ہفتہ , 26 نومبر 2022

ٹرانس جینڈر ایکٹ

(حکیم سید محمود احمد سہارنپوری)

عجیب اتفاق بلکہ المیہ ہے کہ اسلامی جمہوری ریاست میں ٹرانس جینڈر ایکٹ کی منظوری کی طرف مسلسل پیش قدمی ہورہی ہے۔ قرآن وسنتؐ سے متصادم قانون سازی ہورہی ہے اور بڑے ایوانوں کے ممبران خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہے ہیں ۔کیا سینیٹ اور قومی ممبران کو قوم نے لبوںپر تالا لگانے کے لیے ایوانوں میں بھیجا تھا، خدارا ہوش کریں! یہ اسلامی مملکت ہے یہ وہ پاکستان ہے جس کی بنیادوں میں مسلمانان برصغیر کا لہو شامل ہے۔ آزاد وطن حاصل کرنے کے لیے مسلمانوں نے خون اور آگ کے جس قدر دریا عبور کئے ان کا تصور محال ہے۔ ذرا 1947ء سے قبل کے حالات پر اک نظر ڈالیں۔ مسلمانوں کو کہاں مذہبی آزادی حاصل تھی؟ آج بھی ہندوستان میں مسلمان قوم گائے کی قربانی نہیں کرسکتے! 14 اگست 1947ء کو مسلمانوں کے اطمیان کی بڑی وجہ آزاد وطن کا حصول تھا۔

ایسا وطن جہاں اسلام کے مطابق زندگی گزاری جائے گی ایسی مملکت جہاں قرآن وسنتؐ کے مطابق قانون سازی ہوگی۔ یہی اصول پہلی دستور ساز اسمبلی نے قرارداد مقاصد کی منظوری کی شکل میں وضع کر دئیے تھے۔ قرارداد مقاصد میں بتایا گیا کہ یہاں اب ایسی قانون نہیں بنے گا جو شریعت اور شرعی اصولوں سے متضاد ہو ! اکابرین پاکستان اور محبان قائداعظم کو کیا معلوم تھا کہ 75-74ء برس بعد یہاں ٹرانس جینڈر ایکٹ کی آڑ میں ہم جنس پرستی کا ایسا بدبودار قانون بھی منظوری کی چادر میں لپٹا دیا جائے گا جسے سن کر اور پڑھ کر اہل عشق واہل عقیدت چکرا جائیں گے۔…اب ہم ٹرانس جینڈر ایکٹ کا جا ئز ہ لیتے ہیں !یہ کیو ں ہو ا،کس نے کرایا اور اس ایکٹ کے پس پر دہ کیا مقا صد ہیں؟ بظاہر یہ ایکٹ بہت خوبصورت اور متاثر کن ہے جو خواجہ سراؤں کے حقوق کے تحفظ کے نام پہ وجود میں آ رہا ہے اگر بات حقیقتاً ان کے حقوق کے تحفظ کی ہوتی اور نیت واقعتاً ان کی فلاح و بہبود ہوتی تو یقیناً کسی کو اعتراض نہ ہوتا بلکہ یہ بہت قابل تعریف و ستائش ہوتا لیکن یہ سن کر رونگھٹے کھڑے ہو جائیں گے کہ یہ قانون پیدائشی ہیجڑوں کے تحفظ کے لیے کم لیکن نئے ہیجڑے بنانے کیلیے زیادہ استعمال ہو سکتا ہے۔

گو کہ اس ایکٹ میں الفاظ کے چناؤ میں احتیاط سے کام لیا گیا ہے اور حتیٰ الامکان اسے خواجہ سراؤں کے امور کے متعلق قرار دیا گیا ہے لیکن جان بوجھ کر ایسے چور دروازے سے سامنے لایا گیا ہے جس سے کسی فرد کی جنس کا تعین قدرت کی طرف سے عطاء کی بجائے ذاتی محسوسات جذبات اور فطری میلان کی بنیاد پر ہوگا سیکشن 2 (N) میں مخنث (ہیجڑے) کی تین طرح کی تعریفیں کی گئی ہے”اول جو پیدائشی یا فطری طور پر مرد یا عورت نہیں بلکہ ان کا امتزاج ہیں دوم جو پیدائشی مرد تھے لیکن بذریعہ جراحی خود کو بدل لیا سوم ایک ٹرانس جینڈر مرد یا ٹرانس جینڈر خاتون یا خواجہ سراء یا کوئی بھی شخص جس کی صنفی شناخت یا صنفی اظہار ان معاشرتی معیارات یا ثقافتی توقعات کے برعکس جو اسے بوقت پیدائش تفویض کیے گئے تھے۔”اول الذکر تو وہ پیدائشی خواجہ سراء ہیں اور یہی اصل ٹرانس جینڈر ہیں ان پہ رائے کے اظہار کی ضرورت نہیں دوسری کیٹگری میں شمار لوگوں کی تعریف انتہائی مبہم اور غیر مکمل ہے اس میں قدرتی اور فطری وقوع پذیر تبدیلی یا جان بوجھ کر ایسی حرکت کے فرق کا ذکر نہیں یعنی اگر کوئی شخص جان بوجھ کر اعضاء میں تغیر و تبدل پیدا کرے تو یہ ایکٹ اسے روکنے یا سزا دینے کا کوئی میکنزم مہیا نہیں کرتا یعنی کھلی چھٹی…

