بدھ , 30 نومبر 2022

اگر ایسا سیلاب پھر آ گیا تو؟

(عفت حسن رضوی)

پاکستان میں 2010 کے سیلاب کو ماہرین نے سُپر فلڈ کا نام دیا تھا، گنتی کی تھی تو پتہ چلا تھا کہ ڈیموں اور بیراجوں سے گزرنے والا پانی کا ریلا تاریخی تھا اور سیلاب کا پانی ہزاروں ایکڑ زمین پہ تباہی پھیرتا ہوا سمندر میں جا گرا تھا۔

حکومت کے اعداد و شمار نے بتایا تھا کہ متاثرین کی تعداد سوا کروڑ تک تھی جس پہ اخبارات کی سرخیاں تھیں کہ ایسی تباہی پہلے کبھی نہیں دیکھی۔

اندازہ کرلیں کہ حالیہ سیلاب ایسا آیا ہے کہ جس کا 2010 میں کسی نے گمان تک نہ کیا تھا، وہ سیلاب اب والے سپر ڈپر فلڈ کا عشر عشیر بھی نہیں تھا۔ آج متاثرہ افراد سوا تین کروڑ ہیں مگر فی الحال حتمی گنتی نہیں ہو سکی۔

سیلاب چاہے جتنا بھی اونچے درجے کا ہو ہفتہ دس دن میں بہاؤ ہوتا رہتا ہے اور پانی نشیب میں اتر جاتا ہے۔ یہ سیلاب ایسا آیا ہے کہ بلوچستان اور اندرون سندھ کے درجنوں علاقے سیلابی پانی کے اندر ڈوبے ہوئے ہیں اور تاحال اندازے یہی لگ رہے ہیں کہ اس پانی کی سمندر میں نکاسی ہونے میں کئی ہفتے یا مہینے مزید لگ سکتے ہیں۔

سیلاب میں جو بہہ گئے ان کی ہلاکتیں تو 15 سو سے بڑھ گئی ہیں لیکن مزید ہلاکتوں کا خدشہ ایسا شدید ہے کہ بھوک، ملیریا، جلدی امراض اور ہیضے کی شکل میں سیلاب متاثرین کے سر پہ منڈلا رہا ہے، کئی سانپ کے کاٹے سے خوفزدہ ہیں، بہت سوں کو بخار نے جکڑ رکھا ہے۔ روزانہ چار، پانچ ہلاکتیں رپورٹ ہو رہی ہیں۔

متاثرین کو بچانا اور انہیں زندگی کی طرف واپس لانا اولین ترجیح ہے، گذشتہ سیلاب کی طرح اس بار بھی حکومت، فوج، فلاحی تنظیمیں، ریلیف کے سرکاری ادارے، نیشنل اور انٹرنیشنل سب کام کر رہے ہیں مگر کیا سیلاب کا سدباب صرف امداد تک محدود ہے؟

2010 میں جیسے ہی سیلاب کا پانی خشک ہوا، متاثرین کی گھروں کو واپسی ہوئی، ہم نے ہاتھ جھاڑے، ریلیف آپریشن کی کامیابی پہ انگریزی میں رپورٹیں لکھیں جنہیں مہنگے چکنے کاغذ پہ رنگین تصاویر کے ساتھ پرنٹ کروایا، بڑے ہوٹلوں کے سیمینار ہالز میں اعداد و شمار کے ساتھ ایکسپرٹس کے خطاب کروائے اور خطرہ بھول گئے۔ یہاں تک کہ سیلاب پہلے سے بھی زیادہ شدید ہو کر ہمارا امتحان لینے پھر آ گیا۔

ہمیں 2010 کے سیلاب کے بعد 12 برس ملے تھے تیاری کرنے کے لیے، عالمی برادری کو جگانے کے لیے، یہ جو ہم سیلاب کے بعد کاربن کے اخراج کا رونا آج رو رہے ہیں اور بین الاقوامی انڈسٹریل لابی سے پاکستان کا قصور پوچھ رہے ہیں انہیں جوابدہ کرنے کے لیے ہمیں قدرت نے 12 سال کا بڑا وقت دیا تھا۔

سیلاب اور سیاسی پولرائزیشن
سوال یہ ہے کہ جیسے 2010 کے سیلاب کے بارہ برس بعد پہلے سے دو گنا بڑا، طاقت میں تگڑا، جان لیوا اور تباہ کن سیلاب اب آیا ہے، کیا پاکستان کو چند برس بعد اس سے بھی بڑھ کر کسی خوفناک سیلاب کا خطرہ ہے؟

