بدھ , 30 نومبر 2022

کیا تائیوان اگلا یوکرین بن سکتا ہے؟

(ستوتی مشرا)

کیا تائیوان اگلا یوکرین بن سکتا ہے؟ یہ وہ سوال ہے جس پر دفاع اور خارجہ پالیسی کے ماہرین امریکی ایوان نمائندگان کی سپیکر نینسی پیلوسی کے دورہ تائیوان کے بعد شروع ہونے والی چینی فوجی مشقوں کے بعد مہینوں سے غور کر رہے ہیں۔

گذشتہ چند ماہ میں حالات تیزی سے خراب ہوئے ہیں۔ امریکی صدر جوبائیڈن حال ہی میں کہہ چکے ہیں کہ امریکی فوج چین کے حملے کی صورت میں تائیوان کا دفاع کرے گی۔ اس معاملے میں یہ ان کا واضح بیان ہے۔

امریکی صدر کے اس بیان کا چین نے سخت جواب دیا اور اس معاملے کو شکایت کے طور پر امریکہ کے ساتھ اٹھایا۔

امریکی سپیکر نینسی پیلوسی کے دورے کے بعد امریکہ اور چین کے درمیان کشیدگی میں دوبارہ اضافہ ہوا۔ چین کا اب بھی دعویٰ ہے کہ جزیرہ اس کا اپنا حصہ ہے اور وہ کسی بھی بیرونی مداخلت کا راستہ روکنا چاہتا ہے۔

جواب میں چین نے فوجی مشقوں کا اعلان کیا جس میں تین ہفتے تک لائیو فائر کی مشقیں کی گئیں۔ اس طرح دو کروڑ 30 لاکھ آبادی کے ملک اور اس کی سات سو ارب ڈالر کی معیشت کے لیے خطرہ پیدا کیا گیا۔

ان مشقوں کے دوران پہلی بار تائیوان کے دارالحکومت تائپے کے اوپر سے گزرنے والے میزائل داغے گئے۔ ڈرونز نے قریبی جزیروں پر پرواز کی اور بحری جہاز تائیوان کو چین سے الگ کرنے والے آبنائے تائیوان سے گزرے۔

اس عمل کے بارے میں خود مختار جزیرے تائیوان کی فوج کا کہنا تھا کہ ’ناکہ بندی‘ کی مشق کے طور پر ایسا کیا گیا۔

چینی فوجی مشقوں کے نتیجے میں تائیوان جانے والے بحری جہازوں اور فضائی ٹریفک کے راستے میں بڑی رکاوٹ پیدا ہوئی اور علاقے میں ممکنہ لڑائی کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہو گیا باوجود اس کے کہ دنیا مشرقی یورپ میں روس کی یوکرین کے ساتھ جنگ کے عالمی اثرات سے نمٹنے میں مصروف ہے۔

اب جب کہ امریکہ تائیوان کی واضح حمایت میں سامنے آنے، جسے ماہرین طویل عرصے سے چلی آنے والی ’ایک چین پالیسی‘ میں تبدیلی کے طور پر دیکھتے ہیں، کے پیش نظر خطرات پہلے سے کہیں بڑھ گئے ہیں۔ لیکن کیا ایشیا میں یہ تنازع جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے؟ ماہرین کے درمیان اس معاملے پر اختلاف ہے۔

مائیکل چانگ، جنہوں نے تائیوان کی قومی سلامتی کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل تھے کی حیثیت سے 1996 میں تائیوان کے میزائل بحران کو سنبھالا، نے مشقوں کے دوران مقامی میڈیا کو بتایا کہ یہ چینی حملے کے منظر نامے کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔

لائیو فائر کی مشقیں فوجی طاقت کا مظاہرہ ہوتی ہیں جن میں لائیو گولہ بارود استعمال کر کے وہ تربیتی ماحول پیدا کیا جاتا ہے جو ممکن حد تک حقیقی جنگی ماحول کے قریب ہو۔

تائیوان کے اعلیٰ سکیورٹی اہلکار، جن کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، نے معمول سے ہٹ کر سخت اور براہ راست زبان استعمال کرتے ہوئے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ تائیوانی حکام واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ چین کی طرف سے جزیرے کی ناکہ بندی یا کسی سمندری جزیرے پر قبضہ جنگ تصور کیا جائے گا اور تائیوان ہتھیار نہیں ڈالے گا۔

ان حالات میں کہ جب چین کی فوجی صلاحیتیں تائیوان سے کہیں زیادہ ہیں اور فوجی صلاحیتوں کے مظاہرے سے دباؤ میں اضافہ یقینی ہے، جزیرے کے عوام کسی بھی صورت حال کے لیے تیاری کر رہی ہے اور کئی دہائیوں سے چینی حملے کے خوف میں جی رہی ہیں۔

چین اور تائیوان کے درمیان تنازع ماو زے تنگ کے دور میں خانہ جنگی کے دور کا ہے۔ چیئرمین ماؤ نے 1949 میں خانہ جنگی پر قابو پا کر عوامی جمہوریہ چین کی بنیاد رکھی۔

