ہفتہ , 4 فروری 2023

جارح سعودی اتحاد نے ایک اور یمنی بحری جہاز کو قبضے میں لے لیا

صنعا:صنعاء کے ہوائی اڈے اور حدیدہ بندرگاہ کو دوبارہ کھولنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے تحریک انصار اللہ کے ترجمان نے اس ملک کے عوام کے مطالبات کا جواب دیئے بغیر یمن میں قیام امن کے کسی بھی دعوے کو باطل قرار دیا۔

یمن کی تحریک انصار اللہ کے ترجمان اور صنعاء میں نیشنل سالویشن گورنمنٹ کی مذاکراتی ٹیم کے ترجمان "محمد عبدالسلام” نے اپنے ذاتی ٹویٹر پیج پر تازہ ترین پیش رفت کے بارے میں لکھا ہے۔ ملک "یمن کے امور کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کے ساتھ ملاقات میں ہم نے صنعا کے ہوائی اڈے اور حدیدہ بندرگاہ کو دوبارہ کھولنے، ملازمین اور ریٹائر ہونے والوں کو تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی کی ضرورت پر یمن کے مضبوط موقف پر زور دیا۔

اپنے ٹویٹ کے تسلسل میں انہوں نے مزید کہا: یمن میں امن کے قیام کے دعووں کی کوئی اعتبار یا سنجیدگی اس وقت تک نہیں ہے جب تک ان ضروری انسانی معاملات کو تمام یمنیوں کے مطالبات کے بنیادی حصے کے طور پر نافذ نہیں کیا جاتا۔

یمن کے ایک اعلیٰ عہدے دار کا یہ موقف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ روز یمنی تیل کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ جارح سعودی اتحاد نے عارضی جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک اور یمنی بحری جہاز کو بھی قبضے میں لے لیا ہے۔

یمن کی آئل کمپنی کے اعلان کے مطابق یمنی بحری جہاز "سی ادور” نامی پٹرول کا ایندھن لے جانے والے جہاز کو جارح سعودی اتحاد نے معائنہ اور اقوام متحدہ سے ضروری اجازت نامے حاصل کرنے کے باوجود قبضے میں لے لیا۔

اس بنا پر یمن کی تیل کمپنی کے ترجمان عصام المتوکل نے اس بات پر زور دیا کہ اقوام متحدہ یمن میں ایندھن اور تیل سے ماخوذ لے جانے والے بحری جہازوں کی بحری قزاقی کے میدان میں سعودی اتحاد کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ نے 2 اگست کو یمن میں عارضی جنگ بندی میں مزید 2 ماہ کی توسیع کا اعلان کیا تھا۔ یمن میں جنگ بندی 2 اپریل کو اقوام متحدہ کی ثالثی سے شروع ہوئی تھی اور پہلی بار 2 جون کو اس میں مزید 2 ماہ کی توسیع کی گئی تھی۔

یہ بھی دیکھیں

حماس کی سوڈان اور صیہونی حکومت کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کی مذمت

مقبوضہ بیت المقدس:فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک "حماس” نے صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات کو …