ہفتہ , 26 نومبر 2022

عمران خان کا آڈیو لیکس سامنے آںے کے بعد چیف الیکشن کمشنر کے استعفیٰ کا مطالبہ

اسلام آباد:پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے آڈیو لیکس سامنے آںے کے بعد چیف الیکشن کمشنر کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی آنے والے دنوں میں مزید قسطیں بھی آنے والی ہیں۔

گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں طلبہ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ یہ دور مستقبل کی ٹیکنالوجی کا ہے لیکن بدقسمتی سے ہم نے اپنی انفارمیشن ٹیکنالوجی کی صنعت اور نوجوانوں کو جن تکنیکی مہارتوں سے لیس کرنا تھا، ہم نے وہ 20سال ضائع کردیے، 20سال پہلے بھارت کی انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ایکسپورٹس 140ارب ڈالر کی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے دور میں 32ارب ڈالر کی ریکارڈ ایکسپورٹس ہوئیں لیکن بھارت کی صرف انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ایکسپورٹس 140ارب ہیں تو اس سے اندازہ لگا لیں کہ ہم نے یہ 20سال ضائع کیے، ہم نے جو اقدامات کیے اس سے دوسرے سال میں ہماری ایکسپورٹس 35فیصد بڑھیں، تیسرے سال میں 45 فیصد بڑھیں جبکہ آخری سال میں 75فیصد بڑھیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے خصوصی انفارمیشن ٹیکنالوجی زون شروع کیے جس میں ٹیکس مراعات دیں، اس شعبے میں 30سال سے کم عمر نوجوان اپنی کمپنیاں بناتے ہیں اور ارب پتی بن جاتے ہیں، ہماری کوشش ہو گی کہ جب بھی ہماری حکومت آئی تو ہم آئی ٹی اسٹارٹ اپس کو مراعات دینی ہیں اور کوئی ٹیکس لاگو نہیں کریں گے۔

چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ جب بھی معاشرے میں ناانصافی ہو گی تو معاشرے کے تمام افراد اس کے خلاف کھڑے ہوں اور ان کا مقابلہ کرنے سیاست میں آئیں گے لیکن دو طبقے ایسے ہیں جو ان کے خلاف کھڑے نہیں ہوں گے، پہلا وہ جو بزدل ہیں جیسے کوفہ کے لوگ جنہیں معلوم ہے کہ حضرت امام حسینؓ حق پر تھے لیکن انہوں نے یزید کے ظلم سے ڈر کے امام حسینؓ کی مدد نہیں کی اور انسانی تاریخ کا سب سے بڑا سانحہ ہونے دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ دوسرا خود غرض آدمی بھی ناانصافی کے خلاف کھڑا نہیں ہوگا اور پاکستان کی ایلیٹ کا سب سے بڑا مسئلہ ہی یہی ہے کیونکہ وہ مطمئن ہے اور ان کی زندگی آسان ہے تو وہ سوچتے ہیں کہ ہم کیوں ظالم مقابلہ کریں اس طرح معاشرہ غلام بن جاتا ہے، ظلم اور خوف کے غلام بن جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک امریکی انڈر سیکریٹری ڈونلڈ لو وہ اکستان کے سفیر اسد مجید کو بلا کر 7مارچ کو ان سے کہتے کہ اگر آپ نے عمران خان کو وزارت عظمیٰ نہ ہٹایا تو پاکستان کو نتائج بھگتنے پڑیں گے، اگر آپ کو اس نے ہٹا دیا تو پھر ہم پاکستان کو معاف کردیں گے، یہ ہے وہ سائفر جو ہمارا سفیر دفتر خارجہ کو بھیجتا ہے اور وہ مجھے موصول ہوتا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ سات تاریخ کو امریکی سیکریٹری یہ دھمکی دیتا ہے کہ قومی اسمبلی میں عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش ہو گی جس میں آپ کو انہیں ہرانا ہے اور اس کے بعد اگلے دن قومی اسمبلی میں تحریک پیش کردی جاتی ہے جس کے بعد ہمارے 20 لوٹے بننے شروع ہو جاتے ہیں، 20 سے 25 کروڑ روپے سے ان کے ضمیر خریدے جاتے ہیں اور پھر ہمارے اتحادی باری باری جانا شروع ہو جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میرے نظریاتی رول ماڈل ڈاکٹر علامہ اقبال ہیں جنہوں نے غلام ہندوستان کے مسلمانوں کو جگانے کی کوشش کررہے تھے، اقبال کا شاہین تو وہ بنتا ہے جو اپنے ضمیز کی زنجیریں توڑ دیتا ہے، جب تک آپ غلامی کی زنجیریں نہیں توڑیں گے، آپ اقبال کے شاہین نہیں بن سکتے، آپ بڑے کام نہیں کر سکتے۔

ان کا کہنا تھا کہ آج کل دوسری طرح کی غلامی ہے جس میں آپ کو فتح کیے بغیر غلام بنا لیتے ہیں، آپ کو کنٹرول کرتے ہیں، اس امپورٹڈ حکومت کو حکم دیا جاتا ہے کہ روس سے تیل نہیں لینا، بھارت ہمارے ساتھ آزاد ہوا تھا اور وہ امریکا کا اسٹریٹیجک اتحادی ہونے کے باوجود 40فیصد کم قیمت پر روس سے تیل رہا ہے، میں روس سے اس پر مذاکرات کر آیا تھا کہ سستا تیل اور سستی گندم لیں گے لیکن ان غلاموں نے یہ نہیں کیا اور ہمارے اوپر کرپٹ ترین لوگوں کو مسلط کردیا گیا۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ 60فیصد کابینہ ضمانت پر ہے جنہوں نے آتے ہیں اپنے اوپر 1100 ارب کے کرپشن کیسز ختم کرنے شروع کیے اور قوم کو تاریخ کی بدترین مہنگائی میں دھکیل دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہم ان لوگوں کو اپنے اوپر تسلیم کر لیتے ہیں تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ جو ملک اپنی آزادی اور رائے حق پر کھڑا نہیں ہوتا، ناانصافی کا مقابلہ نہیں کرتا تو قومیں تباہ ہو جاتی ہیں، میری زندگی میں پاکستان ٹوٹا کیونکہ ہم نے مشرقی پاکستان سے انصاف نہیں کیا۔

