بدھ , 30 نومبر 2022

کیا اپنوں کو ہی نوازنے آئے تھے؟

(محمد سعید آرائیں)

روزنامہ ایکسپریس کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے مزید 8 معاونین خصوصی مقرر کردیے ہیں جن کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے اور اس نئے تقرر کے بعد کابینہ کی تعداد70 ہوگئی ہے۔

برسوں قبل رقبے میں سب سے بڑا اور آبادی میں سب سے چھوٹے صوبے میں صرف ایک رکن بلوچستان اسمبلی اپوزیشن میں رہ گیا تھا اور باقی تمام ارکان اسمبلی کو بلوچستان کابینہ میں مختلف عہدوں سے نواز دیا گیا تھا اور اب ایک نئی مثال موجودہ اتحادی حکومت میں پیش کی گئی ہے جس میں 11 جماعتیں شامل ہیں اور صرف دو چھوٹی جماعتیں ایسی ہیں جن کو حکومتی عہدہ نہیں ملا۔

اے این پی کو کے پی کی گورنر شپ دی جانی تھی جس میں مولانا فضل الرحمن رکاوٹ بنے تو ایک قومی نشست رکھنے والی اے این پی کو وفاقی وزارت دینے کی کوشش کی گئی مگر انھوں نے لینے سے انکار کردیا اور سابق وزیر اعلیٰ کے پی آفتاب شیرپاؤ بھی وفاقی کابینہ میں شامل نہیں اور اب 8معاونین خصوصی کا حصہ بھی پیپلز پارٹی کو دیا گیا ہے کیونکہ سندھ میں برسر اقتدار اور اتحادی حکومت کی دوسری بڑی جماعت ہے جس کے پاس متعدد اہم وفاقی وزارتیں ہیں۔

قومی اسمبلی میں 85 نشستیں رکھنے والی مسلم لیگ (ن) نے 5 ماہ قبل وزارت عظمیٰ اور بعض اہم وزارتیں لی تھیں جس کے وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل سیاسی کم اور کاروباری زیادہ ہیں اور انھوں نے ملک میں مہنگائی بڑھا کر ماضی کی پنجاب کی سب سے بڑی پارٹی مسلم لیگ (ن) کو جولائی کے ضمنی انتخابات میں شکست سے دوچار کرا کر (ن) لیگ سے پنجاب کی حکومت بھی گنوائی اور آئی ایم ایف سے قسطیں ملنے کے بعد صورتحال میں بہتری کا جو خواب انھوں نے (ن) لیگی قیادت کو دکھایا تھا وہ بھی چکنا چور ہو گیا اور قرضے کی دو قسطیں ملنے کے بعد ڈالر کی مسلسل اڑان جاری ہے اور مہنگائی مسلسل بڑھ رہی ہے جس کی ذمے داری خود لینے کے بجائے وزیر خزانہ سیلاب پر ڈال کر بری الذمہ ہو جائیں گے اور مفتاح اسمٰعیل کے اس دوسرے تجربے کی ناکامی کے بعد دس اکتوبر کے بعد وہ آئینی طور پر وزیر خزانہ نہیں رہ سکیں گے ۔

محکمہ ریلوے کے ماضی کے کامیاب وزیر خواجہ سعد رفیق کو نہ جانے کیوں ہوا بازی کا محکمہ وزیر اعظم نے دیا ہوا ہے جب کہ مسلم لیگ (ن) میں میاں نواز شریف کی واپسی کی آئے دن تاریخیں دینے والے وفاقی وزیر میاں جاوید لطیف سمیت متعدد وزیر محکموں سے محروم ہیں۔بھٹو دور میں فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے میاں خورشید تو بھٹو حکومت کے خاتمے تک وزیر بے محکمہ ہی رہے تھے اور انھیں چار سال تک عہدہ نہیں ملا تھا جب کہ موجودہ اتحادی حکومت کا تو مستقبل بھی نظر نہیں آ رہا کہ کب اتحادی روٹھ جائیں یا کب کسی کے اشارے پر صدر مملکت وزیر اعظم کو اعتماد کا ووٹ لینے کا کہہ دیں اور کب نئے انتخابات کا بگل بج جائے۔

اتحادی حکومت میں یہ حال ہے کہ ان کی اپنی ہی پارٹی کے وزیر توانائی خرم دستگیر ہی اپنے وزیر اعظم کے اعلان کی تردید کر رہے اور کہہ رہے ہیں کہ وزیر اعظم کے اعلان کردہ تین سو یونٹوں تک فیول ایڈجسٹمنٹ کی رقم معاف نہیں کی جا رہی ہے بلکہ عارضی طور پر ملتوی کی جا رہی ہے جو یقینی طور پر سردیوں میں بجلی کے کم استعمال کے نتیجے میں جب بل کم ہوں گے تو یہ فیول ایڈجسٹمنٹ رقم وصول کرلی جائے گی۔

