بدھ , 30 نومبر 2022

ایران میں فسادات کی صیہونی سرغنہ

(تحریر: علی امیری)

اسرائیل کے عبری زبان میں شائع ہونے والے اخبار معاریو نے اپنی ایک رپورٹ میں اسلامی جمہوریہ ایران میں حالیہ ہنگاموں اور فسادات میں ملوث ایک یہودی سرغنہ کا نام فاش کیا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق اس کا نام الہام یعقوبیان ہے، جو ایرانی نژاد امریکی شہری ہے اور یہودی ہے۔ الہام یعقوبیان گذشتہ کئی برس سے اسرائیلی جاسوسی ادارے موساد اور امریکی جاسوسی ادارے سی آئی اے کے ساتھ ایران میں موجود دہشت گرد عناصر کے رابطے کیلئے کوآرڈینیٹر کے طور پر کام کر رہی ہے۔ اس نے بدامنی، تخریب کاری، بلوا اور فساد ایجاد کرنے کی خصوصی ٹریننگ حاصل کر رکھی ہے اور حالیہ ہنگاموں اور فسادات کیلئے کافی عرصے سے ایران میں خصوصی ٹیمیں تشکیل دے رکھی تھیں۔ عبری اخبار معاریو کی رپورٹ میں آیا ہے: "الہام یعقوبیان یہودی الاصل ہے، جس نے امریکہ سے ایران میں خواتین کی تحریک چلا رکھی ہے۔”

کچھ دن قبل جب امریکہ کے شہر لاس اینجلس میں ایران مخالف مظاہروں کی تصاویر سوشل میڈیا پر شائع ہوئیں تو ان میں الہام یعقوبیان کی تصویر بھی دیکھی گئی تھی۔ اس نے کچھ دن پہلے عبری نئے سال کے بہانے سے اپنے فیس بک اکاونٹ پر ایرانی شہریوں کیلئے پیغام بھیجا اور انہیں ہنگاموں اور فسادات پر اکسایا۔ انہی دنوں اسرائیل کی غاصب صہیونی فورسز مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کرنے میں مصروف تھیں اور بیگناہ فلسطینی جوانوں اور مسجد اقصیٰ میں نمازیوں کے خلاف تشدد سے پیش آنے کے علاوہ انہیں گرفتار بھی کر رہی تھیں، لیکن الہام یعقوبیان نے اپنے پیغام میں ان کا ذکر تک نہیں کیا۔ اس نے اپنے پیغام میں لکھا: "آج یہودیوں کا نیا سال ہے اور اس دن پہاڑی بکرے کے سینگ سے بنا بگل بجایا جاتا ہے۔ یہ بگل بیدار ہونے کی علامت ہے۔ کاش ایران کے عوام بھی آزادی، امن اور خوشی حاصل کر پائیں۔”

الہام یعقوبیان اپنے ہم خیال افراد کی طرح یہودی قوم کو ایرانی ثقافت کا بانی تصور کرتی ہے۔ اس نے 2010ء میں بعض دیگر ایرانی یہودیوں سے مل کر لاس اینجلس میں ایک تھنک ٹینک تشکیل دیا ہے، جس کا نام "ایرانی یہودیوں کے مطالعہ اور تحقیق کا مرکز” ہے۔ وہ انتہائی جانبدارانہ انداز میں یہودی اقلیت کی تاریخ پر لیکچرز بھی دیتی رہتی ہے۔ غاصب صہیونی رژیم کے میڈیا ذرائع نے کچھ دنوں سے ایران میں انجام پانے والے ہنگاموں اور فسادات کو پہلی سرخی بنا رکھا ہے اور ان کا دعویٰ ہے کہ وہ ایران کے حالات پر بہت قریب سے نظر میں رکھے ہوئے ہیں۔ گذشتہ روز اسرائیلی میڈیا نے بہت واضح انداز میں صہیونی سکیورٹی اداروں کی جانب سے مایوسی کا اظہار کیا ہے اور اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے کہ ایران میں جاری ہنگامے برسراقتدار اسلامی نظام کو سرنگون کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔

