بدھ , 30 نومبر 2022

موہن بھاگوت: آر ایس ایس کے سربراہ کی مسلم دانشوروں سے ملاقات، مسجد اور مدرسے کے دورے کے بعد اب آگے کیا ہوگا؟

(شکیل اختر)

انڈیا کی ہندو نظریاتی تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ یعنی آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے جمعرات کو اچانک دارالحکوت دلی کی ایک مسجد اور ایک مدرسے کا دورہ کیا۔

یہ دورہ انھوں نے ایک ایسے وقت پر کیا جب بعض اخبارات میں یہ خبر شائع ہوئی کہ انھوں نے حال ہی میں ملک کے پانچ مسلم دانشوروں سے ملاقت کی اور ان سے ہندو مسلم تعلقات کے کئی پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا۔

موہن بھاگوت نے جن پانچ دانشوروں سے ملاقات کی ہے ان میں انڈیا کے سابق الیکشن کمشنر ایس وائے قریشی، دلی کے سابق لفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ، صحافی اور سابق رکن پارلیمان شاہد صدیقی، مسلم یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ضمیر الدین شاہ اور صنعت کار سعید شیروانی شامل تھے۔

شاہد صدیقی نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ ملاقات 22 اگست کو دلی میں آر ایس ایس کے دفتر میں ہوئی تھی۔ انھوں نے کہا کہ نوپور شرما کے متنازع بیان کے بعد ملک میں جس طرح کا نفرت انگیز ماحول بن رہا تھا وہ بہت پریشان کن ہے۔

کئی مسلم دانشوروں نے آپس میں صلاح مشورہ کیا اور آر ایس ایس کے سربراہ سے ملنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ان کے مطابق ’مقصد ہمارا یہی تھا کہ بات چیت ہونی چاہیے۔ ہمارے درمیان اختلافات ہو سکتے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم لوگ ایک دوسرے کے مخالف یا دشمن ہیں۔‘

’ہمیں ان اختلافات کو سامنے رکھ کر بات کرنی چاہیے۔ اس لیے ہم نے ان سے بات کی اور یہ ماحول بنا کہ آگے بھی بات چیت ہوتی رہنی چاہیے۔ یہ بس ایک بار کا معاملہ نہ ہو۔‘

اطلاعات ہیں کہ آر ایس ایس کے سربراہ نے مسلم دانشوروں سے مستقبل میں بات چیت کے لیے چار سینیئر رہنماؤں کی ایک کمیٹی بنائی ہے جو مسلم دانشوروں سے بات چیت کرے گی۔

شاہد صدیقی نے بتایا کہ آر ایس ایس کے سربراہ سے بات چیت میں انھوں نے گئو کشی اور نسل پرستانہ جملوں جیسے سوالات پر ان کا مؤقف جاننا چاہا جبکہ مسلم دانشوروں کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف نفرت کی مہم، ہجومی تشدد اور اس طرح کے دوسرے مسائل پر بات کی۔

یہ میٹنگ نصف گھنٹے کے لیے طے ہوئی تھی لیکن یہ تقر یباً سوا گھنٹے تک چلی۔ اس ملاقات کی خبر ایک مہینے بعد کیوں سامنے آئی، اس کے بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے۔

ضمیر الدین شاہ نے بی بی سی سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ملک میں جس طرح کے حالات ہیں، ان سے اگر کوئی مؤثر طریقے سے نمٹ سکتا ہے تو وہ یا تو وزیر اعظم نریندر مودی ہیں یا پھر موہن بھاگوت۔ اس لیے ہم نے موہن بھاگوت سے بات چیت کا وقت مانگا تھا۔‘

آر ایس ایس کے سربراہ نے آل انڈیا امام آرگنائزیشن کے صدر مولانا عمیر احمد الیاسی سے ان کی مسجد میں ملاقات کی۔

مولانا عمیر نے اس ملاقات کے بعد ایک بیان میں کہا کہ ان کی ملاقاتیں آر ایس ایس کے سربراہ سے پہلے بھی ہوتی رہی ہیں اور ’اس سے پہلے سنگھ کے جو سربراہ تھے وہ بھی یہاں آتے رہے ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’امام ہاؤس (مسجد سے ملحقہ مولانا کا دفتر ) ایک ایسی جگہ ہے جہاں سبھی لوگ آتے ہیں۔ ہم بھی جاتے ہیں، وہ بھی آتے ہیں۔ میرے خیال میں ایک دوسرے کے یہاں آنے جانے سے ایک اچھا ماحول بنتا ہے۔ آپسی غلط فہمیاں دور ہوتی ہیں۔ یہ ایک اچھا قدم ہے۔ یہ ایک اچھی شروعات ہے اور اس کا ملک اور بیرون ملک اچھا پیغام جائے گا۔‘

آر ایس ایس سے وابستہ دانشور راجیو تولی کا کہنا ہے کہ آر ایس ایس معاشرے کے ہر طبقے سے بات چیت کرنے میں یقین رکھتی ہے۔

انھوں نے اس بات پر حیرت ظاہر کی کہ ’مسلمانوں کے ساتھ اس طرح کی ملاقاتوں کو آخر اتنا طُول کیوں دیا جا رہا ہے۔ سنگھ کے رہنما دوسری برادریوں کے رہنماؤں سے ہمیشہ ملتے رہتے ہیں۔‘

نوپور شرما کے پیغمبر اسلام سے متعلق متنازع بیان کے بعد انڈیا اور دنیا بھر میں ہندو مسلم تناؤ بڑھا جس کے بعد انھیں بی جے پی میں ترجمان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا

