ہفتہ , 26 نومبر 2022

روسی چمگادڑوں میں کورونا جیسے نئے وائرس کی تشخیص

ماسکو:سائنسدانوں نے روسی چمگادڑوں میں SARS-CoV-2 ، کورونا وائرس جیسا نیا وائرس دریافت کرلیا ہے جس پر موجودہ تمام کورونا ویکسینز غیر مؤثر ہیں۔امریکی محققین کا کہنا ہے کہ روسی چمگادڑوں میں پائے جانے والے پروٹین کی شناخت ’کھوسٹا-2‘ (Khosta-2) کے نام سے ہوئی ہےجو انسانوں کے خلیوں میں جذب ہوکر انسانوں کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ماہر وائرولوجسٹ کا کہنا ہے کہ کھوسٹا-2 پر موجودہ تمام کورونا وائرس کی ویکسینز غیر مؤثر ہیں جس کے باعث ایک ایسی ویکسین تیار کرنے کی ضرورت ہے جو تمام حیوانات میں پائے جانے والے مختلف وائرس کے خلاف استعمال کی جاسکے۔

محققین کا کہنا ہے کہ حالیہ تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ سربیکو وائرس ایشیا سے باہر جنگلی حیات میں بڑی تعداد میں دریافت ہو رہے ہیں جو عالمی صحت اور کورونا وائرس کے پیش نظر جاری ویکسینیشن مہم کے لیے بھی خطرہ ہیں۔

وائرولوجسٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ دریافت ہونے والا نیا روسی وائرس ممکنہ طور پر دنیا کے کسی اور حصے میں بھی دریافت ہوا ہو لیکن چونکہ یہ کورونا وائرس کی طرح نہیں لگ رہا تھا اس لیے کسی نے اس پر دھیان نہیں دیا ہوگا۔

ماہرین کے مطابق کھوسٹا 1 اور کھوسٹا 2 ، 2020 کے دوران روسی چمگادڑوں میں دریافت کیے گئے تھے۔ تاہم ابتدائی مطالعے سے یہ بات سامنے آئی کہ یہ انسانی صحت کے لیے یہ اتنے خطرناک نہیں ہیں۔

بعدازاں ایک تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ کھوسٹا 2 پر کورونا وائرس کی موجودہ تمام ویکسینز غیر موثر ہیں واشنگٹن اسٹیٹ یونیورسٹی کی ایک ٹیم کے مطابق کھوسٹا-2 پروٹین کو بڑھا کر انسانی خلیوں کو متاثر کرتا ہے۔

اس کے علاوہ اومنی کورون سے متاثرہ شخص کے جسم میں وائرس کے خلاف اینٹی باڈیز موجود ہونے کے باوجود یہ اینٹی باڈیز کھوسٹا-2 وائرس کے خلاف مؤثر ثابت نہیں ہوئیں۔

یہ بھی دیکھیں

کھانے کے دوران پانی پینا صحت کے لیے کتنا فائدہ مند؟

واشنگٹن:طبی ماہرین ہمیشہ سے کھانے کے بعد پانی پینے کو ایک غیر صحت مند عمل …