بدھ , 30 نومبر 2022

ایون فیلڈ ریفرنس: مریم نواز کی بریت کا مسلم لیگ ن کو کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے؟

(اعظم خان)

ایون فیلڈ ریفرنس میں میاں نواز شریف کو دس سال، مریم نواز کو سات سال جبکہ کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو ایک سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی۔ اب مریم نواز اور کیپٹن صفدر کو اس کیس میں بری کر دیا گیا ہے

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز شریف اور ان کے شوہر کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر اعوان کو جمعرات کے روز ایون فیلڈ ریفرنس میں بری کر دیا ہے۔

مریم نواز اور کیپٹن صفدر نے ایون فیلڈ ریفرنس میں نیب کی احتساب عدالت کی جانب سے سزاؤں کے خلاف اپیل دائر کر رکھی تھی جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے دونوں کو بری کیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ کا مختصر تحریری فیصلے میں کہنا ہے کہ مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی اپیلوں کی منظوری اور بریت کی وجوہات بعد میں جاری ہوں گی۔

بعض سیاسی اور قانونی ماہرین کے مطابق اب مریم نواز زیادہ پُراعتماد طریقے سے عملی سیاست میں حصہ لے سکیں گی اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ حکومت میں کوئی عہدہ بھی حاصل کر سکیں۔

مبصرین کے مطابق اس فیصلے سے جہاں ایک طرف مریم نواز کو فائدہ پہنچا وہیں ان کے والد اور پاکستان کے تین بار کے سابق وزیراعظم نواز شریف کی پاکستان واپسی کی بھی راہ ہموار ہوئی ہے۔

قانونی طور پر اگر کسی مقدمے سے شریک ملزم بری ہو جائے تو اس کا فائدہ دوسرے ملزمان کو بھی پہنچتا ہے۔

ایون فیلڈ ریفرنس میں احتساب عدالت کا فیصلہ کیا تھا؟
یاد رہے کہ ایون فیلڈ ریفرنس میں جرم ثابت ہونے پر اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سنہ 2018 میں مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں تین افراد کو سزا سنائی تھی، جن میں سابق وزیر اعظم نواز شریف، ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر شامل تھے۔

اس کے علاوہ نواز شریف کے صاحبزادوں حسن نواز اور حسین نواز کو اشتہاری قرار دینے کے لیے کارروائی کا آغاز کرنے کا حکم بھی دیا تھا۔اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سنہ 2018 میں ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نواز کو سات سال قید اور 20 لاکھ برطانوی پاؤنڈ جرمانے کی سزا سنائی تھی جبکہ ان کے شوہر کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنائی تھی۔سابق وزیراعظم نواز شریف کو بھی اسی مقدمے میں گیارہ سال قید اور 80 لاکھ برطانوی پاؤنڈ جرمانے کی سزا سنائی تھی جبکہ عدالت نے مریم نواز اور ان کے شوہر کا مقدمہ الگ کر دیا تھا۔

یہ ریفرنس اس وقت سامنے آیا تھا جب 20 اپریل 2017 کو پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے پاناما لیکس کیس کے فیصلے میں اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کے خلاف مزید تحقیقات کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے اعلیٰ افسر کی سربراہی میں چھ رکنی جے آئی ٹی بنانے کا حکم دیا تھا۔

اس کے بعد نیب نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف تین مختلف ریفرنس بنائے جن میں ایون فیلڈ ریفرنس جو لندن میں پراپرٹی سے متعلق تھا، جبکہ العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس شامل تھے۔

ان میں سے ایون فیلڈ ریفرنس اور العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کو سزا ہوئی جبکہ فلیگ شپ ریفرنس میں ان کو احتساب عدالت نے بری کر دیا تھا۔نواز شریف اور مریم نواز کی جانب سے ان سزاؤں کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی گئی تھی، جس پر مختصر فیصلہ اب سامنے آیا ہے۔

تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے مریم نواز کی پارٹی اور ملک میں پوزیشن بہتر ہوئی ہے’مریم نواز اب مزید اعتماد سے سیاست میں حصہ لے سکیں گی‘

صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ ظاہر ہے کہ اس فیصلے سے مریم نواز کی پارٹی اور ملک میں پوزیشن بہتر ہوئی ہے۔ ’وہ اب زیادہ اعتماد سے سیاست کر سکیں گی۔‘

ان کے مطابق ’مریم نواز کو اب کارِ حکومت میں بھی شریک کیا جا سکتا ہے اور انھیں کوئی سیاسی پوزیشن بھی مل سکتی ہے۔‘

ادھر سکندر بشیر مہمند قانونی امور پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ وہ سپریم کورٹ میں ن لیگ کے خلاف پانامہ مقدمہ میں وکیل بھی رہ چکے ہیں۔ بی بی بی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ’مریم نواز کو میرٹ پر ریلیف ملا ہے۔‘

