جمعرات , 6 اکتوبر 2022

یوکرین روس جنگ: ’مہلک کھیل میں پوتن نے بہت کچھ داؤ پر لگا دیا‘

(سٹیو روزنبرگ)

چند ماہ پہلے کریملن نے اس بات کی تردید کی کہ وہ یوکرین پر حملے کا ارادہ رکھتا ہے لیکن حملہ کیا گیا۔حال ہی میں کریملن نے اس بات کی بھی تردید کی تھی کہ وہ یوکرین میں مزید فوجیں بھجوا رہا ہے مگر اب روسی صدر نے فوج کو ’جزوی موبیلائز‘ کرنے اور ریزرو فوج کے اہلکاروں کو وہاں بھجوانے کا اعلان کیا۔

کیا آپ کو یہاں ایک پیٹرن نظر آ رہا ہے؟ جب بھی فیصلہ لینے کا وقت آتا ہے تو ولادیمیر پوتن ہمیشہ جارحیت کا انتخاب کرتے ہیں۔مجھے تو یہ سُنے ہوئے بھی کئی مہینے ہو گئے ہیں کہ صدر پوتن توجہ کا مرکز نہیں رہے۔

قوم سے ان کے تازہ ترین خطاب میں اُن کے پاس کیئو کے لیے امن کا کوئی پیغام نہیں تھا، نہ ہی امریکہ اور نیٹو کے لیے ایسے الفاظ جو مفاہمت کو ظاہر کرتے ہوں اور باعث تسلی ہوں۔ان کا خطاب مغرب اور یوکرین مخالف الفاظ اور جملوں سے بھرا ہوا تھا۔

یہ پوتن کا حملہ ہے۔ یہ ان کی مغرب کے ساتھ جنگ ہے۔ اب وہ اس میں جکڑے جا چکے ہیں لیکن وہ جیتنا چاہتے ہیں، یوکرین سے بھی اور جیسا کہ وہ خود کہتے ہیں ’مغربی اتحاد‘ سے بھی۔

اگر اس کے لیے انھیں کسی حد تک جوہری طاقت اور ہزاروں ریزرو فوجی بھی استعمال کرنے پڑے تو وہ کریں گے۔ولادیمیر پوتن کو سیاسی جواری کہا جاتا ہے۔ اب انھوں نے دن بدن خطرناک ہوتے اس کھیل میں بہت کچھ داؤ پر لگا دیا ہے لیکن یہ جوا ہے۔

فوج بھیجنا، اگرچہ وہ تھوڑی بہت پہلے ہی بھیج چکے ہیں، وہ اقدام ہے جس سے صدر پوتن گریز کر رہے تھے کیونکہ شاید انھیں گمان تھا کہ عوام مزید روسی افراد کے جنگ میں شامل ہونے کو قبول نہیں کریں گے۔

یاد رہے کہ یوکرین میں ان کی جارحیت کو ایک فوجی آپریشن سے زیادہ کچھ نہیں ہونا تھا (اور انھوں نے قوم کو یہی بتایا تھا) اور اس آپریشن کے لیے لفظ ’جنگ‘ کا استعمال آج بھی روسی میڈیا میں ممنوع ہے اور اگر یہ جنگ نہیں تو انھوں نے فوج طلب کرنے کا اعلان کیوں کیا؟

پوتن کا مسئلہ یہ ہے کہ انھوں نے آغاز سے ہی حملہ منصوبے کے مطابق نہیں کیا۔ مغربی ہتھیاروں سے لیس یوکرینی فوج نے کریملن کی توقع کے برعکس بہت زیادہ مزاحمت کی۔

نتیجہ یہ ہوا کہ روس کی فوج پھنس گئی۔ حال ہی میں اس نے یوکرین کے وہ علاقے گنوا دیے جس پر وہ قبضہ کر چکے تھے اور اس صورتحال سے کریملن نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ انھیں میدانِ جنگ میں مزید فوجی چاہیے اور اس لیے وہ فوج کو ’جزوی موبیلائز‘ کر رہے ہیں۔

پوتن کے فوج کو موبیلائز کرنے کے اعلان پر روسی شہری کیا رد عمل دے رہے ہیں؟ میں نے اس سے متعلق ماسکو کی سڑکوں پر مختلف نظریات سنے۔

سرگئی نامی ایک نوجوان نے مجھے بتایا کہ ’میں پریشان ہوں کہ یہ صرف آغاز ہے۔ مجھے پریشانی ہے کہ پوری فوج طلب کر لی جائے گی۔‘

مارگریٹا کا کہنا تھا کہ ’اگر ہمارے لیڈر یہ مطالبہ کرتے ہیں تو ہمیں اپنا فرض ادا کرنا ہو گا۔ میں پوتن پر 100 فیصد بھروسہ کرتی ہوں۔ ہم ایک عظیم قوت ہیں۔‘

آخر میں دو چیلنجز ہیں: ایک پوتن کے لیے اور دوسرا مغرب کے لیے۔

ولادیمیر پوتن کا چیلنج یہ ہے کہ روسیوں کو یہ یقین دلایا جائے کہ مغرب روس کے خلاف جنگ کرنا چاہتا تھا (جیسا کہ ہے نہیں) اور مغرب کا مقصد ہے کہ روس کو تباہ کیا جائے (جو کہ نہیں ہو گا)۔ اگر وہ ایسا نہیں کر پاتے تو انھیں عوام کو فوج طلب کرنے کی وجوہات سمجھانے میں مشکل پیش آئے گی۔

اور مغرب کو درپیش چیلنج کیا ہے؟ روس کے رہنما سے کیسے نمٹا جائے، جنھوں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ شکست سے بچنے کے لیے جوہری ہتھیار استعمال کرنے کے لیے بھی تیار ہیں۔بشکریہ بی بی سی

 

یہ بھی دیکھیں

1973 کی جنگ کی سالگرہ کے موقع پر شامی فوج کی زبردست فوجی مشقیں

دمشق: صیہونی حکومت کے خلاف 1973 کی جنگ کی سالگرہ کے موقع پر شام کی …