منگل , 27 ستمبر 2022

روس نے یوکرین میں زیر قبضہ علاقے باضابطہ ضم کرنے کا منصوبہ بنالیا

ماسکو:روس کے زیر انتظام یوکرین کے 2 مشرقی علاقوں نے روس میں شامل ہونے کے لیے ریفرنڈم کروانے کے منصوبے کا اعلان کردیا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے اتحادی نے بتایا کہ ووٹ سے جیوپالیٹیکل صورت حال تبدیل ہوکر ہمیشہ کے لیے ماسکو کے حق میں ہو جائے گی۔

یہ قدم مغرب کے ساتھ ماسکو کے تعطل کو بڑھائے گا، شمال مشرقی یوکرین میں روس کے میدان جنگ میں ناکامی کے بعد یہ قدم سامنے آیا ہے، ولادیمیر پیوٹن تقریباً 7 ماہ پرانے تنازع میں اگلے اقدامات پر غور کر رہے ہیں جس کی وجہ سے 1962 میں کیوبا میزائل بحران کے بعد مشرق و مغرب میں سب سے زیادہ کشیدگی پیدا ہوئی ہے۔

روس کی حمایت کرنے والے خود ساختہ طور پر لوہانسک پیپلز ری پبلک (ایل پی آر) کہلانے والے اور اس کے پڑوسی ڈونیٹسک پیپلز ری پبلک (ڈی پی آر) نے کہا کہ انہوں نے 23 تا 27 ستمبر کے درمیان ریفرنڈم کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔

سوشل میڈیا پر اپنے خطاب میں ڈی آر پی کے سربراہ ڈینس پشیلن نے ولادیمیر پیوٹن کو کہا کہ میں آپ سے کہتا ہوں، ریفرنڈم کا مثبت فیصلہ آنے پر ہمیں کوئی شک نہیں ہے، جلد از جلد ڈی پی آر کو روس کا حصہ بنانے پر غور کریں۔

جنوبی کھیرسن خطہ جس کا 95 فیصد انتظام ماسکو کے پاس ہے، وہاں پر روس کی طرف سے مقرر کردہ حکام نے کہا کہ انہوں نے بھی ریفرنڈم کروانے کا فیصلہ کیا۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ روس کا حمایتی خطہ زیپورزہیا سے بھی اسی قسم کے فیصلے کی توقع ہے۔

یوکرین اور امریکا نے کہا ہے کہ اس قسم کا ریفرنڈم غیر قانونی ہوگا، اور واضح کیا کہ وہ اور متعدد دیگر ممالک ان نتائج کو تسلیم نہیں کریں گے۔

سیکیورٹی کونسل کے کے ڈپٹی چیئرمین ڈمتری میڈویڈو نے اس طرح ووٹوں کے نتائج ناقابل تنسیخ ہوں گے اور ماسکو کو مکمل خودمختاری ہوگی کہ وہ قانونی طور پر اس کا اپنا علاقہ سمجھے گا۔

روسی ریاست ڈوما کے سربراہ ویاچسلاو ولوڈن نے پارلیمنٹ کے ایوان زیریں میں کہا کہ اگر دونوں علاقے روس میں شامل ہونے کے لیے ووٹ دیتے ہیں تو ان کا چیمبر حمایت کرے گا۔

ڈمتری میڈویڈو نے لکھا کہ ریفرنڈم کئی دہائیوں سے روس کی ترقی کے ویکٹر کو مکمل طور پر بدل دے گا، نئے علاقوں کے روس میں شامل ہونے کے بعد دنیا کی جغرافیائی سیاسی تبدیلی کو واپس نہیں کیا جاسکے گا۔

یہ بات غیر واضح رہے کہ ریفرنڈم کس طرح منعقد ہوگا کیونکہ روس اور روسی حمایت یافتہ فورسز کو ڈونیٹسک ریجن کے صرف 60 فیصد پر کنٹرول ہے۔روس نواز حکام پہلے بتا چکے ہیں کہ ریفرنڈم الیکٹرانک طریقے سے کرایا جاسکتا ہے۔

یہ قدم روس کی جانب سے یوکرین کے جزیرہ نما کریمیا کے قبضے کے 8 سال بعد اٹھایا گیا ہے۔

ریفرنڈم کا اعلان اس وقت کیا گیا ہے جب یوکرین نے کہا تھا کہ ان کی افواج نے لوہانسک کے گاؤں بلوہوریوکا دوبارہ حاصل کرلیا ہے، اور روس افواج کی جانب سے قبضہ کیے گئے تمام صوبوں کو دوبارہ لینے کی تیاری کررہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ یوکرین کی افواج لائسیچانسک شہر سے 10 کلومیٹر مغرب میں موجود ہے، جس پر جولائی میں ہفتوں کی لڑائی کے بعد روس نے قبضہ کر لیا تھا۔

لوہانسک کے گورنر سرہائی گیدائی نے ٹیلی گرام پر لکھا کہ ہر سیٹی میٹر کے لیے لڑائی کریں گے، دشمن اپنے دفاع کی تیاری کر رہا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

پاک فوج کا ہیلی کاپٹر بلوچستان میں گر کر تباہ، 6 اہلکار شہید

کوئٹہ:پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے بتایا ہے کہ پاک …