بدھ , 30 نومبر 2022

آئی ایم ایف سے قرض لینے کے بعد بھی روپیہ گرنے کی کیا وجہ ہے؟

اتحادی پارٹنر کے مشورے پر غیر ضروری طور پر درآمدی بلوں کی ادائیگی کے لیے حکومتی فیصلے کی غلطی نے غیر ملکی کرنسی کے ذخائر کو ختم کر دیا ہے۔ حکمران مسلم لیگ (ن) کے ایک ذریعے کا دعویٰ ہے کہ آئی ایم ایف کے قرض کی منظوری کے باوجود اس اقدام سے ستمبر میں روپے کی قدر میں زبردست کمی ہوئی۔

تاہم مفتاح اسماعیل کے قریبی ذرائع کا خیال ہے کہ درآمدی بل کی ادائیگی روپے کی قدر میں کمی کی وجہ نہیں تھی۔ ذرائع کا خیال ہے کہ کریڈٹ ڈیفالٹ رسک پرسیپشن، تباہ کن سیلاب اور افغان فیکٹر وہ بڑی وجوہات تھیں جنہوں نے روپے کی قدر میں کمی کا باعث بنا۔

آئندہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے قریبی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے قدر میں کمی پر قابو پانے کے لیے اپنا ہوم ورک مکمل کر لیا ہے۔ ذرائع نے مزید دعویٰ کیا کہ پہلے تین ماہ کے اندر وہ امریکی ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر کو 200 روپے تک لے آئے گا۔

ڈار نے صارفین کو ریلیف دینے کے لیے بجلی کے نرخوں میں کمی لانے کی حکمت عملی تیار کی ہے۔ ذرائع کا مزید دعویٰ ہے کہ ڈار معاشی چیلنجز کی شدت کو سمجھتے ہیں لیکن انہوں نے اپنا ہوم ورک کر لیا ہے اور لوگ اس کا اثر ان کے چارج سنبھالنے کے بعد دیکھیں گے۔

اس سوال پر کہ اسحاق ڈار کیا مختلف کریں گے جو ان کے پیشرو مفتاح اسماعیل کرنے میں ناکام رہے، ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ڈار کے پاس بجلی کے نرخوں میں کمی، مہنگائی کو کم کرنے کے لیے قومی قیمتوں کی کمیٹیوں کو دوبارہ فعال کرنے اور زرمبادلہ کے حوالے سے سخت پالیسی کو یقینی بنانے کا منصوبہ ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان کی برآمدی صنعت درآمدی اشیا (65 فیصد) پر انحصار کرتی ہے جس سے درآمدی بل کا بڑا حصہ بنتا ہے۔ ایکسپورٹ پالیسی پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ اگر ضرورت پڑی تو ڈار ایکسپورٹ سیکٹر کو ٹارگٹڈ سبسڈی پر توجہ مرکوز کریں گے۔ ماضی میں ڈار نے ایکسپورٹ سیکٹر کو ٹارگٹڈ سبسڈی دینے کا عہد کیا اور اس سلسلے میں انہوں نے اپنا وعدہ پورا کیا۔

ڈار کی توجہ بجلی کی قیمتوں میں کمی اور مہنگائی کو کنٹرول کرنے پر ہو گی۔ آئی ایم ایف سے قرض کی منظوری کے بعد بھی روپے کی قدر میں بڑے پیمانے پر کمی کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں اسحاق ڈار کے قریبی ذرائع نے کہا کہ درآمدی بل کی ادائیگیوں میں حکومت کی جانب سے فیصلے کی غلطی روپے کے مقابلے ڈالر کی قدر میں کمی کی اہم وجہ ہے۔

مفتاح اسماعیل کے قریبی ذرائع نے دی نیوز کو بتایا کہ بجلی کے نرخ اکتوبر کے بعد سے کم ہونے کے پابند تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ بجلی کے نرخوں میں اضافہ دیرینہ ہے۔ عمران کی حکومت کو بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کرنا تھا لیکن وہ یہ غیر مقبول فیصلہ لینے سے گریزاں تھے۔ بالآخر مخلوط حکومت کو ٹیرف میں اضافہ کرنا پڑا۔بشکریہ شفقنا نیوز

یہ بھی دیکھیں

کیچڑ

(جاوید چوہدری) افلا طون اپنے استاد سقراط کے پاس آیا اور اس سے کہنے لگا …