ہفتہ , 26 نومبر 2022

امریکہ کی جنوبی قفقاز میں اثرورسوخ بڑھانے کی ناکام کوشش

(تحریر: سید رحیم نعمتی)

ان دنوں واشنگٹن میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس جاری ہے جس میں دنیا بھر کے سربراہان مملکت شریک ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ اینتھونی بلینکن نے اس اجلاس کے دوران ایک مقامی ہوٹل میں آرارات میرزوین اور جیحون بیراموف، آرمینیا اور آذربائیجان کے وزرائے خارجہ سے ملاقات کی ہے۔ اینتھونی بلینکن کا یہ اقدام دونوں ہمسایہ ممالک میں جنگ شروع ہونے کے بعد پہلی بار ان کے وزرائے خارجہ میں ملاقات کا بھی باعث بنا ہے۔ اگرچہ اس ملاقات کو حالیہ جنگ کا طوفان تھم جانے کی علامت تصور نہیں کیا جا سکتا لیکن جو بات واضح ہے وہ یہ کہ امریکہ اس اقدام کے ذریعے جنوبی قفقاز کے اس دیرینہ تنازعہ میں بھرپور مداخلت کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس سے پہلے امریکہ کے ایوان نمائندگان کی سربراہ نینسی پلوسی آرمینیا کا دورہ کر چکی ہیں۔

نینسی پلوسی نے اس دورے میں آرمینیا کی حمایت کا اعلان بھی کیا تھا جس پر ترکی کا شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔ جمہوریہ آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان جاری تناو سے متعلق امریکہ کے ایک ساتھ مندرجہ بالا دو اقدام ظاہر کرتے ہیں کہ وہ یوکرین جنگ کے باعث پیدا شدہ صورتحال کے پیش نظر آرمینیا اور آذربائیجان تنازعہ میں بنیادی کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے۔ دراصل 1990ء کے عشرے میں امریکہ، روس اور ترکی نے چند دیگر ممالک سے مل کر "مینسک گروپ” تشکیل دیا تھا جس کا بنیادی مقصد نگورنو قرہ باغ تنازعہ میں ثالثی کا کردار ادا کرنا اور مناسب راہ حل تلاش کرنا تھا۔ لیکن اس گروپ کو کوئی خاطرخواہ کامیابی حاصل نہیں ہو سکی تھی۔ دو سال پہلے جب جنگ کا آغاز ہوا تو مینسک گروپ مکمل طور پر جنوبی قفقاز کے مسائل سے لاتعلق ہو گیا تھا۔

نگورنو قرہ باغ تنازعہ کے دوران صرف روس اور ترکی نے اس خطے میں جنگ بند کروانے میں اہم کردار ادا کیا تھا اور تب سے لے کر آج تک روس اور ترکی ہی جنوبی قفقاز میں زیادہ اثرورسوخ کے حامل رہے ہیں۔ اب یوں محسوس ہوتا ہے کہ امریکہ یوکرین جنگ اور اس میں روس کی مصروفیت کو اپنے لئے جنوبی قفقاز میں اثرورسوخ بڑھانے کا سنہری موقع تصور کر رہا ہے۔ امریکہ دراصل جنوبی قفقاز میں روس کی خالی جگہ پر کر کے نہ صرف اس خطے میں اپنی سابقہ موجودگی بحال کرنے کے درپے ہے بلکہ اسے امید ہے کہ وہ جاری تنازعات میں فیصلہ کن کردار ادا کر پائے گا۔ لیکن موجودہ زمینی حقائق کچھ اور ہی ظاہر کرتے ہیں۔ واشنگٹن کی جانب سے جنوبی قفقاز میں اس سنہری موقع سے فائدہ اٹھانے کی راہ میں بہت سی رکاوٹیں پائی جاتی ہیں۔

