بدھ , 30 نومبر 2022

اسحٰق ڈار کی واپسی: کیا ’ڈارنامکس‘ معیشت کو سہارا دے سکے گی؟

(راجہ کامران)

پاکستانی سیاست میں اتارچڑھاؤ جس تیزی سے آتے ہیں وہ دیکھنے والے کی عقل کو دنگ کردینے کے لیے کافی ہیں۔ آج سے 5 سال پہلے جب اسحٰق ڈار وزیرِاعظم کے جہاز میں بیٹھ کر بیرونِ ملک روانہ ہوئے تھے اس وقت یہ بات تصور کرنا بھی محال تھا کہ وہ کبھی وطن واپس بھی آسکیں گے، وزیرِ خزانہ بننا تو دُور کی بات ہے۔

مگر یہ پاکستان ہے اور یہاں کی سیاست کب کیا رخ اختیار کرلے کچھ بھی کہنا مشکل ہے۔ کل تک جو لوگ راندہ درگا تھے آج سجادہ نیشن ہیں اور جو نجات دہندہ کے طور پر لائے گئے تھے وہ دربدر ہورہے ہیں۔

اسحٰق ڈار کی واپسی اور مفتاح اسمٰعیل کے استعفے نے سیاست کو ایک نیا رنگ اور رخ دیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت جب اپنی آخری سانسیں لے رہی تھی، تب شہباز شریف وزیرِاعظم بننے کے لیے شیروانی سلوا چکے تھے اور اس وقت مفتاح اسمٰعیل کا نام بطور وزیرِِ خزانہ لیا جانے لگا تھا۔ پھر وہ مسلم لیگ (ن) کے دوسری مرتبہ وزیرِ خزانہ بھی بنے اور ان سطور کے تحریر کیے جانے تک وہ سرکار طور پر وزیرِ خزانہ ہی تھے۔

اس سے قبل مفتاح اسمٰعیل شاہد خاقان عباسی کے دور میں وزیرِ خزانہ رہ چکے ہیں اور انہوں نے وزیرِ خزانہ بنتے ہی اسحٰق ڈار کی متعدد پالیسیوں کو تبدیل کیا تھا جس میں روپے کی قدر میں استحکام کی پالیسی بھی شامل تھی۔

مفتاح اسمٰعیل نے جس طرح وزارتِ خزانہ کو چلایا اس سے لندن میں موجود مسلم لیگ (ن) کی قیادت سمیت پاکستان میں موجود قیادت بھی سخت نالاں تھی، مگر انہوں نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو بڑھانے، بجلی کو مہنگا کرنے، روپے کی قدر گرانے اور سبسڈیز کا بڑے پیمانے پر خاتمہ سمیت ایسے بہت سے اقدامات کیے جس سے ملک میں مہنگائی بڑھ گئی۔

کہا جاتا ہے کہ اسی بات کا خمیازہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو پنجاب اسمبلی کے ضمنی انتخابات میں شکست کی صورت میں اٹھانا پڑا اور پنجاب کا تخت نون لیگ کے ہاتھ سے نکل کر مسلم لیگ (ق) اور تحریک انصاف کے ہاتھوں میں چلا گیا۔

مگر کیا معیشت میں ہونے والی خرابی کے ذمہ دار صرف مفتاح اسمٰعیل تھے؟ کیونکہ جب عمران خان نے اپنی حکومت لرزتی دیکھ کر پیٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا تو حکومت کی تبدیلی کے باوجود ان قیمتوں کو واپس بڑھانے کا فیصلہ پارٹی قیادت کی لندن بیٹھک کے بعد ہی کیا گیا۔ جب پارٹی میں تقسیم بڑھی اور مفتاح اسمٰعیل کو کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تو وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف وزیرِ خزانہ کے دفاع میں میدان میں اترے۔