یہ ملاقاتیں کتنی سنجیدہ اور نتیجہ خیز ہوسکتی ہیں؟
آر ایس ایس ایک دائیں بازو کی ہندو قوم پرست نظریاتی تنظیم ہے۔ یہ سنہ 1925 میں قائم ہوئی تھی۔ آزادی سے پہلے یہ اطالوی فاشسٹ پارٹی کے نظریات سے متاثر تھی۔ اس کے تحت بجرنگ دل، وشو ہندو پریشد، ہندو مہا سبھا اور اس جیسی بہت سی تنظییمں کام کر رہی ہیں۔

ان تنطیموں کو سنگھ پریوار کہا جاتا ہے جو ہر جگہ پھیلی ہوئی ہیں۔ آر ایس ایس کا نصب العین ہندوؤں کو متحد کر کے انڈیا میں ہندو راشٹر قائم کرنا ہے۔

یہ ہندو برادری کو مضبوط کرنے کے لیے ہندو ثقافت اور ریت رواج کو فروغ دیتی ہے۔ اس کے ارکان کی تعداد ایک کروڑ کے آس پاس بتائی جاتی ہے۔

حکمراں جماعت بی جے پی اس کی سیاسی نمائندہ ہے جبکہ اکھل بھارتیہ ودیاتھی پریشد اس کی سٹوڈنٹ ونگ ہے۔ آر ایس ایس کا صدر دفتر مہاراشٹر کے شہر ناگپور میں واقع ہے۔

یہ اتنی طاقتور اور بااثر ہے کہ اکثر تجزیہ کار دعویٰ کرتے ہیں کہ حکومت ناگپور سے کنٹرول ہوتی ہے۔ بی جے پی کے بیشتر رہنما آر ایس ایس یا اس کی محاذی تنظیموں سے آتے ہیں۔

ان تازہ ملاقاتوں پر سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے تبصرہ کیا ہے کہ آر ایس ایس اور حکمراں بی جے پی کانگریس کے رہنما راہل گاندھی کی ملک گیرپد یاترا (پیدل مارچ) سے گھبرائی ہوئی ہیں۔

انڈیا کی 12 ریاستوں میں کیا جانے والا مارچ، جو پانچ مہینے تک جاری رہے گا، کی سربراہی راہل گاندھی کر رہے ہیںراہل گاندھی ’بھارت جوڑو ‘ نعرے کے ساتھ اس وقت کیرالہ کے مختلف علاقوں میں روزانہ مارچ کر رہے ہیں۔ اس مارچ میں ہزاروں لوگ شریک ہو رہے ہیں۔

کئی مہینے اور کئی ہزار کلومیٹر کے اس پیدل مارچ میں وہ ملک کی کئی ریاستوں سے ہوتے ہوئے مرکز کے زیر انتظام کشمیر میں اپنی یاترا ختم کریں گے۔راہل گاندھی نے اپنی اس مہم میں آر ایس ایس اور بی جے پی کو بارہا نشانہ بنایا ہے۔

تاہم ہندوتوا پر کتاب کے مصنف آکار پٹیل کہتے ہیں ان کے خیال میں ’موہن بھاگوت کی مسلم دانشوروں سے ملاقات اور مسجد کے دورے کا تعلق راہل گاندھی کی پد یاترا سے نہیں ہے۔ میں سنگھ کے سربراہ کے ان اقدامات کو سنجیدہ نہیں مانتا۔‘

سیاسی تجزیہ نگار سعید نقوی کا بھی یہی خیال ہے۔ وہ کہتے ہیں ’اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک کے مسلمان پریشان ہیں۔ لیکن جب تک کوئی ٹھوس نتیجہ نہ سامنے آئے ایسی ملاقاتیں اور بات چیت بے معنی ہے۔’

انڈیا میں گذشتہ برسوں میں مسلمانوں کو منظم نفرت انگیز مہم اور مشکلوں کا سامنا رہا ہے۔

ٹی وی چینلوں، تقریروں اور سوشل میڈیا پر مسلمانوں کے خلاف بی جے پی اور سنگھ سے وابستہ تنظیموں کے لیڈروں اور مذہبی رہنماؤں کے اشتعال انگیز بیانات پر حکومت اور آر ایس ایس عموماً خاموش رہے۔

انڈیا کے مسلمان اس وقت سیاسی اور سماجی اعتبار سے شدید دباؤ کے دور سے گزر رہے ہیں۔ ان حالات میں آر ایس ایس کے سربراہ کی اچانک مسلم دانشوروں سے سے ملاقات اور مسجد اور ایک مدرسے کا دورہ یقیناً معنی خیز ہے۔

اس مرحلے پر ان ملاقاتوں سے کوئی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔ ملک میں سنہ 2024 میں پارلیمانی انتخابات ہونے والے ہیں۔ حکمراں بی جے پی نے ان انتخابات کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی اب بھی ایک مقبول رہنما ہیں لیکن اس بار حزب محالف کی جماعتیں بی جے پی کے لیے ایک متحدہ محاذ تشکیل دینے کی کوششیں کر رہی ہیں۔

ایک متحدہ اپوزیشن انتخابات میں مودی کے لیے سخت مشکلیں پیدا کرسکتی ہے۔ اس سیاسی پس منظر میں سنگھ کے سربراہ کی مسلمانوں سے بات چیت کا راستہ کھولنا اور بھی معنی خیز ہو گیا ہے۔بشکریہ بی بی سی

 

یہ بھی دیکھیں

ثانی زہرا حضرت زینب کبری (س) کا یوم ولادت پوری دنیا میں عقیدت و احترام کیساتھ منایا جارہا ہے

اسلام آباد: بنت علی، ثانی زہرا، شریکہ الحسین، حضرت زینب علیہا سلام کی ولادت باسعات …