تحریک انصاف کے چیئرمین نے کہا کہ 1947 میں 99فیصد مشرقی پاکستان کے عوام نے پاکستان کے حق میں ووٹ دیا تھا لیکن ہم نے ان سے انصاف نہیں کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اب پاکستان کا سب سے بڑا دھوکے باز اسحٰق ڈار آ رہا ہے جو ہمارے دور میں نہیں بلکہ مسلم لیگ(ن) کی حکومت میں باہر ملک بھاگا، نیب نے ان سے پوچھا کہ آپ کے والد کی سائیکل کی دکان تھی تو آپ کے پاس یہ اربوں پیسہ کہاں سے آیا تو کیونکہ یہ جواب نہیں دے سکتے تھے تو وزیراعظم کے جہاز میں بیرون ملک بھاگ گیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسحٰق ڈار ڈیل کے تحت واپس آ رہا ہے، یہاں چوروں کے ساتھ ڈیل ہوتی ہے، این آر او دیا جاتا ہے، اسی لیے چوری ختم نہیں ہوتی، اسی لیے ملک سے چوری اور منی لانڈرنگ نہیں رکتی، کیا ہم نے یہ تماشا بھیڑ بکریوں کی طرح دیکھنا ہے یا انسان بن کر کر اس ناانصافی کے خلاف کھڑا ہونا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وکی لیکس سے بات شروع ہوئی تھی، پھر ڈان لیکس آئی، اب ایک نئی آڈیو لیکس آئی ہے جس میں ایک چیز آئی ہے کہ چیف الیکشن کمشنر شریف خاندان کے گھر کا نوکر ہے، نواز شریف اس سے پوچھ رہا ہے کہ کس کو نااہل کرنا ہے اور کب الیکشن کرانے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین سے الیکشن کرانے کے لیے تین سال کوشش کرتا رہا لیکن اس الیکشن کمشنر نے نواز شریف اور زرداری کے کہنے پر یہ مشین نہیں آنے دیں تو ان لیکس کے منظر عام پر آنے کے بعد اس میں تھوڑی سی بھی شرم و حیا ہو تو وہ استعفیٰ دے دیں لیکن اس میں شرم و حیا نہیں ہے اس لیے ہمیں استعفیٰ لینا پڑے گا۔

عمران خان نے کہا کہ مریم نواز نے بھی جھوٹ بولنے میں پی ایچ ڈی کیا ہوا ہے، وہ کہتی ہیں کہ لندن تو چھوڑو میری تو پاکستان میں بھی کوئی پراپرٹی نہیں ہے، بعد میں پتہ چلتا ہے کہ بھائی کہتا ہے کہ چار مے فیئر کے محلات کی مالکن مریم ہے، اب وہ ان آڈیو لیکس میں شہباز شریف سے کہتی ہیں کہ بھارت سے توانائی کی پیداوار کی مشینری امپورٹ کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے جب کشمیریوں کے حقوق کی خلاف ورزی کر کے جب 5 اگست 2019 کو کشمیر کا اسٹیٹس تبدیل کیا تو ہم نے ان سے تمام تعلقات منقطع کردیے تھے، ابھی تک تعلقات ٹوٹے ہوئے ہیں لیکن مریم کا داماد وہاں سے مشینری منگوا رہا ہے اور وزیر اعظم اسے منع کرنے کے بجائے لانے کے طریقے بتا رہا ہے۔

سابق وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ آڈیو لیکس میں اور بھی کچھ آ رہا ہے، آنے والے دنوں میں اور بھی کچھ قسطوں کا انتظار کریں، سنا ہے کہ یہ آ رہا ہے کہ جس میں الیکشن کمیشن نواز شریف سے کہہ رہا ہے توشہ خانہ میں ان کو نااہل کردیں گے، یہ ہے کہ الیکشن کمیشن۔

انہوں نے اپنے خطاب کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ جو قومیں حق اور سچ پر کھڑی نہیں ہوتیں ان کا مستقبل نہیں ہوتا، جب ایک قوم میں اچھائی اور برائی کی تمیز ختم ہو جاتی ہے تو وہ مر جاتی ہے، تحریک پاکستان جیسی جتنی بھی بڑی تحریکیں ہیں ان میں نوجوان میں پراول دستے کا کردار ادا کیا تھا اور آپ سب نوجوان اپنے مستقبل کے لیے ہماری اس تحریک میں شامل ہوں۔

چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ میں نے ان چوروں کے خلاف جہاد کا اعلان کیا ہے، جب تک میں زندہ ہوں ان کا مقابلہ کروں اور جیت کر دکھاؤں گا۔

یہ بھی دیکھیں

استنبول میں پاکستانی بحری جہاز کا افتتاح،ترکیہ توانائی کیلئے بھی مدد کر رہا ہے، وزیراعظم

انقرہ:وزیراعظم شہباز شریف نے استنبول شپ یارڈ میں ترک صدر رجب طیب اردوان کے ہمراہ …