بدھ , 30 نومبر 2022

مرشد تمہارے شہر میں جینا محال ہے

(مظہر برلاس)

ہر سال کی طرح ستمبر وسط سے آگے جاتا ہے تو میرے لئے دکھوں کی یادوں کو تازہ کردیتا ہے کہ برسوں پہلے ستمبر کے آخری دنوں میں میرے والدین اور سب سے بڑے بھائی جدائی کے نہ بھرنے والے تاحیات زخم دے کر اگلے جہان جا بسے تھے۔ میو اسپتال لاہور کی وہ اداس شامیں آج بھی کلیجہ چیرتی ہیں۔ برسوں پہلے دکھوں کی حویلی میں بیٹھ کر ایک گہری تنہا رات میں ایک نظم ’’ستمبر ستم گر‘‘ قرطاس پر بکھیری تھی پھر انہی ایام میں وہ نظم اخبارات کے صفحات کا حصہ بن گئی۔ مشکل ترین لمحات میں نذیر ناجی محسن کے روپ میں سامنے آئے، حامد میر نے بھی خوب محبت نبھائی۔ یہ پرانی یادیں ہیں مگر سرمایۂ حیات ہیں اس لئے ستمبر کے وسط سے ڈسنا شروع کردیتی ہیں۔

اس برس دیس کی جھولی میں اتنے دکھ ہیں کہ ہر طرف اذیتوں، دکھوں اور تکلیفوں میں ڈوبے انسانوں کی کہانیاں بکھری پڑی ہیں۔ ہر طرف بھوکوں اور بیماروں کی آوازیں ہیں، کہیں تدفین کی جگہ نہیں تو کہیں بے گورو کفن لاشے ہیں۔ کہیں ظلمتوں میں پلتا ہوا ظالموں کا سلوک اور کہیں آسوں، امیدوں میں ترستی ہوئی مخلوق، لٹ گئی دھرتی، لوٹ گئے حاکم، راہزنی کا الزام رہنمائوں پہ نہ دھریں تو کس پر دھریں؟

اپریل موسم بہار کا مہینہ ہے مگر اس بار یہ موسم خزاں بن کے اترا۔ وساکھ میں پنجاب کے کسان وساکھی میلے سجاتے ہیں مگر اس سال یہ میلے دکھوں میں بدل گئے۔ اس موسم میں ایک ایسی حکومت نازل ہوئی جس نے لوگوں کی زندگیوں کو مشکل بنا دیا۔ دعوے بھلائی کے تھے مگر خاک میں مل گئے، لوگ رُل گئے، پریشانی کے گرداب نے کسی ایک طبقے کو نہیں گھیرا بلکہ ہر طبقہ تکلیفوں کے بھنور میں پھنس کے رہ گیا۔ اس حکومت کے آنے سے پہلے لوڈشیڈنگ نہیں تھی، یہ لوڈشیڈنگ کا زمانہ واپس لے آئے۔ بجلی اتنی مہنگی کردی کہ وہ لوگوں پر بجلی بن کر گر رہی ہے۔ بجلی کا بل ادا کرنے کے لئے کوئی زیور بیچ رہا ہے، کوئی ادھار لے رہا ہے، کوئی ایڈوانس تنخواہ لے رہا ہے تو کوئی یہ سوچ کر بل ادا کر رہا ہے کہ بچوں کی فیس اگلے مہینے دے دوں گا۔ جس ملک میں روٹی سے رشتہ مشکل ہوگیا ہے اس ملک میں موبائل فون کی قیمت سات لاکھ روپے ہوگئی ہے۔ جو گھی تین سو روپے میں ملتا تھا اب وہ چھ سات سو میں مل رہا ہے۔ جو آٹا ساٹھ روپے میں ملتا تھا وہ اب سو روپے میں ملتا ہے اور ماہرین بتا رہے ہیں کہ نومبر میں یہ آٹا ڈیڑھ سو روپے میں بھی مشکل سے ملے گا۔ عمران خان کے دور میں جو پٹرول 149 روپے کا تھا اب وہ 234 روپے سے اوپر مل رہا ہے۔ اپریل سے پہلے سیمنٹ کی جو بوری 750 روپے کی تھی اب وہ گیارہ سو کی ہو چکی ہے۔ پہلے بجلی سترہ روپے یونٹ تھی اب 36 روپے یونٹ ہے اور فیول ایڈجسٹمنٹ کا ’’تحفہ‘‘ الگ ہے۔ موجودہ ’’لاثانی‘‘ حکومت سے پہلے جی ڈی پی گروتھ چھ فیصد تھی اب یہ دو فیصد ہے۔ عمران حکومت میں زرعی گروتھ 4.4 فیصد تھی اب خیر سے منفی 0.7 فیصد ہے، صنعت کی گروتھ اپریل سے پہلے 9.8 فیصد تھی اور اب 1.9 فیصد ہے۔ پہلے روزگار میں گروتھ 5.7 فیصد تھی اور اب 3.5 فیصد ہے۔ چار ماہ میں پچاس بڑے جلسے کرنے والے عمران خان بتاتے ہیں کہ وہ برآمدات کو 24 ارب سے 32 ارب ڈالر پر لے گئے تھے ان کے دور میں اوورسیز پاکستانیوں نے 31ارب ڈالر بھیجنا شروع کردیئے تھے جو پہلے صرف اٹھارہ ارب بھیجا کرتے تھے۔ ان کے دور میں زرمبادلہ کے ذخائر سولہ ارب ڈالر تھے جو اب ساڑھے آٹھ ارب ڈالر ہیں۔ تیس سال کے بعد فیصل آباد میں لومز چلنا شروع ہوئی تھیں مگر اب فیکٹریاں بند ہو رہی ہیں، روزانہ ہزاروں مزدور بے روزگاری کے سمندر میں گررہے ہیں کسانوں کی حالت یہ ہے کہ وہ اپنے حقوق کے لئے اسلام آباد میں مظاہرے کر رہے ہیں۔ لاہور میں درجنوں پلازوں کے مالک میرے ایک دوست بتا رہے تھے کہ …’’ میرے پلازے خالی ہو رہے ہیں، دکاندار کرایہ ہی ادا نہیں کرپا رہے اور دکانداروں کا موقف یہ ہے کہ گاہک ہی نہیں آ رہے…‘‘

