منگل , 27 ستمبر 2022

گندم کی سرکاری قیمت

حالیہ دنوں میں وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کے زیر صدارت اجلاس میں فلور ملوں کو سرکاری طور پر فروخت کی جانے والی گندم کی قیمت میں 535روپے فی من کا اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد 20 کلو آٹے کے تھیلے کی سرکاری قیمت 1360روپے بنتی ہے تاہم مارکیٹ میںبمشکل 2160 روپے میں دستیاب ہے جبکہ پندرہ کلو کا تھیلا 1620 روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے۔

اس تناظر میں عین اس وقت جب ملک بھر میں سیلاب کی تباہ کاریوں سے فصلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے اور آئندہ دو ماہ تک سیلاب زدہ علاقوں سے پانی ختم نہ ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، کسانوں کو آئندہ فصل ربیع کا فیصلہ کرنا مشکل دکھائی دے رہا ہے۔کسانوں کا حوصلہ بڑھانے کیلئے سندھ حکومت نے آئندہ فصل کیلئے گندم کی سرکاری قیمت خرید چار ہزار جبکہ پنجاب نے تین ہزار روپے فی من مقرر کی ہے۔

خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس سے سرکاری طور پرسندھ میں آٹا 150 اور پنجاب میں 120 روپے فی کلو فروخت ہوگا۔ دوسری طرف بیشتر علاقوں میں پہلے ہی 125 روپے فی کلو مل رہاہے۔ یہ صورتحال آنے والے مہینوں میں ایک نئے بحران کا پیش خیمہ دکھائی دے رہی ہے۔

واضح رہے کہ 2022 ء کیلئے سندھ اورپنجاب میں گندم کی سرکاری قیمت خرید 2200 روپے فی من مقرر تھی آئندہ برس دو گنا ہونے سے عوام پر مہنگائی کا ناقابل برداشت بوجھ پڑے گا اور کم وزن تندوری روٹی جو اس وقت 20 روپے میں فروخت ہو رہی ہے، یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ آٹے کی قیمت میں ہوشربا اضافے کے بعد لوگوں کو کس قیمت پر ملے گی۔ وفاقی حکومت کو صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے سندھ اور پنجاب کے ساتھ مل کر ایسے فیصلے کرنے چاہئیں جن سے مارکیٹ میں آٹا مقررہ نرخوں پربآسانی دستیاب ہواور لوگوں کو کم از کم دو وقت کی روٹی تو ملتی رہے۔بشکریہ جنگ نیوز

 

یہ بھی دیکھیں

توانائی بحران کے خدشات

(زمرد نقوی) کہا جا رہا ہے کہ موجودہ یورپ کا توانائی بحران جو 52 برس …