بدھ , 30 نومبر 2022

روسی صدر کے جوہری بیانات پر ہمیں سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا: نیٹو

لندن:نیٹو کے سیکرٹری جنرل ہینز اسٹولٹن برگ نے کہا ہے کہ اگر ہم روسی صدر ولادیمیر پوتن کی طرف سے بار بار جوہری بیانات دیکھتے ہیں تو ہمیں اسے سنجیدگی سے اس پر غور کرنا ہوگا۔ہینز اسٹولٹن برگ نے ان خیالات کا اظہار یورپی پارلیمنٹ میں سوشلسٹ اور ڈیموکریٹس گروپ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ نیٹو کے یوکرین میں جنگ کے حوالے سے دو مشن ہیں ایک اس ملک کی حمایت کرنا اور دوسرا تنازع کو بڑھنے سے روکنا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ روس نے حالیہ دنوں میں "جعلی ریفرنڈم، جوہری دھوکہ دہی، مسلح افواج کو متحرک کرنے” کے ساتھ تنازعہ کو بڑھایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا پیغام یہ ہے کہ جوہری ہتھیاروں کا کوئی بھی استعمال قطعی طور پر ناقابل قبول ہے۔ اس سے تنازع کی نوعیت مکمل طور پر بدل جاتی ہے۔ روس کو معلوم ہونا چاہیے کہ جوہری جنگ نہیں جیتی جا سکتی اور نہ ہی لڑی جانی چاہیے۔

نیٹو کے سیکرٹری جنرل اسٹولٹن برگ نے کہا کہ اگر ہم پوتن کی طرف سے اس قسم کے جوہری بیانات کو بار بار دیکھتے ہیں، تو ہمیں اس پر سنجیدگی سے لین غور کرنا پڑے گا۔ اس لیے ہم ایک واضح پیغام دے رہے ہیں کہ اس سے روس کے لیے سنگین نتائج پیدا ہوں گے اور یہ کہ جوہری جنگ کبھی نہیں ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت یوکرین میں جاری جنگ بُری ہے اور یوکرینی عوام کے لیے یقیناً ایک المیہ ہے، لیکن نیٹو اور روس کے درمیان ایک مکمل جنگ اس سے بھی بدتر ثابت ہوگی۔

 

یہ بھی دیکھیں

یوکرین کے فوجی وفد کا خفیہ دورہ اسرائیل

کیف:یوکرین کا ایک فوجی وفد خفیہ دورے پر اسرائیل پہنچا ہے۔اطلاعات کے مطابق صیہونی ذرائع …