سادہ اور سیدھا سا جواب ہے جی ہاں۔ ہم سے تو اس بار کا سیلاب ہی نہیں جیا جا رہا، اگلی بار اس سے بڑھ کر کچھ ہوا تو ہمارا ردعمل کیا ہو گا؟ مقامی امداد دینے والوں کی کمر دے دے کر دہری ہوئی جا رہی ہے، عالمی امداد جو مل رہی ہے وہ پوری نہیں پڑ رہی تو پھر اگلی بار خدانخواستہ ہماری مدد کو کون آئے گا؟

یاد رکھیں مستقبل کی آفتوں کا مقابلہ طویل مدتی پالیسی سے ہوتا ہے، ریلیف یا امداد وقتی سہارا ہیں۔ ہم لاکھ بین الاقوامی کمیونٹی سے ماحولیاتی انصاف مانگیں اپنے عوام کی جان و مال کو بچانا، ریلیف آپریشن کے بعد نئی جامع موسمیاتی پالیسی بنانا اور اس پہ عمل کرنا ہمارا ذمہ ہے، قدرتی آفات کے لیے تیاری ہمیں کرنی ہو گی۔

ہر ملک کو اپنی پڑی ہے، یورپ کو توانائی کے بحران کا سامنا ہے، امریکہ نے کئی جگہ سینگ پھنسا رکھے ہیں، روس ابھی یوکرین کا دردِ سر لیے بیٹھا ہے، چین معاشی ایڈونچرز میں مصروف ہے۔ اقوام متحدہ بھی پریشان ہے کہ بار بار اپیلوں کے باوجود پاکستان کو جتنی امداد کی ضرورت ہے اتنی نہیں مل رہی۔

اول تو یہ کہ پاکستان کو عالمی انڈسٹریل سپر پاور ممالک سے ہرجانہ وصول کرنا چاہیے اور انہیں امداد نہیں فرض پورا کرنے کا پابند کرانا ہوگا۔ یہ تو ہو گئی لفاظی اور کتابی بات۔

دوسرا کچھ سوچنا ہمیں بھی ہو گا کہ موسمیاتی تبدیلی کی موجودہ صورت حال میں دفاعِ پاکستان کا اصل مطلب کیا ہے۔ ہمیں اب اپنے دشمنوں کی فہرست میں بھارت سے بھی پہلے موسمیاتی تبدیلی کو رکھنا ہو گا کیونکہ پگھلتے گلیشیئر، برستا مون سون اور ابلتے دریاؤں کو ہمارا ایٹم بم بھی نہیں روک سکتا۔

ہمیں اپنی خارجہ پالیسی میں صرف معاشی امداد اور کشمیر ہی نہیں موسمیاتی تبدیلی کی تباہی کو بھی نمبر ون بنانا پڑے گا۔ جنوبی ایشیا کی ریجنل سیاست، ہمارے پڑوسیوں سے تعلقات، بین الاقوامی تنظیموں میں شرکت، خارجہ امور کے ہر عمل میں سرفہرست اب موسمیاتی چیلنجز کو رکھنا ہو گا۔

موسم، زراعت، پانی کی تقسیم، گلیشیئر کی سائنس، تعمیراتی سائنس کے ریسرچرز کی فوج تیار کرنا ہو گی۔ ہمیں اپنے لوگوں کی آباد کاری کو نئے سرے سے سائنسی بنیادوں پہ تشکیل دینا ہو گا، ہمیں آفات سے نمٹنے کے لیے ایسی فورس بنانا ہوگی جسے ٹیکنالوجی اور لاجسٹک کی مدد حاصل ہو اور یہ سب کرنے کے لیے ملک کے بجٹ اور عالمی امداد کو درست جگہ استعمال کرنا ہوگا۔ ترجیحات بدلنا پڑیں گی ورنہ یونہی گلوبل کمیونٹی سے امداد کی اپیلیں اور موسمیاتی انصاف مانگتے رہ جائیں گے کیونکہ خاکم بدہن یہ پاکستان کی تاریخ کا آخری سیلاب نہیں۔بشکریہ دی انڈپینڈنٹ

 

یہ بھی دیکھیں

کیچڑ

(جاوید چوہدری) افلا طون اپنے استاد سقراط کے پاس آیا اور اس سے کہنے لگا …