پہلی رکاوٹ روس ہے کیونکہ یہ تصور درست نہیں کہ یوکرین جنگ نے ماسکو کو اس قدر دباو میں ڈال رکھا ہے کہ وہ جنوبی قفقاز پر بالکل توجہ نہیں دے سکتا اور جیسا کہ امریکہ تصور کر رہا ہے جنوبی قفقاز میں طاقت کا خلا پیدا ہو گیا ہے۔ یوکرین جنگ روس کیلئے اس قدر بھاری نہیں کہ وہ جنوبی قفقاز میں اپنا اثرورسوخ استعمال نہ کر سکے۔ امریکہ کے سامے دوسری بڑی رکاوٹ ترکی ہے۔ ترکی اس وقت مکمل طور پر جمہوریہ آذربائیجان کا حامی ہے اور ہمیشہ سے اس کی حمایت کرتا آیا ہے۔ ترکی نے حتی نینسی پلوسی کی جانب سے آرمینیا کی زبانی حمایت کو بھی برداشت نہیں کیا اور اس پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ترکی کے نائب صدر فواد اکتای نے نینسی پلوسی کے بیان کو "تخریب کارانہ اور ناقابل قبول سفارتکاری” قرار دیا ہے۔

امریکی حکومت کیلئے اس مقصد کے حصول میں سب سے بڑی رکاوٹ خود واشنگٹن ہے۔ واشنگٹن میں سیاسی اثرورسوخ کا حامل ایک بڑا طبقہ ایسا ہے جسے کنزرویٹو سمجھا جاتا ہے اور وہ جنوبی قفقاز خطے میں جمہوریہ آذربائیجان کا شدید حامی ہیں۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ حتی اگر آذربائیجان جنگ کے ذریعے آرمینیا کی تمام سرزمین پر قبضہ بھی کر لے تب بھی امریکہ میں موجود یہ طبقہ اس کی حمایت جاری رکھے گا۔ اس طبقے میں شدت پسندانہ رجحانات کے حامل تھنک ٹینکس بھی شامل ہیں۔ مثال کے طور پر ہیڈسن سنٹر، ہیریٹج فاونڈیشن اور فاونڈیشن فار ڈیموکریسیز ڈیفنس جیسے اداروں کے نام قابل ذکر ہیں۔ کیونکہ اس طبقے میں شامل اکثر افراد کا تعلق ریپبلکن پارٹی سے ہے لہذا وہ ہر گز اینتھونی بلینکن یا نینسی پلوسی کو جنوبی قفقاز میں جاری پالیسی تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

واشنگٹن میں موجود آذربائیجان کی یہ حامی لابی اس قدر سیاسی اثرورسوخ کی حامل ہے کہ حتی اگر امریکی صدر جو بائیڈن بھی آرمینیا کی مدد کرنے کا فیصلہ کر لیں تب بھی وہ فیصلے محض وعدوں کی حد تک رہ جائیں گے اور ان پر عمل پیرا ہونے کی نوبت نہیں آئے گی۔ لہذا آرمینیا دورے کے دوران امریکی ایوان نمائندگان کی سربراہ نینسی پلوسی کی جانب سے آذربائیجان کو جغرافیائی حدود میں ممکنہ تبدیلی کی صورت میں شدید نتائج کی دھمکی بھی محض دکھاوے کی حد تک ہے اور اسے واشنگٹن کی مکمل حمایت بھی حاصل نہیں ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر امریکی حکومت یوکرین جنگ کو اپنے لئے جنوبی قفقاز میں بھرپور مداخلت کرنے اور اثرورسوخ بڑھانے کا سنہری موقع سمجھتی ہے تو وہ شدید غلط فہمی کا شکار ہے۔ ترکی اور روس اب بھی اس خطے کے موثر کھلاڑی سمجھے جاتے ہیں۔بشکریہ اسلام ٹائمز

یہ بھی دیکھیں

امریکہ کی داعش کے ذریعے دہشت گردی کی حمایت

(تحریر: ہادی محمدی) پیر 21 نومبر کی صبح سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی ایران نے میزائلوں …