لیکن جب ہمیں مریم نواز کی ٹوئٹ کے ذریعے یہ معلوم ہوا کہ نواز شریف ایندھن مہنگا ہونے کے فیصلے پر پارٹی اجلاس سے اٹھ کر چلے گئے اور پھر خود مریم نواز نے بھی ایندھن کی قیمت میں اضافے کا دفاع نہ کرنے کا بیان دیا تو یہ بات طے ہوگئی تھی کہ مفتاح اسمٰعیل اب وزیرِ خزانہ نہیں رہ سکیں گے۔ اور اب بالآخر مفتاح اسمٰعیل کا بطور وزیر خزانہ سفر ختم ہوا۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) اس وقت سینیٹر اسحٰق ڈار کو معاشی نجات دہندہ کے طور پر پیش کررہی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ڈار کی واپسی سے معیشت میں بہتری ہوگی۔ یعنی مسلم لیگ (ن) نے اپنا سب سے اہم مہرہ سیاست میں اتار دیا ہے۔ اسحٰق ڈار کی واپسی کے ساتھ ہی انٹر بینک اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر سستا ہونے لگا اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی دیکھی جارہی ہے۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے ایس ای 100 انڈیکس 531 پوائنٹس یعنی 1.41 فیصد اضافے پر بند ہوا جبکہ روپے کی قدر 2 روپے 63 پیسے بہتر ہوئی اور ڈالر کمزور ہونے کے بعد 239 روپے 65 پیسے کم ہوکر 237 روپے 2 پیسے پر بند ہوا۔

اسحٰق ڈار بھی اپنے قائد نواز شریف کی طرح ایک وسیع سیاسی تجربہ رکھتے ہیں۔ گورنمٹ کالج لاہور کے 3 دوست نواز شریف، اسحٰق ڈار اور خواجہ آصف آج بھی بہترین دوست اور سیاسی حلیف ہیں۔ اسحٰق ڈار کا نواز شریف کے ساتھ دوستی کا سفر جوانی میں شروع ہوا اور پیرانہ سالی میں بھی جاری ہے۔

سن 1950ء میں پیدا ہونے والے اسحٰق ڈار نے گورنمنٹ کالج لاہور میں نواز شریف کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے کے بعد برطانیہ سے چارٹر اکاؤنٹنٹ کی پیشہ ورانہ تربیت حاصل کی۔ 1992ء میں مسلم لیگ (ن) کی پہلی حکومت قائم ہونے کے بعد وہ سرمایہ کاری بورڈ چیئرمین اور وزیرِ ممکت بنے اور ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی پالیسی وضع کی جو آج تک چل رہی ہے۔ اس کے علاوہ وہ وزیرِ تجارت بھی رہے مگر زیادہ شہرت انہوں نے بطور وزیرِ خزانہ حاصل کی۔ وہ اب تک تین مرتبہ وزیرِ خزانہ کے عہدے پر کام کرچکے ہیں اور اب چوتھی مرتبہ اس عہدے کا حلف اٹھانے جارہے ہیں۔

اسحٰق ڈار کے خلاف 2016ء میں ان کی حکومت کی موجودگی میں ہی نیب نے 130 ارب روپے بدعنوانی کے الزام میں ریفرنس دائر کیا۔ یہ اس طرح کا کوئی پہلا کیس نہیں تھا بلکہ اس سے قبل بھی اسحٰق ڈار پر بدعنوانی کے الزام عائد کیے جاتے رہے تھے۔ نیب نے دعوٰی کیا تھا کہ اسحٰق ڈار پر 179 بدعنوانی کے مقدمات قائم کیے گئے۔

