بدھ , 30 نومبر 2022

پھلوں میں پائی جانے والی مٹھاس چینی کا صحت مند متبادل ہوسکتا ہے، تحقیق

فلوریڈا: سائنس دانوں کے مطابق سِٹرس پھلوں میں آٹھ نئی اقسام کی شکر دریافت ہوئی ہیں جو کھانوں اور مشروبات میں کم چینی استعمال کرنے میں استعمال کی جاسکتی ہیں۔ ساتھ ہی سائنس دانوں نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس کے سبب ذیابیطس کے خطرات بھی کم کیے جاسکتے ہیں۔

یونیورسٹی آف فلوریڈا کےمحققین کاکہناتھا کہ یہ مرکبات چکوتروں، مالٹوں اور نارگیوں پر کیے جانے والے تجربات کےبعد دریافت ہوئے جن میں سے سات بالکل نئے ہیں۔ دریافت ہونےوالی آٹھویں قسم،جو جاپان میں استعمال کی جاتی ہے، پہلے سائنتھیٹک قسم کے جانی جاتی تھی۔

تحقیق کی سربراہی کرنے والے فوڈ سائنٹسٹ ڈاکٹر یُو وینگ نے تحقیقی مقالے میں کہا کہ دریافت ہونے والی یہ اقسام مشروبات میں مٹھاس کی سطح کم کرنے کا ایک اضافی موقع ہے۔مصنوعی مٹھاس کا میٹھا ذائقہ برقرار رکھتے ہوئے چینی اور کیلوریز کم کرنے کے طریقے کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے، جس کو وزن کم کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

لیکن کچھ سائنس دانوں نے مصنوعی مٹھاس کے استعمال کے لیے خبردار کیا ہے کہ اس کے سبب ممکنہ طور پر موٹاپے، ذیابیطس اور دِل کے دورے کے خطرات بڑھا دیتا ہے۔

جرنل آف ایگریکلچرل اینڈ فوڈ کیمسٹری میں شائع ہونے والی تحقیق میں ماہرین کا کہنا تھا کہ تحقیق میں سامنے آنے والا نتیجہ مٹھاس کی نئی اقسام پیش کرتا ہے۔ امریکیوں کی چینی کے استعمال میں زیادتی انتہائی مہلک ہوسکتا ہے اور بعض اوقات بڑے صحت کے مسائل بشمول موٹاپے اور ٹائپ 2 ذیا بیطس کا سبب ہوسکتا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

چین میں کورونا جیسا ایک اور وائرس دریافت

ینان: سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ جنوبی چین میں موجود چمگادڑوں میں کووڈ کے …