جمعرات , 6 اکتوبر 2022

اقوام متحدہ یکطرفہ رویوں کے خلاف مزید سنجیدہ کردار ادا کرے،صدر رئیسی

تہران:ایران کے صدر نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ساتھ ملاقات میں اس تنظیم کے مقام کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ اقوام متحدہ کو حقیقی معنوں میں اقوام کی تنظیم ہونا چاہیے نہ کہ بڑی طاقتوں کی تنظیم۔

رپورٹ کے مطابق ایران کے صدر آیت سید ابراہیم رئیسی نے  نیویارک میں اقوام متحدہ کی 77ویں جنرل اسمبلی کے اجلاس کی سائڈ لائن پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوتریس کے ساتھ ملاقات میں کہی۔ انہوں نے دنیا کی اقوام کو ان کے مسائل کے حل کے لیے کردار دینے اور ان کے اندرونی معاملات میں غیر ملکی مداخلت کو روکنے میں اقوام متحدہ کے مقام کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ اقوام متحدہ کو حقیقی معنوں میں اقوام کی تنظیم ہونا چاہیے نہ کہ بڑی طاقتوں کی تنظیم۔

ایرانی صدر نے خطے کے بعض ممالک میں موجودہ بحرانوں کا ذکر کرتے ہوئے ان سب کا حل غیر ملکی مداخلت سے پاک قومی مذاکرات کی تشکیل کو قرار دیا اور کہا کہ ضروری ہے کہ اقوام متحدہ یکطرفہ رویوں کے خلاف مزید سنجیدہ کردار ادا کرے۔

صدر رئیسی نے ایران کو اپنے پڑوسیوں کے لیے مشکل وقتوں کا دوست قرار دیا اور افغان تارکین وطن کو پناہ دینے میں ایران کے انسانی ہمدردی پر مبنی اقداامات اور دہشت گردی کے خلاف سنجیدہ جنگ کا ذکر کیا اور مزید کہا کہ دوسری طرف ہمارے خطے میں نیٹو اور امریکہ کا نتیجہ جنگ، تباہی، ملکوں پر قبضہ اور قتل و غارت ہے۔

آیت اللہ رئیسی نے اس بات پر زور دیا کہ ایران ملکوں کے درمیان مسائل کے حل کے لیے علاقائی مذاکرات کی حمایت کرتا ہے اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے انصاف کے نفاذ کا مطالبہ کیا۔

انٹونیو گوتریس نے اپنی گفتگو میں افغان مہاجرین کو پناہ دینے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے مسلسل اقدامات کو سراہا اور یمن میں جنگ بندی میں ایران کے کردار کو قابل تعریف قرار دیا۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے یہ بھی کہا کہ جوہری معاہدے سے امریکہ کی دستبرداری ایک غیر تعمیری اور انتہائی مایوس کن عمل تھا۔

گوتریس نے علاقائی مذاکرات کے لیے فریم ورک بنانے کے لیے ایران کے اقدام کو تعمیری اور اقوام متحدہ کی طرف سے حمایت یافتہ قرار دیا اور انسانی حقوق کے معاملے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے موقف کی تصدیق کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کو ملکوں کے خلاف جنگ کے لیے ہتھیار اور بہانے کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کورونا وائرس کے باوجود ایران پر عائد پابندیاں معطل نہ کیے جانے پر برہمی کا اظہار کیا اور ایران ایک قدیم تہذیب کا حامل اور آج کی دنیا کا ناگزیر اور ناقابل تردید حصہ ہے اور یمن، عراق، شام، لبنان اور افغانستان کے مسائل کو ان کے عوام کے ذریعے حل کرنے کے بارے میں اسلامی جمہوریہ کے خیالات درست اور معقول ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

‘اسرائیل’ کے دوستوں نے سمندری سرحدی مسئلے میں اپنی شکست تسلیم کرلی

بیروت:لبنان اور مقبوضہ فلسطین کے درمیان سمندری سرحد کا تنازع اپنے آخری مرحلے میں داخل …