بدھ , 30 نومبر 2022

توانائی بحران کے خدشات

(زمرد نقوی)

کہا جا رہا ہے کہ موجودہ یورپ کا توانائی بحران جو 52 برس پیشتر آیا تھا ماضی سے زیادہ شدید ہو گا نہ صرف یہ بلکہ بیلجیم کے وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ روسی گیس کے تعطل کی وجہ سے یورپ کو اگلے دس برس تک مشکل سردیوں کا سامنا ہو گا۔

یورپین امیر ممالک کوشش کر رہے ہیں کہ اپنے عوام کو سخت سردیوں سے بچانے کے لیے زیادہ سے زیادہ گیس کا ذخیرہ کر لیں چاہے انھیں کتنی ہی مہنگی کیوں نہ پڑے۔ نتیجے میں پاکستان جیسے غریب ترقی پذیر ملکوں کے لیے گیس نایاب اور انتہائی مہنگی دستیاب ہو گی۔

جب کہ سوئٹزر لینڈ میں توانائی کے اعلیٰ حکام نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ توانائی کی قلت کی وجہ سے سردی سے ٹھٹھرتے ہوئے عوام سڑکوں پر آ سکتے ہیں چنانچہ امن و امان کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہو کر خانہ جنگی کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔

امریکی جریدے فارچون نے خبردار کیا ہے کہ توانائی کے بڑھتے ہوئے بحران کی وجہ سے یورپ میں گھریلو بجلی کے بل اگلے سال 2 ہزار ارب ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں۔ کیونکہ جیسے جیسے روسی گیس کی سپلائی میں کمی آتی جائے گی جس کا امکان آنے والی سردیوں میں ہے کی وجہ سے توانائی بحران 1970 کی دہائی سے زیادہ شدید ہو جائے گا۔ اس طرح سے ایک عام یورپی گھرانے کی آمدنی کا بڑا حصہ بجلی بلوں کی نذر ہو جائے گا۔ جو معیار زندگی کی گراوٹ کا باعث بنے گا۔

یورپ میں گیس کی قیمتیں 2021کے آغاز کے مقابلے میں 12 گنا زیادہ بڑھ گئی ہیں اس کے باوجود توانائی کی قیمتیں تقریباً روزانہ نئے ریکارڈ قائم کر رہی ہیں۔ ایک برطانوی یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق جنوری 2023 تک برطانیہ کے نصف سے زیادہ گھرانے مہنگے ایندھن کی وجہ سے غربت کی دلدل میں جا پھنسیں گے۔ پوری دنیا اس وقت مہنگائی کی لپیٹ میں ہے۔

برازیل سے چین تک دالوں ، سبزیوں اور گوشت کی قیمتیں کئی گنا بڑھ چکی ہیں۔ ایک امریکی یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق آ ب و ہوا کی تبدیلیوں کے باعث عالمی سطح پر غذائوں کی پیداوار کس حد تک کم ہو چکی ہے۔ تحقیق سے اندازہ ہوا کہ ان تبدیلیوں کے سبب غذائوں کی پیداوار میں عالمی سطح پر 21فیصد کمی آئی۔ یہ معمولی کمی نہیں جس کی وجہ سے خوراک کی قیمتوں میں کافی اضافہ ہوا ہے اور دنیا بڑھ میں مہنگائی بڑھ گئی ہے۔

شدید گرمی اور شدید سردی دنیا بھر کے عالمی خوراک کے نظام کو تباہ کر رہی ہے۔ فصلوں ، غذا کو پکنے کے لیے مناسب درجہ حرارت چاہیے۔ سخت گرمی اور شدید درجہ حرارت کی وجہ سے ایک طرف اناج کم پیدا ہو رہا ہے تو دوسری طرف اناج میں فولاد، زنک اور پروٹین جیسے اہم غذائی جزاء کی مقدار کم ہو چکی ہے۔ جب کہ ان میں زہریلی گیسوں میں اضافہ ہوا ہے۔

وہ اربوں انسان جو یہ اناج کھا کر اپنا پیٹ بھرتے ہیں ان کی صحت اب سنگین خطرات کی لپیٹ میں ہے۔ ایک طرف ناقص پیداوار اور اس میں کمی تو دوسری طرف ماحولیاتی تباہی کی وجہ سے افریقہ ، آسٹریلیا، سینٹرل ایشیاء اور جنوبی ایشیاء جس میں پاکستان اور بھارت بھی شامل ہیں۔ وہاں زرعی زمین کا 10 فیصد رقبہ ناقابل کاشت ہو جائے گا یعنی وہاں کسی قسم کی کھیتی باڑی نہیں ہو سکے گی۔

دوسری طرف معاشی محاذ پر صورت حال یہ ہے کہ عالمی بینک نے خبردار کیا ہے کہ ترقی یافتہ ملکوں کی جانب سے شرح سود میں مسلسل اضافے سے ترقی پذیر ممالک کو تباہ کن نتائج کا سامنا ہوگا۔ اس اضافے سے عالمی کساد بازاری بڑھنے کا امکان ہے۔ یہ تسلسل برقرار رہنے سے ابھرتی مارکیٹوں اور ترقی پذیر ممالک کو تباہ کن صورتحال کا سامنا ہوگا۔ جس میں پاکستان سرفہرست ہے۔

سیلاب کی تباہ کاریوں کی وجہ سے پاکستان کی شرح نمو 2 فیصد تک گر جائے گی۔ عالمی بینک کے مطابق عالمی شرح نمو سست روی کا شکار ہونے کے نتیجے میں دنیا کے مزید ممالک کو کساد بازاری کا سامنا ہو سکتا ہے۔ امریکا، چین اور یورو زون جیسی 3 بڑی معیشتیں آیندہ ایک سال میں بہت تیزی سے معاشی سست روی کا شکار ہو جائیں گی۔ جس سے عالمی جی ڈی پی 0.5 فیصد سے بھی کم رہ جائے گی۔

موسمیاتی ماہرین کے ایک جائزے کے مطابق پاکستان میں حالیہ سیلاب کے پیچھے انسانی ساختہ عوامل بھی شامل ہیں جس میں درختوں کا بڑے پیمانے پر خاتمہ شامل ہے۔ کیونکہ یہ درخت ہی ہیں جو کاربن ڈائی آکسائیڈ کی اضافی مقدار کو جذب کر کے ماحولیاتی توازن قائم رکھتے ہیں۔ امپیریل کالج آف لندن کے ایک سینئر سائنسدان کا کہنا ہے کہ پاکستان کو آج جن قدرتی آفات کا سامنا ہے اس کی پیشن گوئی برسوں سے کی جا رہی تھی کہ خطے میں ڈرامائی طور پر انتہائی شدید بارشیں ہونگی۔ ذرا اندازہ کریں برسوں پہلے دنیا کی اس وارننگ کے باوجود ہمارے ارباب اقتدار کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی کہ ایک تہائی پاکستان سیلاب میں ڈوبا ہوا ہے اور وہ خود …بشکریہ ایکسپریس نیوز

یہ بھی دیکھیں

کیچڑ

(جاوید چوہدری) افلا طون اپنے استاد سقراط کے پاس آیا اور اس سے کہنے لگا …