قوم پرست کومن ٹانگ کی حکومت کو تائیوان میں پسپا کر دیا جہاں تب خود مختار حکومت قائم ہے۔

بیجنگ اب بھی اس جزیرے کو اپنے حصے کے طور پر دیکھتا ہے اور ضرورت پڑنے پر طاقت کا استعمال کرتے ہوئے اسے بالآخر اپنے ساتھ شامل کرنے کا عزم رکھا ہے۔

لیکن تنازعے کے وقت نے صورت حال کو مشکل بنا دیا ہے کیوں کہ یہ صورت حال اس وقت پیدا ہوئی ہے جب چینی صدر شی جن پنگ، چیئرمین ماؤ کے بعد چین کے سب سے طاقت ور رہنما ہیں اوروہ تیسری بار ملک کے صدر بننا چاہتے ہیں جس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔

1996 میں ’آبنائے تائیوان کے تیسرے بحران‘کے مقابلے میں اب چین شی کے دور میں کہیں زیادہ مضبوط ہے۔ 1996 میں آخری بار بیجنگ نے تائیوان کے قریب میزائل داغے تھے۔

دہلی میں قائم آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن (او آر ایف) سے وابستہ ہرش وی پنت نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ ’شی نہیں چاہتے کہ وہ تیسری بار صدر بننے کے موقعے پر ایسے رہنما کے طور پر دیکھے جائیں جن کے بارے میں کمزوری کا تاثر ملتا ہو۔

’تیسری بار صدر بننا تاریخی عمل ہے، اور وہ چاہتے ہیں کہ انہیں تاریخ میں ایسے رہنما کے طور پر یاد رکھا جائے جس نے تائیوان کو چین میں شامل کیا۔‘

’اس لیے جو قیمت تائیوان کو ادا کرنا ہے اس میں اضافہ ہو گا۔‘

تاہم انہوں نے وضاحت کی ہے کہ چین کی موجودہ جارحیت زیادہ تر اس حقیقت کی وجہ سے ہے کہ بیجنگ نے پہلے ہی امریکی ایوان کی سپیکر پیلوسی کے دورے کے معاملے پر ’خود کو ایک کونے میں پیچھے ہٹا چکا تھا۔‘

چین، پیلوسی کا دورہ روکنے میں ناکام رہا اور ایسا لگتا تھا کہ وہ کچھ کر رہا ہے۔

چین اور تائیوان: فوجی طاقت کا توازن

دفاعی بجٹ
چین۔ 230 ارب ڈالر، تائیوان۔ 16.8 ارب ڈالر

فعال فوجی
چین۔ 20 لاکھ، تائیوان ایک لاکھ 70 ہزار

ٹینک
چین۔ 5250، تائیوان۔ 1110

توپیں
چین۔ 5854، تائیوان۔ 1667

طیارے

چین۔ 3285، تائیوان۔ 741

بحری جہاز

چین۔ 777، تائیوان۔ 117
پنت کا کہنا تھا کہ ’ایک بار جب اس (چین) نے آواز اتنی بلند کر دی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اب اسے ردعمل ظاہر کرنا ہے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ہو سکتا ہے کہ تائیوان کے ساتھ مکمل جنگ بیجنگ کے بہترین مفاد میں نہ ہو۔

مبصرین بڑی حد تک اس بات پر متفق ہیں کہ یہ مشقیں چین کی طرف سے پیلوسی کے دورے اور اسے روکنے میں ناکامی پر پیدا ہونے والے غم و غصے کو متوازن کرنے کے لیے اندرون ملک ساکھ بچانے کا عمل ہے۔

پروفیسر پنت مزید کہتے ہیں کہ بیجنگ، پیلوسی کے دورے کے موقعے پر صورت حال کو مزید خراب کرنے کی دھمکی دے کر امریکہ کے عزم کا امتحان لے رہا تھا لیکن اسے معلوم تھا کہ اس کے لیے راستے محدود ہیں۔

پروفیسر پنت نے مزید کہا کہ ’چین یہ بھی جانتا ہے کہ اس مرحلے پر تائیوان کے ساتھ مکمل جنگ ایک ایسی چیز ہے جو اس کے اپنے مفادات کے لیے زیادہ تباہ کن ہو سکتی ہے۔‘

ایسے خدشات بھی سامنے آئے ہیں کہ امریکہ اور چین، تائیوان پر جنگ کر سکتے ہیں، لیکن ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ ابھی تک کسی بھی ملک میں کشیدگی بڑھانے کی خواہش نہیں ہے۔

لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کا بڑے پیمانے پراپنا اثر نہیں پڑے گا تائیوان اور دنیا پر جس میں امریکہ اور چین کے درمیان تعلقات بھی شامل ہیں جو ایسے تناؤ کا شکار ہو رہے ہیں جس کی مثال نہیں ملتی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پیلوسی کا دورہ اور اس کے بعد چین کے ردعمل نے علاقے میں پہلے سے موجود صورت حال کو لمبے عرصے کے لیے تبدیل کر دیا ہے۔

