بدھ , 5 اکتوبر 2022

عمران خان وزارتِ عظمیٰ سے فرد جرم تک!!!!!!

(محمد اکرم چوہدری)

عمران خان ہر جلسے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کا ذکر فرماتے ہیں، سننے والوں کو اسلام کی طرف بلاتے ہیں، لوگوں کو ریاست مدینہ کا خواب دکھاتے ہیں لیکن جس غصے اور نفرت کے ساتھ وہ اپنے سیاسی حریفوں کے بارے گفتگو کرتے ہیں کیا یہ مناسب ہے۔ جس نامناسب انداز میں انہوں نے چکوال کے جلسے میں گفتگو کی کیا یہ ایک مقبول سیاسی جماعت کے سربراہ کا انداز ہو سکتا ہے۔ اگر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی احادیث سناتے ہیں یا تاجدارِ انبیاءخاتم النبیین کا ذکر فرماتے ہوئے لوگوں کو اس وقت کا حوالہ دیتے ہیں تو پھر انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی سیرت طیبہ کا مفصل جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کا اپنے مخالفین کے ساتھ کیا رویہ تھا، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کو تنگ کرتے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم ان کے ساتھ کیا برتاو¿ فرماتے، کیسے کیسے معاہدے فرمائے اگر خان صاحب واقعی اسلامی گفتگو لوگوں کی زندگی اور ملک کی تقدیر بدلنے کے لیے کرتے ہیں تو پھر انہیں سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کا جائزہ لینا ہو گا۔ اس کام کے لیے انہیں اپنے سوشل میڈیا کے فنکاروں سے دور رہنا پڑے گا کیونکہ سوشل میڈیا کے کاریگروں کے ہاتھوں وہ آج اس جگہ پہنچے ہوئے ہیں جہاں سے وہ خود واپس بھی آنا چاہیں تو شاید بہت مشکل ہو لیکن انہیں سوچنا ضرور ہو گا کہ وہ اتنا آگے کیوں نکل گئے ہیں حالانکہ وہ یہ سمجھتے ہیں اور متعدد بار اس کا اظہار بھی کر چکے ہیں کہ یو ٹرن لینے والا سیاستدان سمجھدار ہوتا ہے پھر بھی وہ غصے میں بھرے ہوئے ایسی غلطیاں کیے چلے جا رہے ہیں جن کا خمیازہ انہیں بھگتنا پڑے گا۔

عمران خان کی وطن پرستی اور ملک کے لیے درد کے حوالے سے تو کوئی شک نہیں ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ سیاست دان اپنے بیانیے بدلتے رہتے ہیں اور یہ بھی درست ہے کہ وزیراعظم ہاو¿س سے ڈائری اٹھا کر بنی گالا کے لیے نکلتے ہوئے انہوں نے اپنا بیانیہ بدلا اور اس بیانیے کے زیر اثر انہوں نے عوامی اجتماعات میں پاکستان کے اداروں کے خلاف نامناسب بیانات کا سلسلہ شروع کیا اس کے ساتھ انہوں نے امریکہ مخالف بیانیہ بھی اپنایا اور یہ امریکہ مخال بیانیہ پاکستان میں قابل فروخت سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کئی کامیاب اور مقبول سیاست دان یہ بیانیہ فروخت کر چکے ہیں۔ عمران خان کے اس بیانیے کو بھی مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔

لوگوں نے ان کا ساتھ دیا ہے یہاں تک اوور سیز پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد بھی عمران خان کے امریکہ مخالف بیانیے کی حمایت کرتی ہے۔ یہ الگ بحث ہے کہ امریکہ مخالف بیانیہ حقیقت سے کتنا قریب ہے کتنا دور لیکن پاکستان میں امریکہ مخالف جذبات پائے جانے کی وجہ سے لوگ ایسے سیاسی نعروں کا ساتھ دیتے ہیں اور ان نعروں کے ساتھ اب عمران خان بھی سیاسی میدان میں ہیں۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا لڑائی جھگڑے سے مسائل حل ہوتے ہیں، کیا اداروں کے ساتھ ہر وقت مقابلہ کرنا، اپنے ووٹرز کو ریاستی اداروں کے خلاف ابھارنا، اداروں کی حب الوطنی پر شک کا اظہار کرنا، ملک کی حفاظت کے لیے جان دینے والوں کو نامناسب انداز میں پکارنا یا تضحیک آمیز رویہ اختیار کرنا نہایت افسوسناک ہے۔

عمران خان حکومت سے نکالے جانے کے بعد غصے سے بھرے ہوئے ہیں اور غلطیوں کا نہ تھمنے والا سلسلہ جاری ہے۔ اگر وہ حقیقی طور پر ایک سیاستدان ہیں تو انہیں غصے کے بجائے تحمل مزاجی سے کام لینے اور انداز گفتگو پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ حکومت میں ہوتے ہوئے وہ غیر مقبول تھے، لوگ انہیں چھوڑنے کی تیاریاں کر رہے تھے، ان کے اراکینِ قومی و صوبائی اسمبلی کے مختلف سیاسی جماعتوں اور فیصلہ سازی میں اہم کردار ادا کرنے والوں سے رابطے تھے لیکن حکومت سے نکلنے کے بعد جس عوامی مقبولیت کے زور پر آج وہ کھڑے ہیں اسے برقرار رکھنا اور اس مقبولیت کو ملکی مفاد میں استعمال کرنا ہی سب سے بڑا چیلنج ہے۔ ملک میں عام آدمی کے لیے زندگی مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ کروڑوں انسانوں کو سیاست کی نذر کرنے کے بجائے سیاسی سمجھ بوجھ سے بہتر راستہ نکالنے کی ضرورت ہے۔

