بدھ , 5 اکتوبر 2022

قتل گُل ، مرگ گل

(عبداللہ طارق سہیل)

ماں باپ کے ہاتھوں لخت جگر کا قتل بہت ناقابل تصور، ناقابل برداشت معاملہ سہی لیکن انہونا نہیں۔ انہونی یہ ہے کہ کبھی کبھار دل چیر دینے والے واقعات اب کثرت سے ہونے لگے ہیں بلکہ ”روزمرہ“ بن گئے ہیں۔ بہت پہلے سال دو سال بعد ایسی خبر آ جاتی تھی اور لوگ مدّتوں تبصرے کرتے تھے کہ باپ تھا یا شیطان، ماں تھی یا ڈائن۔ اعداد و شمار نکال کر دیکھیں، ایسے واقعات میں تیزی پرویز مشرف کے دور میں آئی اور یہ دن بدن بڑھتی خودکشیوں کے شانہ بشانہ تھی۔ مشرف کے بعد کے آٹھ دس برس کچھ ٹھہراﺅ کے تھے لیکن یہ ٹھہراﺅ جب تبدیلی کی نذر ہوا تو ان میں ناقابل یقین حد تک اضافہ ہو گیا۔

کراچی کے اورنگی ٹاﺅن میں نذیر خاں نامی ایک شیطان نے اپنے بارہ سالہ بچے شہیر کو مٹی کا تیل چھڑک کر آگ لگا دی۔ بظاہر غصہ اس بات پر تھا کہ وہ منع کرنے کے باوجود پتنگ اڑانے کی اجازت مانگے چلا جا رہا تھا۔ بچہ بری طرح جھلس گیا اور دو روز بعد ہسپتال میں انتقال کر گیا۔ قاتل جنونی اور وحشی ہے لیکن اس نے یہ عذر بھی کیا کہ مہنگائی سے پریشان تھا اس لیے غصہ زیادہ آ گیا۔

اسی ہفتے کے کچھ اور ایسے واقعات کی خبریں بھی چھپی ہیں۔ گوجرہ میں معمولی سی بات پر مشتعل ہو کر ایک شخص عابد نے اپنی 2 سالہ بچی عروج فاطمہ کو نہر میں ڈبو کر مار ڈالا۔ اس کی خبر اخبارات کے اندرونی صفحات میں دب کر رہ گئی۔ اب تو نیٹ پر پچھلے اخبارات دیکھے جا سکتے ہیں۔ آپ انہیں کھنگالئے، ہر دوسرے روز ایسی کوئی نہ کوئی خبر ملے گی۔ ذرا سے اشتعال پر زیادہ تر باپ اور کبھی کبھار ماں کے ہاتھوں بے بس بچے موت کے گھاٹ اُتارے جا رہے ہیں۔ ساتھ ہی سکولوں اور مدرسوں کے اساتذہ کے ہاتھوں شدید تشدد کے نتیجے میں بچوں کی اموات کی خبریں بھی آ رہی ہیں۔ کہیں کروڑوں اربوں پتی خاندانوں کے ہاں ملازم بچے اور بچیاں روٹی کا ٹکرا چرانے کے ناقابل معافی جرم پر ”ہلاک“ کی جا رہی ہیں۔ اغوا برائے تاوان یا اغوا برائے انتقام کے بعد بچوں کی نعشیں برآمد ہونے میں پختونخواہ سب سے آگے ہے۔ زیادتی کے بعد قتل کرنا تو قاتلوں کا معمول ہے ہی۔

ملک میں یہ زہر باد کے جھکڑ کہاں سے آئے ہیں جو لوگوں کو وحشی اور دیوانہ بنا رہے ہیں۔ معمول کا انسان تو بچے کو تھپڑ مارتے ہوئے بھی کانپ جاتا ہے۔ ان لوگوں کی تعداد کیوں اتنی بڑھ گئی جن کے دماغوں میں شیطانوں نے گھر بنا لیا اور انہیں عفریت بنا ڈالا۔

حالیہ سیلاب میں بھی سب سے زیادہ مرنے والے بچے ہیں۔ طغیانیاں ماﺅں کے ہاتھوں سے بچوں کو چھین کر بہا لے گئیں، اکثر کی تو نعشیں بھی نہ ملیں۔

