ہفتہ , 26 نومبر 2022

آڈیو لیکس، کیا قومی راز محفوظ ہیں؟

(تحریر: سید اسد عباس)

آج کل پاکستان میں آڈیو لیکس سوشل میڈیا کی ایک اہم خبر ہے۔ کسی ہیکر نے وزیراعظم ہاؤس کی کالز کی ریکارڈنگز ہیک کرکے ان کو ڈارک ویب پر چڑھا دیا ہے۔ اب تک اس شخص نے تقریباً پانچ کالز کو ڈارک ویب پر چڑھایا ہے، جو یکایک پورے پاکستان میں پھیل گئیں۔ ان کالز نے جہاں پاکستانی سیاسی راہنماؤں کے حقیقی چہروں سے نقاب اٹھایا ہے، وہیں یہ مسئلہ ملک کے لیے نیشنل سکیورٹی کے ایک مسئلہ کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اگر وزیراعظم ہاؤس میں آنے والی کالز کا ڈیٹا محفوظ نہیں ہے تو ملک کا کوئی بھی راز محفوظ نہیں ہے۔ اگر ایک شخص اتنی اہم معلومات تک بآسانی پہنچ سکتا ہے تو ہمارے دشمن کہیں بھی جا کر اہم ترین ڈیٹا اٹھا سکتے ہیں۔ اپنے خیال میں ہم اپنی گفتگو اور قومی رازوں کو بہت محفوظ سمجھتے ہیں، تاہم ان آڈیو لیکس نے ہمارے اس بھرم کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔ اس نامعلوم شخص کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ وہ جلد چیف آف آرمی سٹاف اور آئی ایس آئی کے سربراہ کی آڈیوز بھی لیک کرے گا۔

ظاہراً ایسا لگتا نہیں کہ یہ کسی ایک انسان کا کام ہو، اس حوالے سے تحقیقاتی ادارے کام کر رہے ہیں۔ اس اہم مسئلہ کی سنگینی کے پیش نظر آج قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس منعقد کیا گیا، جس میں فیصلہ کیا گیا کہ ملکی اداروں میں سائبر سکیورٹی سے متعلق "لیگل فریم ورک” تیار کیا جائے گا۔ قومی سلامتی کمیٹی جس میں ملک کے اہم اداروں کے سربراہان، وزیراعظم اور ان کی کابینہ کے اہم اراکین شامل ہیں، ان کا یہ غیر معمولی اجلاس آج بروز بدھ وزیراعظم شہباز شریف کی صدارت میں وزیراعظم ہاوس میں منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں آڈیو لیکس کے معاملے پر تحقیقات کے لیے اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی کی تشکیل کی منظوری دی گئی، جس کے سربراہ وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ ہوں گے۔

آج کے غیر معمولی اجلاس میں وفاقی وزراء کے علاوہ افواج پاکستان کے سربراہ، حساس اداروں کے عہدیداران اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ ملک کے حساس اداروں کے سربراہان نے اجلاس کو وزیراعظم ہاؤس سمیت دیگر اہم مقامات کی سکیورٹی، سائبرسپیس اور اس سے متعلقہ دیگر پہلوؤں پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس کے شرکاء کو بتایا گیا کہ سوشل میڈیا پر زیرگردش آڈیوز کے معاملے پر تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ اس بریفنگ میں وزیراعظم ہاؤس کی سکیورٹی سے متعلق بعض پہلوؤں کی نشاندہی کی گئی اور ان کے تدارک کے لیے فول پروف انتظامات کے بارے میں بھی بتایا گیا۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ وزیراعظم ہاؤس سمیت دیگر اہم مقامات، عمارتوں اور وزارتوں کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جا رہے ہیں، تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کی کسی صورتحال سے بچا جا سکے۔

قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس نے مشاورت کے بعد سائیبر سکیورٹی سے متعلق "لیگل فریم ورک” کی تیاری کا فیصلہ کیا اور اس ضمن میں وزارت قانون وانصاف کو "لیگل فریم ورک” کی تیاری کی ہدایت کی۔ اجلاس نے اتفاق کیا کہ جدید ٹیکنالوجی اور سائیبر سپیس کے موجودہ تبدیل شدہ ماحول کے تناظر اور تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے سکیورٹی، سیفٹی اور سرکاری کمیونیکیشنز کے محفوظ ہونے کو یقینی بنانے کا جائزہ لیا جائے، تاکہ سکیورٹی نظام میں کوئی رخنہ اندازی نہ ڈال سکے۔ وزارت خارجہ کے سیکریٹری سہیل محمود نے وزیراعظم کے ازبکستان میں حالیہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہان مملکت کی کونسل اور نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 77 ویں اجلاس میں شرکت کے حوالے سے اجلاس کو بریفنگ دی۔ اجلاس نے ملک میں تاریخی تباہ کن سیلاب، متاثرین کے لیے ریسکیو، ریلیف کے اقدامات اور سلامتی کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا۔

