بدھ , 30 نومبر 2022

ایران،روس فوجی تعلقات تل ابیب کو سخت پریشان کر رہے ہیں، صیہونی میڈیا

یروشلم: غاصب صیہونی میڈیا نے اعلان کیا ہے کہ ایران و روس کے درمیان تیزی کے ساتھ وسعت پاتے فوجی تعلقات پر غاصب صیہونی حکام کو شدید پریشانی لاحق ہے۔ غاصب صیہونی رژیم کے ساتھ منسلک ای مجلے جے این ایس نے اس حوالے سے لکھا ہے کہ مغرب پر غلبہ پانے کی روسی کوشش کا نتیجہ بالآخر ایسے ممالک کے ساتھ اس کے قریبی تعلقات کی استواری میں نکلا ہے کہ جو خود مغرب کے خلاف ہیں جبکہ ایران انہی ممالک میں سے ایک ہے درحالیکہ یہ ایران کے لئے بھی اہم ہے کہ وہ ظاہر کرے کہ مغرب کے خلاف اس کا بھی آخر ایک اہم مقام ہے اور یہی وجہ ہے کہ ایران، روس کے ساتھ اپنے تعلقات کو مسلسل توسیع دے رہا ہے۔

صیہونی ای مجلے نے لکھا کہ جدید ترین شواہد کے مطابق تہران و ماسکو کے درمیان استوار تعلقات دن دگنی و رات چگنی ترقی کر رہے ہیں جبکہ امریکی وزارت تجارت نے گذشتہ سوموار کے روز ہی اعلان کیا ہے کہ ایران کے 3 مال بردار طیاروں کو امریکی برآمداتی قوانین کی خلاف ورزی والے ممکنہ طیاروں کی فہرست میں شامل کر لیا جائے گا تاہم دوسری جانب روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے بھی شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس میں ایرانی صدر آیت اللہ رئیسی کے ساتھ اہم ملاقات کی ہے۔

صیہونی مجلے نے لکھا کہ روس و ایران نہ صرف فوجی بلکہ اقتصادی و سیاسی میدانوں میں بھی ایک دوسرے کے انتہائی قریب آ رہے ہیں جبکہ امریکی تجزیہ نگار جیسن براڈسکی کا خیال ہے کہ ایران، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن روس سے سفارتی حمایت حاصل کرتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس نے سال 2020ء میں اقوام متحدہ کی جانب سے عائد کردہ اسلحہ جاتی پابندیوں کے خاتمے کے بعد سے روسی اسلحے پر نظریں گاڑ رکھی ہیں اور روس کا سوخو-35 لڑاکا طیارہ خریدنا چاہتا ہے۔ جے این ایس نے اس حوالے سے غاصب صیہونی حکام کو لاحق سخت پریشانی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے لکھا کہ تہران و ماسکو کے روزافزوں تعلقات نے، اُس سفارتی حمایت اور فوجی مدد کہ جو روس کی جانب سے ایران کو مل سکتی ہے، پر تل ابیب کو سخت پریشان کر رکھا ہے۔

صیہونی مجلے نے لکھا کہ اس حوالے سے کرنل ڈینیل ریکوف کا ماننا ہے کہ روس کے نئے فوجی نظریئے نے ماسکو کی خارجہ سیاست کو قطب شمال، ایشیاء و مشرق وسطی کی جانب موڑ دیا ہے جبکہ اس نئے ڈاکٹرائن میں شام کے ساتھ مزید مضبوط تعلقات بھی شامل ہیں جس کے تحت اس وقت شامی بندرگارہ "طرطوس” روسی بحری اڈے کی میزبانی میں مصروف ہے۔ صیہونی ای مجلے کے مطابق کرنل ڈینیل ریکوف کا کہنا ہے کہ اس صورتحال میں ایران کو متوازن کرنے کے لئے تل ابیب، سعودی عرب کو بآسانی استعمال کر سکتا ہے۔ اس کے مطابق تل ابیب، پیوٹن کے غصے کو بھڑکا کر ایران و روس کے روزافزوں تعلقات کو بالواسطہ طور پر فی الفور روکنا چاہتا ہے جبکہ اس صورت میں پیوٹن، امریکہ کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں کا سہارا لینے پر بھی مجبور ہو جائیں گے۔

یہ بھی دیکھیں

ایران اور ترکی کے وزرائے خارجہ کا ترکی اور شام کی سرحدوں میں کشیدگی میں اضافے پر تبادلہ خیال

تہران:ایران اور ترکی کے وزرائے خارجہ کا ترکی اور شام کی سرحدوں میں کشیدگی میں …