نیب نے اسحٰق ڈار کے خلاف آمدنی میں اضافے کے علاوہ فلیگ شپ انویسٹمنٹ، ہارٹ اسٹون پراپرٹیز، کیو ہولڈنگز، کیونٹ ایٹن پلیس، کیونٹ سویلین لمیٹڈ، کیونٹ لمیٹڈ، فلیگ شپ سیکیورٹیز لمیٹڈ، کومبر ان کارپوریشن اور کیپیٹل ایف زیڈ ای سمیت 16 اثاثہ جات کی تفتیش کی۔ مگر ریفرنس آمدن سے زائد اثاثوں پر قائم کیا گیا۔ نیب کے مطابق اسحٰق ڈار نے 83 کروڑ روپے سے زائد کے مالی فوائد حاصل کیے ہیں اور انہوں نے گزشتہ 10 سال سے انکم ٹیکس ریٹرن بھی فائل نہیں کیا ہے۔

عمران خان کی حکومت میں مسلم لیگ (ن) کے دیگر رہنماؤں کی طرح اسحٰق ڈار کو بھی سختیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اسحٰق ڈار اس وقت چونکہ لندن میں تھے اس لیے تحریک انصاف کی حکومت نے انٹرپول سے ریڈ وارنٹ جاری کرنے کا مقدمہ پیش کیا مگر انٹرپول نے اس تحقیقات کے بعد ریڈ وارنٹ کی درخواست خارج کردی۔ اس کے بعد تحریک انصاف اور عمران خان نے اعلان کیا کہ وہ اسحٰق ڈار کو برطانیہ سے تحویل مجرمان معاہدے کے تحت وطن واپس لائیں گے۔ اس اعلان پر یہ انکشاف ہوا کہ برطانیہ کے ساتھ پاکستان کا ایسا کوئی معاہدہ نہیں، مگر یہ معاہدہ 2022ء میں ہوگیا۔ پھر تحریک انصاف نے اس حوالے سے برطانوی عدالتوں سے بھی رجوع کرنے کا اعلان کیا مگر عمل نہ ہوسکا۔

عدالت کی جانب سے مفرور قرار دیے جانے کے بعد ماڈل ٹاؤن میں موجود اسحٰق ڈار کے آبائی گھر کو حکومت نے قبضے میں لے کر بے گھر افراد کی پناہ گاہ میں تبدیل کردیا مگر عدالت کے فیصلے کے بعد یہ گھر انہیں واپس کردیا گیا۔

اسحٰق ڈار کی وطن واپسی کے بعد ملکی سیاست میں ہلچل دیکھی جارہی ہے اور فوری انتخابات کا مطالبہ کرنے والی پاکستان تحریک انصاف میں بھی اس وقت پریشانی دکھائی دیتی ہے۔ ایک جلسے میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اسحٰق ڈار کو شدید تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔ عمران خان کہنا تھا کہ اسحٰق ڈار کی واپسی کی باتیں ہورہی ہیں اور ان کے کیسز ختم اور انہیں این آر او دیا جارہا ہے۔ اسحٰق ڈار وہ شخص ہے جس نے حدیبیہ پیپر ملز میں نواز خاندان کے خلاف بیان حلفی دیا ہے کہ وہ ان کے لیے منی لانڈرنگ کرتے رہے ہیں۔ وہ (ن) لیگ کی حکومت میں وزیرِاعظم کے جہاز میں بیرون ملک فرار ہوئے۔

عمران خان نے یہ بھی کہا کہ اب مسلم لیگ (ن) بتارہی ہے کہ اسحٰق ڈار ملکی معیشت کو ٹھیک کردیں گے، مگر جب ہمیں حکومت ملی تو معیشت بدترین حالت میں تھی۔ بیرونی قرضہ بڑھ رہا تھا اور برآمدات روک دی گئی تھی۔ یعنی اس خرابی کے ذمہ دار اسحٰق ڈار ہی تھے۔

