جو ڈوب گئے

(رضا ہمدانی)

زندگی کے لیے پانی ضروری ہے لیکن یہی پانی کئی بار تباہی کی وجہ بنتا ہے۔ قدرتی آفات میں سب سے عام آفت سیلاب ہے اور کئی بار یہ قدرتی آفت تواتر سے آتی ہے اور ہر بار گذشتہ بار کے مقابلے میں زیادہ نقصان پہنچاتی ہے۔

ہم جب بھی سیلاب کی بات کرتے ہیں تو انسانی جانوں کی بات ہی کرتے ہیں۔ کیسے سیلاب سے مالی نقصان ہوا، کتنے افراد جان گنوا بیٹھے، کیسے ان کے کاروبار کو نقصان پہنچا، کیسے فصلیں تباہ ہوئی ہیں وغیرہ۔

جیسے آج کل پاکستان میں ہو رہا ہے۔ پاکستان کا ایک تہائی حصہ زیر آب ہے جس کے نتیجے میں ڈیڑھ ہزار سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں۔

موسمی تبدیلی کے اثرات نمایاں ہونے میں سالوں لگ جاتے ہیں اور ایک بار جب یہ اثرات نمایاں ہونے شروع ہو جائیں تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ دیر ہو چکی۔

یہ موسمی تبدیلی ہی تو ہے جو ہم پاکستان میں دیکھ رہے ہیں۔ سیلاب زدہ علاقوں میں مون سون میں اب تک 1100 ملی میٹر بارش ہو چکی ہے جس کے باعث سندھ کے زیادہ تر اضلاع ڈوب چکے ہیں۔

صرف اگست میں 166 ملی میٹر بارش ہوئی جو اوسط بارش سے 241 فیصد زیادہ ہے جبکہ اس مون سون میں سندھ میں اوسط بارش سے 784 فیصد زیادہ ہوئی۔

بلوچستان میں زمینی راستے منقطع ہو گئے اور امداد ہیلی کاپٹروں سے پہنچائی جا رہی ہے لیکن موسم کی خرابی کے باعث ہیلی کاپٹر بھی واپس آ جاتے ہیں۔

پاکستان کی تاریخ میں 2010 کے سیلاب ہمیشہ یاد رہیں گے، لیکن اس بار کہا جا رہا ہے کہ بارشیں 2010 کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوئیں۔

12 سال قبل سیلاب سے تقریباً دو کروڑ افراد متاثر ہوئے تھے لیکن ان بارشوں میں تین کروڑ لوگوں کے سروں پر چھت نہیں، ہزاروں لوگوں کے پاس کھانے کے لیے کچھ نہیں۔

قدرتی آفات نہ صرف انفراسٹرکچر کو تباہ کرتی ہیں بلکہ معیشت کو بڑا نقصان پہنچاتی ہیں۔

قدرتی آفات کے باعث لوگوں کی معاش متاثر ہوتی ہے، عام سروسز جو لوگوں کو دستیاب ہوتی ہیں وہ متاثر ہوتی ہیں۔

قدرتی آفات میں سیلاب کے باعث اموات سب سے زیادہ ہوتی ہیں اور بین الاقوامی اعداد و شمار کے مطابق 20ویں صدی میں سیلابوں سے 68 لاکھ افراد اپنی جان سے گئے۔

لیکن ہم نے کبھی جنگلی حیات کے بارے میں سوچا؟ کیا ہم نے جانوروں کے بارے میں سوچا کہ کیسے سیلاب جیسی قدرتی آفت ان کو متاثر کرتی ہے۔

جانور اپنا بچاؤ نہیں کر سکتے اور خاص طور پر سیلاب جیسی قدرتی آفت سے۔

اچانک آنے والے سیلاب سے جہاں انسان کا اپنا بچاؤ مشکل ہو جاتا ہے تو جنگلی حیات کی کیا بات کرنی ہوئی۔

اقوام متحدہ کے مطابق رواں سال جون سے لے کر اب تک لوگوں کے سات لاکھ جانور مرے ہیں۔

کیا آپ کو معلوم ہے یا یاد ہے کہ 2010 کے سیلاب میں اچانک سیلابی ریلے کے آنے کی وجہ سے درائے سندھ اور دریائے کابل جہاں ملتے ہیں اس کے قریب واقع مشہور کند پارک میں موجود جانور بہہ گئے۔