عمران خان کو اس ملک کی سیاسی بات چیت میں واپس آنا چاہیے، انہیں تمام سیاسی جماعتوں سے رابطے بحال کرنا ہوں گے اور سب کے ساتھ بات چیت کا آغاز کرنا ہو گا۔ نہ تو مسلم لیگ نون چوروں کی جماعت ہے نہ پاکستان پیپلز پارٹی ڈاکوو¿ں کی جماعت ہے نہ ایم کیو ایم اس ملک کی دشمن ہے اور نہ مولانا فضل الرحمٰن ملک کا نقصان چاہتے ہیں اور نہ ہی ان سیاسی جماعتوں کے کروڑوں ووٹرز غدار اور ملک دشمن ہیں۔ اچھا سیاست دان یا قائد مختلف خیالات رکھنے اور مختلف کرداروں کو ملک کی بہتری کے لیے ساتھ ملا کر آگے بڑھتا ہے۔ عمران خان ملک کو مسائل سے نکالنے کے لیے سنجیدہ ہیں تو انہیں بڑے دل کا مظاہرہ کرتے ہوئے سب کے لیے دروازے کھولنا ہوں گے اور سب کو ملنا ہو گا۔ اس ملک کی صوبائی اسمبلیوں، قومی اسمبلی اور سینیٹ میں موجود سینکڑوں لوگ چور یا غدار نہیں ہیں۔

حکومت نے پیٹرول مزید مہنگا کر دیا ہے۔ مانا کہ سیلاب نے تباہی مچا رکھی ہے، ملک سیاسی و معاشی عدم استحکام سے دوچار ہے، سیاست دانوں کے لڑائی جھگڑے ہر گذرتے دن کے ساتھ بڑھتے جا رہے ہیں اور اختلافات میں شدت آتی جا رہی ہے لیکن ان سب معاملات میں عام آدمی بھی کہیں نظر آتا ہے یا نہیں اگر حکومت ناکام ہو رہی ہے تو کیا اپوزیشن عوامی خدمت کے کاموں میں مصروف ہے۔ سب ایک دوسرے کو ناکام کرنے کے کھیل میں نجانے کسے ناکام کرنا چاہتے ہیں۔ حکمران طبقے کی میں نہ مانوں کی پالیسی نے عام آدمی کا کچومر نکال دیا ہے۔ بدقسمتی سے کسی کو فکر نہیں ہے، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ کیا پریس کانفرنس میں آبدیدہ ہونے والے آنسو بہانے والوں کو خبر ہے کہ صرف پیٹرول کی قیمت بڑھنے سے عام آدمی کی زندگی کس حد تک مشکلات کا شکار ہو جاتی ہے۔ مسائل میں کس حد تک اضافہ ہوتا ہے۔ پیٹرول مہنگا ہو گا، بجلی مہنگی ہو گی، اشیائ خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہو گا، روٹی، پانی، صفائی، ادویات ہر چیز کی قیمتیں بڑھ جائیں گی لیکن ذرائع آمدن وہی رہیں گے۔ ان حالات میں کمزور مالی حیثیت کے حامل افراد جو کہ کروڑوں میں ہیں ان کے لیے تو سانس لینا مشکل تر ہوتا چلا جائے گا۔ زندہ رہنا تو اور بات ہے مرنا بھی آسان نہ ہو گا۔

کاش کہ صرف حکومت وقت نہیں بلکہ وہ تمام لوگ جو حکومت میں ہیں، اقتدار سے نکل چکے ہیں یا پھر کسی بھی طریقے سے اقتدار میں واپسی چاہتے ہیں یا وہ جو مستقبل قریب میں ایوانِ اقتدار کی خواہش رکھتے ہیں ان سب سے درخواست ہے اس ملک کے کروڑوں غریبوں پر رحم کریں۔ ایک روٹی بیس روپے کی ہو چکی ہے اور اگر کوئی مزدور ایک وقت میں تین روٹیاں کھاتا ہے تو ایک سو اسی روپے صرف روٹیوں پر خرچ ہوں گے یعنی اسے کم از کم چار پانچ سو روپے صرف کھانے کے لیے درکار ہیں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سمریوں پر دستخط کرنے والوں کے یہ مسائل ہرگز نہیں لیکن کروڑوں غریبوں کے یہ مسائل ضرور ہیں۔ کیا کوئی ان کروڑوں ووٹرز کے لیے بھی سوچتا ہے۔

وزارت خزانہ نے پیٹرول کی قیمت میں ایک روپے پینتالیس پیسے کا اضافہ جبکہ ڈیزل کی قیمت میں کوئی ردوبدل نہیں کیا، مٹی کے تیل کی قیمت میں آٹھ روپے تیس پیسے فی لیٹر جبکہ لائٹ ڈیزل کی قیمت میں چار روپے چھبیس پیسے فی لیٹر کمی کی گئی ہے۔ پیڑول کی نئی قیمت دو سو سینتیس روپے 43 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔ اس وزارتِ خزانہ سے کوئی پوچھ سکتا ہے کہ ملک میں پیٹرول استعمال کرنے والوں کی آمدن بڑھانے کے لیے حکومت نے کیا اقدامات کیے ہیں، کیا ایک موٹر سائیکل چلانے والے کے لیے کوئی پالیسی ہے یا نہیں۔ جس کی تنخواہ ہی بیس پچیس ہزار ہے وہ کیا کرے گا۔بشکریہ نوائے وقت

 

یہ بھی دیکھیں

پاکستان، پاکستان ہے !

(محمد مہدی) بین الاقوامی تعلقات میں مفادات کا حصول صرف اس وقت ہی ممکن ہے …