پاکستان تحریک انصاف کے سابق وزیرِ خزانہ شوکت ترین کا کہنا تھا کہ اسحٰق ڈار کو پاکستان میں بطور وزیرِ خزانہ معیشت چلانے کا طویل ترین تجربہ ہے۔ وہ 3 مرتبہ وزیرِ خزانہ رہ چکے ہیں مگر انہوں نے سابقہ دورِ حکومت میں روپے کی قدر کو مستحکم رکھا جس کی وجہ سے 2013ء سے 2017ء کے دوران برآمدات میں اضافے کے بجائے کمی ہوئی اور یوں ملک کو 10 ارب ڈالر کا نقصان ہوا جبکہ انہوں نے درآمدات کی مد میں 23 ارب ڈالر بڑھائے یعنی اسحٰق ڈار نے ملک کو 33 ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا۔

مفتاح اسمٰعیل اور اسحٰق ڈار کا حکومت چلانے کا طریقہ کار بہت مختلف تھا۔ مفتاح اسمٰعیل کاروبار اور تجارت کو بہت اہمیت دیتے تھے اور ان کے مطالبات کو مانتے بھی تھے لیکن اسحٰق ڈار اپنے فیصلوں پر ڈٹ جانے والے انسان ہیں۔ ان کی معاشی پالیسیوں کو ڈارنامکس کہا جاتا ہے۔

اسحٰق ڈار کے متعلق کہا جارہا تھا کہ انہوں نے حلف اٹھانے اور پاکستان آنے سے قبل ہی بطور وزیرِ خزانہ کام شروع کردیا تھا اور انہوں نے وزارتِ خزانہ کے اعلیٰ حکام کو بعض اہم معملات پر ہدایات جاری کردی تھیں۔ اسحٰق ڈار ان بینکوں کے خلاف کارروائی چاہتے ہیں جنہوں نے روپے کی قدر میں سٹے بازی کے ذریعے بڑے منافع کمائے ہیں۔ اس کے علاوہ اسحٰق ڈار آئی ایم ایف سے ازسرِ نو مذاکرات کے خواہش مند ہیں۔ وہ اپنی پاکستان آمد کے فوری بعد ہی آئی ایم ایف سے سرکاری سطح پر رابطہ کریں گے جبکہ ان کا رابطہ پہلے ہی غیر رسمی طور پر آئی ایم ایف اور دیگر قرض دینے والے کثیر ملکی اداروں سے ہوچکا ہے۔

اسحٰق ڈار نے لندن سے روانگی سے قبل میڈیا سے بات چیت میں کہا تھا کہ وہ جس وزارت کو چھوڑ کر لندن آئے تھے واپس اسی وزارت پر جارہے ہیں۔ انہوں نے عمران خان کی سابقہ حکومت پر کڑی تنقید کی اور اپنی حکومت اور اپنے طرزِ معیشت یعنی ڈارنامکس کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ جس وقت نواز شریف کی حکومت ختم کی گئی پاکستان کی معیشت تیزی سے ترقی کررہی تھی اور جس رفتار سے معیشت آگے بڑھ رہی تھی پاکستان سال 2023ء تک دنیا کی 18ویں بڑی معیشت بن جاتا۔ کم شرح سود کے ساتھ ترقی کی شرح بلند تھی، میکرو اکنامک انڈیکیٹر بلند سطح پر تھے۔ کم مہنگائی کے ساتھ زرِمبادلہ ذخائر تاریخ کی بلند ترین سطح پر تھے اور سب سے بڑھ کر ملکی کرنسی مستحکم تھی۔

مگر معیشت مستحکم کیوں تھی اس حوالے سے شوکت ترین کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی منڈی میں پاکستان کے لیے حالات سازگار تھے۔ عالمی منڈی میں اجناس کی قیمت 15 سال کی کم ترین سطح پر تھیں۔ ایندھن کی قیمت 40 سے 45 ڈالر فی بیرل کے درمیان تھی اور اگر اسحٰق ڈار چاہتے تو ملکی معیشت کو مستحکم کرسکتے تھے مگر انہوں نے روپے کو ڈالر کے مقابلے میں مضبوط رکھا جبکہ باقی تمام کرنسیاں ڈالر کے مقابلے میں گر رہی تھیں جس سے معیشت کو نقصان ہوا۔

