جمعرات , 6 اکتوبر 2022

سفارتی محاذ کی اہمیت

(ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی)

مجھے ایک قریبی دوست نے واٹس ایپ پر ایک ویڈیو فارورڈ کی ہے جس میں بھارتی وزیراعظم نریندرامودی ایک تقریب سے اظہارِ خیال کررہے ہیں، میرے دوست کو معلوم ہے کہ میں ماضی میں مودی کی پاکستان مخالف شدت پسندانہ پالیسیوں کو ہدفِ تنقید بناتا آیا ہوں، اس لئے اس نے ساتھ اپنا یہ کمنٹ بھی بھیجا ہے کہ ’’یہ اہم نہیں کہ کون کہہ رہا ہے بلکہ یہ اہمیت رکھتا ہے کہ کہا کیا جا رہا ہے،اپنے مخالفین سے سیکھنے میں کوئی حرج نہیں ــ‘‘ ویڈیو میں مودی واضح الفاظ میں کہتے ہیں کہ ان کے دورِ اقتدار میں بھارت نے معاشی ترقی کا ہدف سفارتی پالیسیوںکی بدولت حاصل کیا ہے، اس حوالے سے انہوں نے پلس پرفارمنس پلس ٹائم لائن پلس روڈ میپ کے پیرامیٹرزبتائے ہیں جنہیں اگر مثبت انداز میں فالو کیا جائے تودنیا کے کسی ملک کو کوئی طاقت ترقی سے نہیں روک سکتی۔

مودی کا کہنا تھا کہ بھارت میں کوئی بھی پالیسی ایک دم نہیں بنتی بلکہ اس سے پہلے بہت زیادہ ہوم ورک کیا جاتا ہے، متعلقہ شعبے کے ماہرین سے رائے لی جاتی ہے، بھارتی وزیراعظم کے مطابق حکومتی پالیسیوں کو ایک کاغذ کا ٹکرا نہ سمجھا جائے بلکہ سب ملکر اس پر عمل کریں ، پرفارمنس شو کریں تاکہ عالمی برادری کااعتماد بڑھے۔ جنوبی ایشیا کے خطے میں ایک ساتھ آزاد ہونے والے پاکستان اور بھارت ایک طویل عرصے تک مدمقابل رہے ہیں،دونوںممالک نے جنگیں بھی لڑی ہیں اور سفارتی و اقتصادی محاذپر ایک دوسرے کو ٹف ٹائم بھی دیا ہے، تاہم گزشتہ کچھ عرصے سے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ پاکستان اپنے اندرونی مسائل میں اتنا الجھ گیا ہے کہ خارجہ محاذ پر ہمارا پڑوسی ملک تیزی سے آگے بڑھتا جارہا ہے۔

بھارت کو رواں سال دسمبر میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت مل جائے گی، اسی طرح بھارت کو رواں سال دسمبر میں جی 20 کی سربراہی ملنے والی ہے جبکہ اس کا سربراہی اجلاس اگلے سال نئی دہلی میں ہوگا، شنگھائی تعاون تنظیم کی صدارت بھی بھارت نے حاصل کرلی ہے اور اس کا سربراہی اجلاس بھی اگلے سال بھارت میں متوقع ہے۔دنیا کے طاقتور اقتصادی ممالک جی سیون کے گروپ میں بھارت کی شمولیت بھی زیرغور ہے جسکے بعد یہ گروپ جی 8بن جائے گا، بھارت کی معیشت برطانیہ کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کی پانچویں بڑی معیشت بن گئی ہے،بھارت مشرق وسطیٰ کے علاقائی اتحاد آئی ٹویو ٹوکا اہم ممبر ملک ہے جس میں بھارت، اسرائیل، امریکہ اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔

یہ امر باعثِ دلچسپی ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کی صدارت کیلئے چینی صدر شی چن پنگ نے بھی بھارت کی حمایت کردی ہے کہ عالمی رہنماؤں کو بین الاقوامی نظام کے تحت مل کر کام کرنا چاہئے، روس پہلے ہی بھارت کو صدارت سنبھالنے پر مبارکباد پیش کرچکا ہے۔میری نظر میں کسی بھی ملک کی معاشی ترقی کا انحصار اس کی سفارتی کامیابیوں پرہوتا ہے۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہم نے 75سال میں اپنی سفارتی کامیابی کو ناگہانی آفتوں پر غیر ملکی امداد کے ساتھ جوڑ دیا ہے، آج ہمارے لئے سفارتی کامیابی کا معیار یہ بن چکا ہے کہ کونسا ملک ہمیں کتنی زیادہ امداد بھیجتا ہے ۔ حالات کی ستم ظریفی ہے کہ پچاس سال قبل ہم سابقہ مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) میں سیلاب متاثرین کیلئے امداد بھیجا کرتے تھے جبکہ آج بنگلہ دیش ہمیں امداد بھیج رہا ہے، ہمارے بعد آزاد ہونے والا چین دنیا کی دوسری بڑی اقتصادی قوت بن چکا ہے، وہ ممالک جو وسائل کی دستیابی اور ترقی میں پاکستان سے پیچھے تھے اورہمارے بعد آزاد ہوئے تھے وہ ترقی کرتے ہوئے ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل ہوگئے۔

افسوس ہماری 75سالہ قومی تاریخ میں سفارتی میدان میں پاکستان کے مفاد کو مقدم نہیں رکھا گیا، ہم نے دوسروں کی جنگ میں اپنے ملک کی معیشت کا بیڑہ غرق کرلیا۔ تاہم موجودہ حالات کے تناظر میں سفارتی محاذ پر متحرک قیادت کا آگے آناملک و قوم کیلئے امید کی ایک کرن ہے،ہمیں سفارتکاری کے میدان میں ڈائیلاگ کی اہمیت پر زور دینا چاہئے اور مذاکرات کے دروازے کبھی کسی پر بند نہیں کرنے چاہئے، بلاشبہ اپنے عوام کی بہتری کیلئے اندرونی مشکلات پر قابو پانا ہماری اولین ترجیح ہونا چاہئے لیکن خارجہ محاذ بھی کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، تاہم اس کیلئے ضروری ہے کہ ماضی کو بھُلا کر اپنی پالیسیوں پر دورِ جدید کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے نظرثانی کی جائے۔ اتفاق سے آج جب میں اپنا یہ کالم تحریر کررہا ہوں نوجوان وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری اپنی 34ویں سالگرہ منارہے ہیں، میں انہیں جنم دن کی مبارکباد دیتے ہوئے کہنا چاہوں گا کہ وہ ایک نئی سوچ کے ساتھ ماضی کی دقیانوسی پالیسیوں کو خیرباد کہتے ہوئے پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں۔ ہمیں بھارت کی سفارتی کامیابیوں پر کڑی نظر رکھنے کی بھی ضرورت ہے کیونکہ ماضی میں ایسی خبریں بھی منظرعام پر آئی ہیں کہ پڑوسی ملک کی وجہ سے کچھ ممالک نے ہم سے بے اعتنائی کا رویہ اختیار کیا۔جنگ نیوز

 

یہ بھی دیکھیں

ایران پر خوردبین لگائے اہل وطن، یہ فساد ہے

(تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس) ایران میں خواتین کتنی آزاد ہیں؟ اس کا اندازہ آپ کو …