بدھ , 28 ستمبر 2022

فوجیوں کو ہائی الرٹ کرنا روس کا خطرناک اقدام ہے :نیٹو

لندن:نیٹو کے سیکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ روس کی جانب سے مسلح افواج کو تیار رہنے کا حکم ایک خطرناک اور غیرذمہ دارانہ اقدام ہے۔رائٹرز خبررساں ادارے کے مطابق نیٹو کے سیکریٹری جنرل ینس اسٹولٹنبرگ نے کہا ہے کہ روس کی جانب سے ہزاروں نئی افواج کو تیار رہنے کا حکم ان کے بقول جنگی صورتحال میں شدت پیدا کردے گا جس کے نتیجے میں مزید روسی اور یوکرینی افواج موت کے گھاٹ اتریں گی ۔ اسٹولٹنبرگ نے دعوی کیا کہ روس کے صدر ولادیمیر پوتین کا ایٹمی ہتھیار کے استعمال پر مبنی بیان خطرناک بیان بازی اور غیرذمہ دارانہ ہے۔

نیٹو کے سیکریٹری جنرل نے روسی صدر کے بیان پر کہا کہ پہلے مرحلے میں ایسے کسی اقدام کو روکے جانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس کے ساتھ اپنے رابطوں میں اس مسئلے کے سنگین نتائج کے بارے واضح انداز میں گفتگو کی ہے۔

روس کے صدر ولادیمیر پوتین نے ایک ریکارڈ شدہ تقریر میں محدود پیمانے پر تین لاکھ ریزرو افواج کو ڈیوٹی پر بلایا اور جنگ کا تجربہ رکھنے والے شہریوں کو مسلح کرنے کا حکم جاری کیا۔ پوتین نے یہ بھی کہا کہ روس جنگ میں ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کے لئے بھی تیار ہے۔ انہوں نے مغرب کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اس انتباہ کو مذاق نہ سمجھا جائے۔

دریں اثنا روسی صدر کے سابق مشیر سرگئی مارکوف نے بھی یورپی ممالک بالخصوص برطانیہ کے خلاف ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کی روس کی تیاری کے بارے میں بتایا ۔ انہوں نے صدر ولادیمیر پوتین کی جانب سے محدود پیمانے پر افواج کی تیاری کے بعد مغرب بالخصوص برطانیہ کو خبردار کیا کہ ان کے شہر ایٹمی ہتھیار کا نشانہ بن سکتے ہیں ۔ سرگئی مارکوف نے امریکی صدر بائیڈن، سابق برطانوی وزیراعظم بورس جانسن اور موجودہ برطانوی وزیراعظم لز ٹرس کو یوکرین جنگ کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ واضح سی بات ہے کہ روس کو یوکرینیوں کے خلاف ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے؛ لیکن یوکرین پر مغربی ممالک نے قبضہ کر رکھا ہے اور یہ ممالک یوکرینی فوجیوں سے کرائے کے فوجیوں کی طرح پیش آکر انہیں روس کے ساتھ جنگ میں دھکیل رہے ہیں۔

دوسری جانب لتھوینیا کے وزیر دفاع آرویداس آنوسوسکاس نے کہا ہے کہ روس کی جانب سے فوجیوں کو تیار رہنے کے حکم کے بعد، وہ بھی اپنے ملک کے فوجیوں کو تیار رہنے کو کہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ روس کا یہ اقدام کالیننگراڈ میں ہو رہا ہے جو کہ لتھوینیا کی سرحد سے قریب ہے۔ انہوں نے کہا کہ لتھوینیا اس معاملے میں خاموش تماشائی بنا نہیں بیٹھا رہے گا بلکہ اپنی افواج کو ہائی الرٹ کرے گا ۔ فن لینڈ نے بھی ولادیمیر پوتین کے بیان کے بعد اعلان کیا ہے کہ ہیلسنکی حالات کا بغور جائزہ لے رہا ہے۔

 

یہ بھی دیکھیں

ہم، یونان کو ترکیہ پر مسلط کرنے والوں کی نیت سے بخوبی واقف ہیں:اردگان

انقرہ:ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ” ہم یونان کو بتا دینا …