اسرائیل ٹی وی کے چینل 13 میں فوجی تجزیہ کار آور ہیلر نے اس سوال کے جواب میں کہ آیا اسرائیلی سکیورٹی ادارے ایران کے حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں؟ کہا: "جی ہاں۔ ایران سے موصول ہونے والی تصاویر سے اس ہمیشگی آرزو کو تقویت ملتی ہے کہ ایران اندر سے ختم ہو جائے گا۔ یہ آرزو 1979ء میں (امام) خمینی کی قیادت میں انقلاب سے پائی جاتی ہے۔ لیکن اسرائیلی سکیورٹی عہدیداروں سے بات چیت کرنے کے بعد یہ کہہ سکتا ہوں کہ وہ اس بارے میں زیادہ امیدوار نہیں ہیں کہ موجودہ مظاہرے ایران میں تبدیلی لا سکیں گے۔” صہیونی ذرائع ابلاغ واضح طور پر اس حقیقت کا اعتراف کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ ایران حالیہ ہنگاموں اور فسادات پر قابو پانے میں کامیاب ہوگیا ہے اور ہنگاموں کی شدت میں واضح طور پر کمی آئی ہے۔ لہذا امریکی کوششیں بے سود ثابت ہوئی ہیں۔

مختلف ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیلی جاسوسی ادارے موساد اور امریکی جاسوسی ادارے سی آئی اے نے 2006ء میں الہام یعقوبیان کو مشرق وسطیٰ خطے میں کچھ اہم ذمہ داریاں سونپی تھیں۔ الہام یعقوبیان کو فارسی، انگلش اور عبری پر مکمل عبور حاصل ہے، جس کی وجہ سے اسے ایران میں جاسوسی کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ اسی طرح اسے امریکی نیوی سے وابستہ نیشنل گارڈز میں مشرق وسطیٰ خطے کی کوآرڈینیٹر کے طور پر مقرر کیا گیا تھا۔ الہام یعقوبیان کو جاسوسی اور تخریب کاری کی ٹریننگ کے ساتھ ساتھ لاس اینجلس کی کیلی فورنیا اسٹیٹ یونیورسٹی میں پولیٹیکل سائنس میں ماسٹرز کیلئے اسکالرشپ بھی فراہم کیا گیا تھا۔ مختلف رپورٹس کے مطابق الہام یعقوبیان کو دہشت گردانہ نیٹ ورکس تشکیل دینے میں خاص مہارت حاصل ہے۔

الہام یعقوبیان 1972ء میں تہران میں ایک یہودی گھرانے میں پیدا ہوئی تھی۔ اس نے ابتدائی تعلیم اتفاق نامی ایرانی یہودی اسکول میں حاصل کی اور انٹرمیڈیٹ ڈگری حاصل کرنے کے بعد آزاد یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔ اس نے 1994ء میں انگلش ٹرانسلیٹر کے شعبے میں بی ایس کی ڈگری حاصل کی۔ الہام یعقوبیان نے 2000ء میں ایک مصنف اور انسانی حقوق کی سرگرم رکن کے طور پر امریکہ کی شہریت اختیار کر لی۔ شروع میں اس نے لاس اینجلس میں امریکی یہودیوں کی فیڈریشن میں رکنیت اختیار کی اور تارکین وطن کی گائیڈنس کا کام شروع کیا۔ اس کے بعد دھیرے دھیرے اس کی سرگرمیاں بڑھتی چلی گئیں اور آخرکار 2010ء میں ایرانی یہودی تارکین وطن کی مدد سے ایک تھنک ٹینک تشکیل دیا۔بشکریہ اسلام ٹائمز

یہ بھی دیکھیں

کیچڑ

(جاوید چوہدری) افلا طون اپنے استاد سقراط کے پاس آیا اور اس سے کہنے لگا …