تائیوان میں نیشنل چینگ چی یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر لیو ناچمن نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ ’مجھے توقع نہیں کہ صورت حال مزید خراب ہو گی بلکہ نئی پیدا ہونے والی صورت حال اسی سطح پر برقرار رہے گی۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’گذشتہ ہفتے میں ہم نے فوجی طیاروں کے خطرات کو تائیوان کے فضائی دفاعی شناختی زون (اے ڈی آئی زیڈ) سے درمیانی حصے کی طرف منتقل ہوتے دیکھا ہے۔

’یہ تائیوان کے کافی قریب ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین کے ان فوجی خطرات میں اضافے کا ارادہ ہے۔‘

مختصر مدت میں، تائیوان کو معاشی خدشات کے حوالے سے زیادہ فکر مند ہونا پڑ سکتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ چینی فوجی کارروائی تائیوان پر مکمل طور پر سامنے آ کر حملے کی طرح سیدھی نہ ہو: اس عمل میں تائیوان کو چین کی حکمرانی کو قبول کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کے لیے ناکہ بندی جیسی کارروائیاں شامل ہو سکتی ہیں۔

ایسے میں کہ جب ماہرین کا کہنا ہے کہ فائر کی مشقوں اور مزید تناؤ کے خوف کے باوجود تجارت معمول کے مطابق ہے، تائیوان کو ابتدائی طور پر ہوا بازی اور سامان کی ترسیل کے لیے متبادل راستے کی تلاش کرنے ہوں گی جس طرح پیلوسی 3 اگست کو متبادل راستے گئیں۔

سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کے فوجی منصوبہ سازوں نے طویل عرصے تک تائیوان کی ناکہ بندی کے بارے میں بات چیت کی ہے، لیکن اب تک انہوں نے اس طرح کے اقدام کو بہت زیادہ اشتعال انگیزی کے طور پر دیکھا ہے۔ ناکہ بندی کو عملی شکل دینے کی صلاحیت بیجنگ کو تنازعے کے دوران تائیوان کو مذاکرات کی میز پر لانے کا موقع فراہم کرے گی۔

ناچمن کے بقول: ’مجھے اس پر شک ہے کہ تجارتی راستہ باضابطہ طور پر بند کیا جائے گا۔ اس وقت بھی ہم نے دیکھا ہے کہ تجارتی راستے معمول پر آ چکے ہیں باوجود اس کے کہ چین کا دعویٰ ہے کہ وہ فوجی مشقیں جاری رکھے گا۔‘
’ اس سے بہت ممکنہ طور پر سامنے آنے والے معاشی عوامل یا تو چین کی طرف سے تائیوان پر عائد پابندیوں کا نتیجہ ہیں یا مختصر مدت میں تائیوان میں سرمایہ کاری کو لاحق وسیع تر خطرے کے تصورات۔‘

مجموعی طور پر پیلوسی کا دورہ جو تاریخی اور واشنگٹن کی جانب سے اب تک کی سب سے مضبوط حمایت کی علامت ہے، تائیوان کے لیے کافی مہنگا ثابت ہو رہا ہے۔

چین کے اندر حکام امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے تائیوان کی حمایت کے عزم پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ اگرچہ بہت سے ممالک نے مشقوں کی مذمت کی ہے لیکن انہوں نے ناکہ بندی کی مشق کو روکنے کے لیے براہ راست مداخلت نہیں کی۔

چین کے سابق دفاعی عہدے دار نے روئٹرز کو بتایا کہ ’یہ دیکھ کر کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے مشقوں کا کیا جواب دیا، تائیوان کے رہنما چینی فوج کے حملے کی صورت میں انہیں بچانے کے لیے ان پر اعتماد کرنے میں کتنا اعتماد کر سکتے ہیں؟‘

لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تائیوان جانتا تھا کہ اسے کیا قیمت ادا کرنا پڑے گی اور ایسا لگتا ہے کہ وہ صورت حال پر پرسکون انداز میں ردعمل دکھا رہا ہے۔

ناچمن کے بقول: ’ مختصر مدت کے لیے ہاں، اگر پیلوسی نہ آتیں تو یہ مشقیں اور پابندیاں نہ ہوتیں، کم از کم ابھی نہیں۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ تائیوان کے نقطہ نظر سے ان کے دورے کی علامتی اہمیت اب بھی باقی ہے۔

’ہو نہ ہو نقصانات کے مقابلے میں فوائد زیادہ ہوں گے۔ میرا خیال ہے کہ یہ وقت بتائے گا۔‘بشکریہ دی انڈپینڈنٹ

 

یہ بھی دیکھیں

کیا بن سلمان مصر کے سابق صدر”انورسادات”کا انجام بھگتیں گے؟

سعودی عرب کے ولی عہد اور موجودہ حکمران "محمد بن سلمان” کی جانب سے صیہونی …