مجھے مختلف ایونٹس میں اسحٰق ڈار کو بطورِ وزیر خزانہ کور کرنے کا موقع ملا ہے۔ اسحٰق ڈار اپنے مؤقف پر ڈٹ کر گفتگو کرنے والے انسان ہیں اور وہ مراعات دینے کے سخت مخالف تھے۔ جب وہ وزیرِ خزانہ تھے تب ایف پی سی سی آئی اور دیگر فورمز پر کاروباری برادری کی جانب سے بیل آوٹ دینے اور بیرونِ ملک رکھے اثاثوں کو ظاہر کرنے کے لیے اسکیم متعارف کرانے کا مطالبہ کیا جانے لگا مگر انہوں نے اس قسم کی کسی بھی ایمنسٹی دینے سے انکار کردیا۔ اسحٰق ڈار کا کہنا تھا کہ انہوں نے بیرون ملک رکھے اثاثوں کے حوالے سے تمام متعلقہ معاہدے کرلیے ہیں اور بہت جلد ان اثاثوں کی وصولی کا انتظام بھی مکمل کرلیا جائے گا۔

مگر کیا اسحٰق ڈار معیشت کو سنبھال پائیں گے؟ اس حوالے سے خدشات موجود ہیں۔ گزشتہ 5 سالوں میں معیشت میں ہونے والی تبدیلیوں اور بجٹ کی صورتحال کے علاوہ ملکی معیشت کے گورننس کے نظام میں بہت بڑی تبدیلیاں رونما ہوچکی ہیں۔ سب سے بڑھ کر اسٹیٹ بینک کو ایک خودمختار ادارہ بنا دیا گیا ہے اور اسٹیٹ بینک کی خودمختاری اسحٰق ڈار کو آزادانہ فیصلے کرنے خصوصاً ڈالر کی قدر کو مستحکم کرنے میں آڑے آسکتی ہے۔

اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے جمیل احمد کو گورنر مقرر کیا گیا ہے۔ قانونی طور پر اسحٰق ڈار نہ تو اسٹیٹ بینک کو کوئی حکم دے سکتے ہیں اور نہ ہی کسی قسم کی رعایت کی سفارش کرسکتے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اسحٰق ڈار اور اسٹیٹ بینک میں ایک نئی جنگ کا آغاز ہوجائے۔ دراصل اسٹیٹ بینک کے بنیادی کاموں میں بنیادی شرح سود کا تعین بھی ہے مگر اسحٰق ڈار اپنی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے کئی مرتبہ اسٹیٹ بینک کے اعلان سے قبل ہی مانیٹری پالیسی کے فیصلوں کا اعلان کرچکے ہیں جس کی وجہ سے اس وقت کے گورنر اسٹیٹ بینک کو شدید ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اسحٰق ڈار کا ہدف آئی ایم ایف کا پروگرام بھی ہے۔ وہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ آئی ایم ایف کا حالیہ پروگرام پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے اور اس میں ایسی شرائط کو مانا گیا ہے جو ملکی معیشت کے لیے درست نہیں ہیں۔ اسحٰق ڈار پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو بڑھانے کے بھی بظاہر خلاف نظر آئے ہیں۔

ماضی میں بھی اسحٰق ڈار کا آئی ایم ایف کے ساتھ سخت رویہ رہا جس میں انہوں نے مذاکرات سے بائیکاٹ بھی کیا۔ مگر سال 2013ء میں دستخط کیا گیا آئی ایم ایف پروگرام پاکستان کے ان 2 پروگرامات میں سے ایک ہے جس کو حکومتِ پاکستان نے مکمل کیا۔ اس سے قبل مشرف دور میں لیا جانے والے آئی ایم ایف پروگرام بھی مکمل ہوا تھا۔ اس پروگرام کے لیے آئی ایم ایف نے 16 نکات پر پاکستان کو ریلیف بھی فراہم کیا تھا۔ ممکنہ طور پر اسحٰق ڈار آئی ایم ایف سے مزید مراعات لینے کی کوششیں بھی کریں گے۔