اسلام آباد سے محض 100 کلومیٹر کے فیصلے پر سیلابی ریلا اتنا تیز اور اچانک آیا کہ پارک کی انتظامیہ اور خیبر پختونخوا کی انتظامیہ ان کو بچانے کے لیے کچھ بھی نہ کر سکی۔

اس سیلابی ریلے میں 100 کے قریب جانور جن میں دو تیندوے، 70 ہرن اور 24 ریچھ کے علاوہ مور، بطخیں اور کچھوے شامل تھے۔

انتظامیہ کا کہنا تھا کہ سیلاب اتنا ہولناک اور اتنے بڑے پیمانے پر آئے گا اس کا کسی کو ادراک نہ تھا اور اسی لیے تیاری بھی نہیں تھی اور نہ بچایا جا سکا۔

یہ تمام جانور اپنے اپنے پنجروں میں قید ہی ڈوب کر مر گئے۔ جنگلی حیات پر پاکستان جیسے ملک میں کم ہی توجہ دی جاتی ہے جہاں سیاست اور معیشت پر زیادہ بات کی جاتی ہے۔

اگر ایک طرف ماحولیاتی تبدیلی کے باعث سیلابوں میں اضافہ ہوتا تو دوسری جانب وزارت برائے ماحولیاتی تبدیلی کی تازہ رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کے باعث گلیشیئرز کے حجم میں کمی واقع ہو رہی ہے جس کے باعث دریائے سندھ کے پانی کے بہاؤ میں بھی تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے۔

یہ بات بھی دیکھنے میں آئی ہے کہ چند سال پانی کا بہاؤ زیادہ ہے اور پھر چند سال کم۔

گلیشیئرز کی جھیلوں کے بننے اور پھٹنے کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے اور شدید موسمی واقعات میں نہ صرف اضافہ ہو رہا ہے بلکہ ان میں شدت آ رہی ہے۔

اسی وجہ سے پانی کی تقسیم میں مشکلات پیش آئیں گی اور پانی کی مزید قلت ہو گی۔

گلیشیئرز کے پگھلنے کے باعث شمالی پاکستان میں برفانی تیندووں کے آماج گاہوں میں کمی واقع ہو رہی ہے۔

ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ اگلے چند سالوں میں ہمالیہ میں برفانی تیندووں کی آماج گاہوں میں 30 فیصد تک کمی واقع ہو سکتی ہے۔

موسمی تبدیلی نے گلیشیئر جھیل کے پھٹنے کے واقعات میں بہت حد تک اضافہ کر دیا ہے اور ان گلیشیئر جھیلوں کی وجہ سے پاکستان میں 70 لاکھ افراد کو خطرہ لاحق ہے۔

قطبی علاقوں کو چھوڑ کر پاکستان میں دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ گلیشیئرز ہیں جن کی تعداد سات ہزار ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارے برائے ترقیاتی پروگرام کے ایک اندازے کے مطابق کوہ ہندو کش اور کوہ ہمالیہ میں تین ہزار گلیشیئر جھیلیں بنیں جن میں سے 33 جھیلیں ایسی ہیں جن سے شدید خطرہ لاحق ہے۔

ایک تازہ تحقیق میں کہا گیا کہ قراقرم گلیشیئرز کی گذشتہ 40 سال کی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ بڑے ہوتے ہوئے گلیشیئرز کا گلیشیئر جھیل میں بدل جانے کے امکانات زیادہ ہیں۔

اگرچہ یہ جھیلیں تازہ پانی کا ایک اہم ذریعہ ہیں لیکن جب ان کا بند ٹوٹتا ہے تو بہت تباہی مچاتی ہیں۔

گذشتہ نصف صدی میں اس علاقے میں گلیشیئر جھیلوں کے واقعات کے کئی واقعات ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔

ایک تازہ واقعے میں شسپر گلیشیئر کی وجہ سے پاکستان اور چین کو ملانے والی واحد سڑک قراقرم کو نقصان پہنچا اور یہ ہائی وے کئی روز تک بند رہی۔بشکریہ دی انڈپینڈنٹ

 

یہ بھی دیکھیں

توانائی بحران کے خدشات

(زمرد نقوی) کہا جا رہا ہے کہ موجودہ یورپ کا توانائی بحران جو 52 برس …