ملک بھر میں وزیر توانائی خرم دستگیر کے اپنے ضلع گوجرانوالہ سمیت بجلی بلوں کے خلاف مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ بل اور ٹائر جلا کر سڑکیں بلاک کی جا رہی ہیں، مظاہرین بل جمع نہ کرانے کا اعلان کرتے ہوئے حکومت میں بڑے حصے کی حامل مسلم لیگ (ن) سے پوچھ رہے ہیں کہ بیوی بچوں کا پیٹ پالیں یا بجلی کے بھاری بل ادا کریں۔

وزیر دفاع خواجہ آصف بھی عوام کو مشورہ دے رہے ہیں کہ پٹرول کی بچت کے لیے عوام پیدل چلیں یا سائیکلوں پر سفر کریں اور بجلی کی بھی بچت کریں تاکہ بجلی کے بل کم آئیں۔ وزیر توانائی سمیت متعدد (ن) لیگی وزیروں نے بارشوں سے قبل ملک میں بجلی کی بے پناہ لوڈ شیڈنگ کم ہونے کے بلند و بانگ دعوے کیے تھے مگر سخت گرمی میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ مزید بڑھ گئی تھی۔

بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق تو ملک میں حکومت کا وجود ہے ہی نہیں بلکہ موقعہ پرستوں کا ایک ٹولہ ہے جو جلد سے جلد اپنے اقتداری حصے وصول کرنے میں دن رات مصروف ہے شاید انھیں خطرہ ہے کہ نہ جانے کب اتحادی حکومت ختم ہو جائے اس لیے زیادہ سے زیادہ مفادات اور مال سمیٹ لیا جائے جس میں وہ کمی نہیں کر رہے اور اپنوں کو نواز بھی رہے ہیں۔

گیارہ بارہ جماعتوں کی حکومتوں میں شامل سیاسی رہنما اپنے اتحادیوں کو بھی بھول چکے ہیں جن سے وعدے کرکے شہباز شریف کو اپنا وزیراعظم منتخب کرایا تھا۔ پیپلز پارٹی سندھ کا گورنر ایم کیو ایم کا بنوا سکی نہ کے پی میں اے این پی کو گورنری دلا سکی اور حکومت بلوچستان میں پانچ ماہ بعد بھی اپنے اتحادی کو گورنر کا عہدہ نہیں دلا سکی ہے البتہ آئے روز وزیروں، مشیروں اور معاونین خصوصی کے نوٹیفکیشن ضرور جاری کیے جا رہے ہیں۔ مسلم لیگ ن والے صرف پنجاب میں اپنا گورنر بڑی مشکل سے لائے ہیں اور پیپلز پارٹی نے بھی جی بی میں اپنا گورنر مقرر کرالیا ہے۔

مولانا فضل الرحمن کے پی اور بلوچستان میں اپنے گورنر لگوانے کے لیے کوشاں ہیں اور باقی اتحادیوں کو کچھ نہیں ملا۔ مولانا کے صاحبزادے کے پاس مواصلات جیسی اہم وزارت اور جے یو آئی کے تین وزیر بھی حکومت کا حصہ ہیں۔ ایک سابق سینئر بیورو کریٹ نے اپنے ایکسپریس میں شایع ہونے والے کالم میں انکشاف کیا ہے کہ پاکستان سے بیرون ملک سرمایہ منتقل کرانے، شہریت دلوانے جیسے کام کرانے کے ایک ماہر نے انھیں بتایا ہے کہ اتحادی حکومت کے لوگ اپنا کمایا گیا ناجائز مال بیرون ملک محفوظ کرانے میں پہلے والوں سے بھی زیادہ پیش پیش ہیں اور بہت جلدی یہ کام کرا رہے ہیں۔

اتحادی حکومت کو عمران حکومت کی نااہلی اور آئی ایم ایف سے طے معاملات کا پتا تھا انھوں نے ریاست بچانے کی آڑ میں عمران خان کے خوف اور مزید مقدمات سے بچنے کے لیے عمران خان کو ہٹایا تھا یہ بھی سابق حکومت کی طرح عوام کے ہمدرد ہیں نہ ہی عوام کو ریلیف دینے آئے تھے بلکہ مہنگائی کا نیا ریکارڈ قائم کرنے عوام کے لیے بجلی گیس، پٹرول مہنگا کرنے آئے تھے۔

متعدد وزرا اپنا سوٹ پہننے کا شوق پورا کرنے آئے تھے تاکہ میڈیا میں منفرد نظر آئیں کیونکہ سوٹ پہنے بغیر یہ خود کو حاکم نہیں سمجھتے۔ اتحادی حکومت کو بھی عوام سے کوئی ہمدردی نہیں بلکہ انھوں نے عوام مخالفانہ اقدامات سے عوام کے دلوں میں اپنے لیے دوریاں بڑھا لی ہیں اور سب نے اپنوں کو نوازنا تھا اور مزید نوازیں گے۔ اب ان سے اچھائی کی توقع رکھنی بھی نہیں چاہیے۔بشکریہ ایکسپریس نیوز

یہ بھی دیکھیں

کیچڑ

(جاوید چوہدری) افلا طون اپنے استاد سقراط کے پاس آیا اور اس سے کہنے لگا …