اسحٰق ڈار ایسے وقت میں پاکستان واپس آئے ہیں جب عالمی برادری میں سیلاب کے بعد پاکستان کی مدد کرنے کے حوالے سے آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔ موجودہ حکومت نے اقوامِ متحدہ کے اجلاس میں اور اس کے ساتھ سائیڈ لائن ملاقاتوں اور انٹرویوز میں پاکستان کا مؤقف بیان کیا ہے کہ وہ سیلاب کی صورتحال کی وجہ سے آئی ایم ایف کے معاشی بحالی کے پروگرام پر مزید عملدرآمد نہیں کرسکتا ہے۔ اس حوالے سے اقوامِ متحدہ نے بھی پاکستان کے ساتھ ماحولیاتی انصاف کی بات کی ہے اور عالمی بینک نے تو 2 ارب ڈالر پاکستان میں سیلاب سے متعلق اقدامات کے لیے دینے کا بھی اعلان کردیا ہے۔ توقع یہی ہے کہ اسحٰق ڈار کے عہدہ سنبھالنے کے چند ہفتوں میں عالمی برادری کی جانب سے مزید امداد ملے گی جس سے پاکستان کو ڈالرز کی ضرورت پوری ہوسکے گی۔

اسحٰق ڈار عالمی سطح پر ایک جانی پہچانی سخصیت ہیں اور بین الاقوامی معاشی سیاست میں ان کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ وہ اپنے تجربے اور گفتگو سے عالمی مالیاتی اداروں کو قائل کرنے کی بھی صلاحیت رکھتے ہیں اور یہ بھی نوید ہے کہ اسحٰق ڈار کے وزیرِ خزانہ بننے کے بعد سی پیک منصوبے میں حائل رکاوٹوں کو دُور کرتے ہوئے بحال کریں گے۔

مگر سوال یہ ہے کہ نواز شریف کا رشتہ دار، جوانی کا دوست اور سخت گیر مؤقف رکھنے والا اسحٰق ڈار جس کو ماضی میں ڈپٹی وزیرِاعظم بھی کہا جاتا رہا ہے، اس کے تعلقات نواز شریف کے چھوٹے بھائی اور موجودہ وزیرِاعظم شہباز شریف کے ساتھ کیسے ہیں؟

کیا دونوں رہنماوں کی سوچ اور عمل میں تصادم پیدا ہونے کے امکانات موجود ہیں؟ اس بارے میں پارٹی قیادت بھی تشویش کا شکار ہے۔ ابھی تک شہباز شریف کے ماتحت اسحٰق ڈار نے کام نہیں کیا ہے لہٰذا یہ دیکھنا باقی ہے کہ دونوں قدآور شخصیات کس طرح باہمی طور پر مل کر ملک چلا سکیں گی۔

اسحٰق ڈار کو نواز شریف کی حکومت میں نہ صرف خزانے پر مکمل اختیار حاصل تھا بلکہ وہ نواز شریف کی ایما پر فوج، تحریک انصاف، ایم کیو ایم اور دیگر سیاسی جماعتوں سے جوڑ توڑ اور مذاکرات کے ماہر بھی تصور کیے جاتے تھے۔ اس لیے سب سے دلچسپ مرحلہ اب یہی دیکھنا ہے کہ اس بار اسحٰق ڈار کس حد تک حکومت کو معاشی اور سیاسی میدان میں کامیاب کراسکتے ہیں۔بشکریہ ڈان نیوز

یہ بھی دیکھیں

کیچڑ

(جاوید چوہدری) افلا طون اپنے استاد سقراط کے پاس آیا اور اس سے کہنے لگا …