اسی عرصے میں….غربت کی وجہ سے ماﺅں کے ہاتھوں بچوں کا اجتماعی قتل بھی بڑھ گیا ہے۔ ہر دوسرے تیسرے روز یہ خبر آتی ہے کہ غربت کے ہاتھوں تنگ عورت اپنے چار بچوں کے ساتھ نہر یا کنویں میں کود گئی۔ ایک کو بچا لیا گیا، تین کی نعشیں مل گئیں۔ اللہ اکبر، ایسے واقعات پر ددنیا کے دوسرے ملکوں کا ریاستی ڈھانچہ کانپ جاتا ہے۔ ہم شاید کسی اور دنیا میں ہیں۔ یہاں ریاستی ڈھانچہ ایسی خبریں چھاپنے والے اخبارات کو قیمتی جگہ ضائع کرنے کا مجرم تصور کرتا ہے۔ یہاں کوئی کام کی خبر چھاپنی چاہیے تھی، یہ کیا چھاپ دیا۔ ٹی وی چینلز ، کوئی مانے یا نہ مانے، انسانی ہمدردی کے تحت ایسی خبریں نشر نہیں کرتے بلکہ ان کے سامنے اپنے چینل کی ریٹنگ کا سوال ہوتا ہے۔ اور یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ریٹنگ تو بڑھتی ہے۔ ایسی اجتماعی خودکشیوں بلکہ ماﺅں کے ہاتھوں بچوں کے ایسے اجتماعی قتل پچھلے پانچ سال کے دوران کتنی تعداد میں ہوئے؟۔ کوئی رپورٹ یہ واقعات اکٹھا کر کے چھاپے تو پڑھنے والوں کو یقین نہ آئے۔

بچے اور عورتیں بالعموم ساری دنیا میں اور بالخصوص ہماری زمین پر سب سے زیادہ مظلوم طبقہ ہیں۔ باقی دنیا میں ریاست ہوتی ہے جو حرکت میں بھی آ جاتی ہے۔ ہمارے ہاں جو شے ہے ہی نہیں، اس سے حرکت کی اپیل یا توقع کرنا حماقت ہے اور کچھ نہیں۔ یہاں تو ”دانشور طبقہ “ بھی ایسی خبروں پر بحث نہیں کرتا۔ کوئی این جی او بھی بیان جاری نہیں کرتی، کوئی عالم دین بھی اللہ کے عتاب سے نہیں ڈراتا۔ کسی سیاسی جماعت کے ایجنڈے میں بھی اس ”ایشو“ کے لیے کوئی جگہ نہیں۔

باقی دنیا میں بچے جنگوں میں بھی مر رہے ہیں۔ تنہا شام میں دس لاکھ افراد قتل کئے گئے جن میں چار لاکھ بچے تھے۔ یوکرائن سے میانمار تک بچوں پر آفت آئی ہوئی ہے۔ نانک نے سب سنسار کے دکھیا ہونے کی بات کی تھی لیکن حل نہیں بتایا تھا، امید بھی نہیں دلائی تھی۔ ایسے ہی ایک بات مانی فلاسفر کی یاد آ گئی ۔ ناممکن العمل اور خلاف عقل ۔پھر بھی اس میں کچھ کچھ وزن، ازراہ ”ری ایکشن“ ہی سہی، لگتا ہے، اس ایرانی فلسفی شاعر نے دو ہزار سال قبل دکھوں کا ایک مستقل ، حتمی اور شافی حل یہ بتایا تھا کہ سب لوگ، سب مرد، سب عورتیں، مجرّد ہو جائیں اور بیابانوں میں گوشہ نشین ہو جائیں۔ جو پیدا ہو چکے ، کافی ہیں، مزید پیدا نہ ہوں۔ نسل انسانی اس کے بعد ، نتیجے کے طور پر نابود اور دکھ بھی ساتھ ہی ختم ہو جائیں گے۔

مانی نے ایک اور بات بھی کی تھی۔ کوئی انسان کسی جانور کہ نہ مارے نہ گوشت کھائے، دکھ ختم نہیں، کم ہو جائیں گے۔ یعنی یہ کہ جو معاشرے جانوروں پر رحم نہیں کرتے، ان پر رحم نہیں کیا جاتا۔

مانی نے پیغمبر ہونے کا دعویٰ بھی کیا۔ آج ایران و عراق میں اس کے مذہب کا کوئی پیروکار نہیں لیکن حیرت کی بات ہے، وسط ایشیا سے ہوتے ہوئے اس کے کچھ پیروکار چین چلے گئے اور آج بھی اس کے پیروکار وہاں کم تعداد میں ہی سہی لیکن موجود ہیں۔

غربت کی موجودہ سطح جس نے لوگوں کے ذہن اور دماغ شل کر کے قتل ہائے عام کا رستہ کھول دیا ہے، عمران خان کے دور حکومت کی دین ہے، معیشت کے خرمن کو یہ آگے اسی دور حکومت میں لگی۔ اتحادی حکومت یہ آگ بجھانے کے وعدے پر آئی تھی لیکن بدقسمتی ہے کہ آگ پھیلتی جا رہی ہے، شعلوں نے ہر گھر کو تنور بنا دیا۔ کبھی دل میں خیال آتا ہے مفتاح اسمعٰیل عمران کے دور میں وزیر کیوں نہ بن گئے؟ تاکہ آج کوئی اور وزیر ہوتا ؟بشکریہ نوائے وقت

یہ بھی دیکھیں

پاکستان، پاکستان ہے !

(محمد مہدی) بین الاقوامی تعلقات میں مفادات کا حصول صرف اس وقت ہی ممکن ہے …