ہفتہ , 26 نومبر 2022

تائیوان تنازع، امریکی اور چینی سفارت کاروں کی ملاقات سے برف پگھلےگی؟

نیویارکـ: امریکہ اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی میں کمی کے کچھ آثار دکھائی دینے کے بعد اعلیٰ امریکی اور چینی سفارت کار  نیویارک میں ملاقات کر رہے ہیں۔فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق امریکی وزیر خارجہ انتونی بلنکن اور چینی وزیر خارجہ وانگ یی سالانہ اقوام متحدہ کے سربراہی اجلاس کے موقع پر ملاقات کریں گے۔بالی میں جولائی میں ہونے والے وسیع مذاکرات کے بعد یہ ان کی پہلی ملاقات ہوگی۔

ایک ماہ بعد امریکی ایوان نمائندگان کی سپیکر نینسی پلوسی کے دورے کے بعد امریکہ اور چین کے تعلقات میں سخت تناؤ پیدا ہوا تھا۔نینسی پلوسی کے دورے کے بعد بھی چین نے فوجی مشقیں شروع کر دی تھیں اور تائیوان کے آس پاس کے پانیوں میں متعدد میزائل داغے اور ساتھ ہی جزیرے کی ناکہ بندی کرنے کے لیے لڑاکا طیارے اور جنگی جہاز بھیجے۔

صدر جو بائیڈن نے اتوار کو نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں کہا کہ اگر چین طاقت کا استعمال کرتا ہے تو وہ فوجی مداخلت کے لیے تیار ہیں۔چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے بتایا کہ انہوں نے نیویارک میں امریکی موسمیاتی ایلچی جان کیری سے ملاقات کی۔

تاہم انتونی بلنکن کے ساتھ اپنی بات چیت سے قبل ایک تقریر میں وانگ یی نے تائیوان جسے چین اپنی سرزمین کا حصہ سمجھتا ہے، کے لیے امریکی حمایت پر ایک بار پھر غصے کا اظہار کیا۔

انہوں نے ایشیا سوسائٹی کے تھنک ٹینک میں کہا کہ ’تائیوان کا سوال چین امریکہ تعلقات میں سب سے بڑا خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ اگر اس سے غلط طریقے سے نمٹا گیا تو اس سے دو طرفہ تعلقات کے تباہ ہونے کا سب سے زیادہ امکان ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’جس طرح امریکہ ہوائی کو چھیننے کی اجازت نہیں دے گا اسی طرح چین کو ملک کے اتحاد کو برقرار رکھنے کا حق حاصل ہے۔‘

انہوں نے پیلوسی کے تائیوان کے دورے کی ’اجازت‘ دینے کے امریکی فیصلے کی مذمت کی۔
توقع کی جا رہی ہے کہ نیویارک کے مذاکرات سے صدر جو بائیڈن اور صدر شی جن پنگ کے درمیان پہلی ملاقات کی بنیاد رکھی جائے گی۔

یہ بھی دیکھیں

روس کیخلاف پابندیوں کا 9واں پیکج تیار کر رہے ہیں:یورپی یونین کمیشن

کیف:روس کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے میں یوکرائن کے 50 فوجیوں کو رہا کر دیا …