’ابھی تفصیلی وجوہات آنا باقی ہیں کہ عدالت نے کس وجہ سے مریم نواز اور ان کے شوہر کیپٹن صفدر کو بری کیا ہے۔‘

تاہم سکندر مہمند کے مطابق نیب نے ایون فیلڈ ریفرنس کی پراسیکیوشن میں اتنی خامیاں اور خلا چھوڑے کہ جس کے بعد اپیل میں بریت کا فیصلہ آیا۔ ’مریم نواز اور کیپٹن صفدر پر اس مقدمے میں معاونت کا الزام تھا جبکہ نواز شریف اس ریفرنس میں مرکزی ملزم ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ وہ اس فیصلے کی ٹائمنگ پر کوئی تبصرہ نہیں کر سکتے تاہم یہ ضرور ہے کہ ’نیب نے یہ تک ٹرائل میں نہیں بتایا کہ لندن میں ایون فیلڈ اپارٹمنٹ کی قیمت کیا ہے اور یہ کیسے آمدن سے زائد اثاثوں کا کیس بنتا ہے۔‘

صحافی فرح ضیا کے مطابق اس فیصلے سے یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ پاکستان میں جب کسی جماعت کو پیچھے کرنا ہوتا ہے تو پھر ان کے خلاف کیسز مؤثر ہو جاتے ہیں مگر جب انھیں ریلیف ملتا ہے تو پھر صورتحال یکسر تبدیل ہو جاتی ہے، جیسی اب نظر آ رہی ہے۔

ان کے مطابق اسحاق ڈار بھی ملک واپس آ چکے ہیں اور اب وہ بھی اعتماد سے خزانہ کے امور کو دیکھ رہے ہیں۔ فرح ضیا کے مطابق ’یہ ایک میوزیکل چیئر کی طرح دکھائی دیتا ہے، ایک پُتلی تماشا کی طرح لگ رہا ہے۔‘ تاہم ان کے مطابق ’آج کی تاریخ میں کہا جا سکتا ہے کہ یہ ن لیگ کی جیت ہوئی ہے۔‘

ان کے مطابق ’ایسا لگ رہا ہے کہ یہ ن لیگ پر بھی ہاتھ رکھا ہوا ہے اور اب انھیں ایک ’سپیس‘ ملی ہے۔‘

سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ ’ن لیگ کو بڑے عرصے سے خوشخبریاں نہیں ملی ہیں۔ وہ ایک مشکل سے نکلے ہیں۔ ان کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے اور اب یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ آج کے فیصلے کی روشنی میں نواز شریف کی ملک واپسی کی راہ ہموار ہوئی ہے۔‘

ایک سوال کے جواب میں سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ عمران خان اور تحریک انصاف اب یہ فیصلہ تسلیم کر لیں گے۔ ان کے مطابق مسلم لیگ کے بیانیے کو اس فیصلے سے تقویت ملے گی۔

سکندر مہمند کا کہنا ہے کہ اگر مقدمے میں کوئی ملزم بری ہوجائے تو دوسروں تک بھی اس کا فائدہ پہنچتا ہے مگر یہاں معاملہ یہ ہے کہ مریم نواز اور کیپٹن صفدر پر معاونت کا الزام تھا اور انھیں اس طرح شریک ملزم نہیں کہا جا سکتا ہے۔

ان کے مطابق نواز شریف کو اس ریفرنس میں بھی وہی فائدہ ملے گا جو نیب سے پراسیکیوشن میں غلطیاں سرزد ہوئی ہیں۔

جبکہ فرح ضیا کے مطابق مریم نواز کی بریت سے ن لیگ کے اندر سیاسی وراثت کا سوال بھی اب سر اٹھائے گا۔ ان کے خیال میں ’اس فیصلے سے ن لیگ کے بیانیے کے لیے بھی ایک جیت ہوئی ہے کہ ہمیں ہدف بنایا گیا، ہم نے عدالتوں کا سامنا کیا ہے اور بریت حاصل کی ہے۔‘

واضح رہے کہ مریم نواز نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایک سوال پر کہا کہ وہ کئی برسوں سے عدالتوں میں دھکے کھا رہی ہیں اور پھر جا کر کہیں انھیں انصاف ملا ہے۔

خیال رہے کہ مریم نواز اور کیپٹن صفدر کو اس مقدمے میں جیل کی بھی سزا ہوئی ہے۔ سنہ 2018 کے عام انتخابات میں جیل میں تھے اور عدالت سے سزا کے بعد انتخابات میں حصہ لینے کے بھی اہل نہیں تھے۔

مریم نواز نے ایک صحافی کے جواب میں کہا کہ ’جس شخص نے یہ مقدمے بنائے اور چلائے وہ اس وقت کہیں سائیڈ پر ہے اور وہاں سے یہ سب دیکھ رہا ہے۔‘بشکریہ بی بی سی

 

یہ بھی دیکھیں

کیچڑ

(جاوید چوہدری) افلا طون اپنے استاد سقراط کے پاس آیا اور اس سے کہنے لگا …