تیسری قسم جو اصل فساد کی جڑ ہے اس تعریف میں مرد یا خاتون ٹرانس جینڈر خواجہ سرا کے ساتھ شخص( پرسن) کا لفظ بھی استعمال ہوا ہے ۔ انگریزی کا لفظ پرسن مرد و خواتین دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے حیرت انگیز طور پر ہیجڑے یا خواجہ سراء کی تین اقسام بیان کرنے کے بعد لفظ پرسن یعنی شخص کا اضافہ کیوں کیا گیا ؟کیا اس سے ایکٹ بنانے والوں کو بدنیتی عیاں نہیں ہوتی اسی طرح یہ بات بھی قابل غور ہے کہ کئی اس سارے معاملے کے تانے بانے کسی خفیہ تحریک سے تو نہیں جا ملتے تو جو اس آڑ میں کچھ اور مقاصد کی تکمیل چاہتے ہو؟ کیا یہ اضافہ ایک مکمل مرد یا مکمل خاتون کو ٹرانس جینڈر اور ٹرانس جینڈر سے مرد کو عورت اور عورت کو مرد کی شناختی دستاویزات کا استحقاق فراہم نہیں کر رہی؟ اور اگر ان سوالوں کا جواب مثبت ہے تو یقین جانیے کہ یہ سارے رستے ہم جنس پرستی کی دلدل کی طرف جاتے دکھائی دیتے ہیں کیونکہ مغربی دنیا میں ابتدا میں عورت کے حقوق پھر ٹرانس جینڈرز کے حقوق کی تحریکیں چلی تو انھیں بہت سراہا گیا لیکن گزرتے وقت کے ساتھ جب ان تحریکوں کے اصل مقاصد سامنے آئے تو ان تحریکوں کے مداحوں کو مایوسی ہوئی لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی تھی یہ زہر معاشرے کی رگوں میں سرایت کر چکا تھا اور ایک عفریت کی مانند اخلاقیات اور مذہب کو چٹ کر چکا تھا۔ یہ بات یہاں پر ہی ختم نہیں ہوتی اس ایکٹ کی ایک اور سیکشن مزید تباہ کن اثرات لیے ہوئے ہے۔ اب آتے ہیں اس ایکٹ کی سیکشن 2 (f) کی جانب جہاں صنفی شناخت کی تعریف بیان کی گئی ہے کہ "صنفی شناخت سے مراد کسی شخص ( پرسن)کی اندورنی اور شخصی حس کی بناء پہ وہ تعین کرے گا کہ وہ مرد ہے، عورت ہے یا دونوں کا ملغوبہ ہے یہ صنف اس کے پیدائشی صنف کے مطابق یا برعکس ہو سکتی ہے” قوم چاہتی ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ٹرانسجینڈر قانون کو کالعدم قرار دیا جائے یہ ہم جنس پرستوں کیلئے راہ ہموار کرنے کی سازش ہے۔

دکھ اس بات ہے کہ دینی جماعتیں اور قائدین مصلت کوشی کا شکار ہیں۔ آج کے حالات مفتی محمود احمد‘ شاہ احمد نورانی‘ پروفیسر غفور احمد‘ حکیم سرورسہانپوری‘ پیر کرم علی شاہ اور حافظ عبدالکریمؒ سمیت متحرک اور مثالی لیڈر شپ کو تلاش کررہے ہیں۔ یہ وہ زعمائے ملت تھے کہ جب بھی اسلامی روایات یا اعلیٰ اقدار کی عمارت میں نقب لگانے کی کوشش کی تو یہ صاحبان ملت سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوئے۔بشکریہ نوائے وقت

 

یہ بھی دیکھیں

متحدہ عرب امارات میں اسرائیلی رژیم کے سازشی منصوبے کا انکشاف

یروشلم: اسرائیلی رژیم کے ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ یہ حکومت دو ملین …