اطلاعات کے مطابق ڈیٹا ہیک کرنے والے نامعلوم ہیکر سے مذاکرات کا سلسلہ بھی چلا ہے، جس میں اسے ڈیٹا کے بدلے خطیر رقم کی آفر کی گئی، اب اس دعوے میں کس قدر سچائی ہے، خدا ہی بہتر جانتا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ ہیکر کے پاس 8 جی بی آڈیو ڈیٹا موجود ہے۔ یہ ڈیٹا اگر وہ ہیکر پاکستان کو نہ بھی بیچے تو اسے دنیا میں اس ڈیٹا کے بہت سے خریدار مل سکتے ہیں۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ وہ ہیکر اس ڈیٹا کو بیچنا نہیں چاہتا ہے، نہ ہی وہ اس سلسلے میں کسی ڈیل کے لیے آمادہ ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ان آڈیوز کو لیک کرنے کا مقصد ملکی مفاد اور قوم کو آگاہ کرنا ہے۔ خدا کرے ہیکر کی نیت یہی ہو۔ یہ امر تو یقینی ہے کہ اگر ہیکر پاکستان میں موجود ہے تو وہ کبھی بھی حکومت کے ساتھ کوئی ڈیل نہیں کرے گا اور اگر وہ ملک سے باہر ہے تو بھی وہ اس ڈیٹا کے عوض کسی پاکستانی اہلکار سے ڈیل کرنے کے بجائے کسی محفوظ ملک سے ڈیل کرنے کو ترجیح دے گا۔ ہم جانتے ہیں کہ اس سلسلے میں کون کون سے ممالک ہیکر سے رابطہ کرسکتے ہیں۔ یہ واقعاً بہت سنگین واقع ہے۔

لیگل فریم ورک، تحقیقات، سیکورٹی کو بہتر بنانا تو سب ٹھیک ہیں، تاہم جو باتیں ان آڈیو لیکس میں نشر ہو رہی ہیں، وہ بھی کسی ایٹمی دھماکے سے کم نہیں ہیں۔ ایک جانب عوام کے سامنے پیڑول کی قیمتوں کے بڑھانے پر مگرمچھ کے آنسو بہائے جاتے ہیں اور دوسری جانب ان کو بڑھانے کی تشویق دلوائی جاتی ہے۔ عوام کو حاصل صحت سہولت کارڈ کی سہولت کو سیاسی اہداف کے لیے ختم کرنے کی باتیں، اسحق ڈار کو ملک میں واپس لانے کے لیے کی جانے والی کاوشیں اور ملک کی عدلیہ کے جج کے خلاف انتقامی کارروائی، یہ ان لیکس کا ایک بھیانک پہلو ہے، جس پر یقیناً موجودہ صاحبان اقتدار توجہ نہیں دیں گے۔ آڈیو لیکس کے اس واقعہ میں چھپے ہوئے مثبت پہلوؤں کے باوجود اس واقعہ کو اچھا نہیں کہا جاسکتا۔ ان سیاستدانوں سے بہت زیادہ اہم ہمارے ملک کے قومی راز ہیں۔ یہ واقعہ اس امر کی نشاندہی ہے کہ ہماری دشمن قوتیں کس کس طرح ہمیں نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ اس مسئلہ پر نیشنل سکیورٹی کا اجلاس اور لیگل فریم ورک کی تیاری ایک خوش آئند فیصلہ ہے، جو نیٹ کے عام ہونے سے بہت پہلے لے لیا جانا چاہیئے تھا۔بشکریہ اسلام ٹائمز

یہ بھی دیکھیں

’آرمی چیف کی تعیناتی کے بعد کیا چھڑی اور گھڑی کی سیاست ختم ہوسکے گی؟‘

(فہیم پٹیل | محمد عمید فاروقی) حالیہ دنوں میں پاکستانی سیاست میں سب سے زیادہ …