بڑی عجیب صورتحال ہے مہنگائی لوگوں کو نگلتی جا رہی ہے، لوگ بجلی کابل ادا کریں یا بچوں کا پیٹ پالیں۔ مکان کا کرایہ ادا کریں یا بچوں کی فیسیں ادا کریں، بات یہیں تک نہیں، نوبت فاقوں تک پہنچ گئی ہے بلکہ بعض جگہوں پر فاقوں نے خودکشیوں کا لباس پہن لیا ہے، کئی علاقوں میں فاقے لوگوں کو جرائم کی دنیا میں لے آئے ہیں، آنکھیں بند کرلینے سے مسائل حل نہیں ہوتے، باتیں روٹی کا بندوبست نہیں کرتیں، اسلام آباد تو ویسے بھی مہنگا ترین شہر ہے، اب اس شہر میں مجھ سا کہتا پھرتا ہے کہ:

مرشد تمہارے شہر میں نفرت کی چال ہے

مرشد تمہارے شہر میں جینا محال ہے

مرشد وطن میں لوگوں کے حلیے بدل گئے

مرشد یہ زندگی بھی تو جاں کا وبال ہے

مرشد کسی کی یاد میں ہم جاگتے رہے

مرشد نہ جانے آج یہ کس کا خیال ہے

مرشد یہ کچی دھوپ تو آنسو بھی کھا گئی

مرشد تمہارے دیس کا ابتر سا حال ہے

مرشد کسے بتائیں کہ دھوکہ کہاں ہوا

مرشد سوال کس سے کریں یہ سوال ہے

مرشد کھلاڑی کون تھے اور کیسا کھیل تھا

مرشد مجھے تو لگتا ہے یہ پورا جنجال ہے

مرشد فقط یہ تند ہوا کا قصور کیا

مرشد یہ آندھی پوری کی پوری ہی لال ہے

مرشد یہ کوفے جیسے ہی لوگوں کا شہر ہے

مرشد میں سوچتا ہوں یا تیرا خیال ہے

مرشد ہر اک سُو لوٹ مار کا میلہ سا سج گیا

مرشد وطن کی کیسی تری دیکھ بھال ہے

مرشد سبھی یہاں پہ سرِعام رُل گئے

مرشد مجھے تو ان کا بھی دل میں ملال ہے

مرشد یہ حال ہے کہ محبت بھی چھن گئی

مرشد پتہ نہیں یہ نفس کیوں بحال ہے

مرشد ادھر بھی خوف کا عالم عجیب ہے

مرشد یہ عہدے جانے کا بھی احتمال ہے

مرشد ہمارے لوگ تو جا گے ہیں دیر سے

مرشد یہ جاگنا بھی مگر اک کمال ہے

مرشد ہے فکر مند یہ مظہرؔ ترا بہت

مرشد مبادا آج یہ وقتِ زوال ہے

(بشکریہ جنگ نیوز)

یہ بھی دیکھیں

کیچڑ

(جاوید چوہدری) افلا طون اپنے استاد سقراط کے پاس آیا اور اس سے کہنے لگا …