بدھ , 30 نومبر 2022

سارہ انعام: اسلام آباد میں قتل ہونے والی ’اعلیٰ تعلیم یافتہ اور باصلاحیت‘ خاتون کون تھیں؟

(محمد زبیر خان)

میری اُس سے پہلی ملاقات 2011 میں ہوئی تھی اور وقت کے ساتھ ہماری دوستی گہری ہوتی چلی گئی۔ وہ پُرکشش شخصیت کی حامل ایک بےضرر انسان تھیں جنھیں اُمید تھی کہ ’جب میرے بچے ہوں گے، تو وہ میرے دوست ہوں گے۔‘

یہ کہنا ہے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں مبینہ طور پر اپنے شوہر کے ہاتھوں قتل ہونے والی سارہ انعام کی دوست سٹیفنی حبیب کا۔

سارہ انعام کو اُن کے شوہر نے اسلام آباد کے علاقے چک شہزاد میں واقع فارم ہاؤس پر مبینہ طور پر قتل کر دیا تھا۔ اُن کے شوہر اور اس کیس کے مرکزی ملزم شاہنواز فی الحال جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہیں۔

کینڈین نژاد پاکستانی خاتون سارہ انعام کے دوست، رشتہ دار اور اُن کے ساتھ کام کرنے والے کینیڈا، متحدہ عرب امارات اور پاکستان میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اس واقعے کی اطلاع اُن کے دوستوں کے لیے کسی قیامت سے کم نہیں تھی۔

سارہ انعام کی ایک اور دوست سارہ دناوی کہتی ہیں کہ ’میں سوچ بھی نہیں سکتی کہ سارہ اس طرح قتل ہو جائے گی۔ بہت سارے لوگوں کو شاید ابھی بھی اندازہ نہیں ہے کہ سارہ کتنی باصلاحیت اور پڑھی لکھی تھی۔ ہم اس وقت تک کھڑے رہیں گے جب تک انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوتے ہیں۔‘

بی بی سی نے سارہ انعام کے دوستوں، چچا (جو اُن کے قتل کیس میں مدعی مقدمہ بھی ہیں) اور رشتہ داروں سے بات کی ہے تاکہ اُن کی تعلیم اور کیریئر کے متعلق معلومات حاصل کی جا سکیں۔

حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق سارہ انعام نے کینیڈا کی یونیورسٹی آف واٹر لو سے سنہ 2007 میں آرٹس اور اکنامکس میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی تھی۔ یونیورسٹی آف واٹر لو کو دنیا بھر میں اکنامکس کی تعلیم کے لیے بہتر تعلیمی اداروں میں سمجھا جاتا ہے۔

تعلیم مکمل ہونے کے بعد سارہ نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز جونیئر ایویلیوئیشن افسر کی حیثیت سے کینیڈا ہی سے کیا تھا۔

سنہ 2010 میں انھوں نے ابوظہبی میں بزنس کنسلٹینسی کی کمپنی ’ڈیلوئیٹ‘ میں شمولیت اختیارکر لی جہاں وہ چار سال تک بحیثیت کنسلٹنٹ اور بعدازاں سینیئر کنسلٹنٹ خدمات سرانجام دیتی رہیں۔ اس نوکری کے بعد انھوں نے ابوظہبی کے ادارے ’ایجوکیشن اینڈ نالج‘ میں شمولیت اختیار کی۔

یہاں ملازمت کے دوران انھوں نے ابوظبہی میں ’تعلیم ہر بچے کے لیے‘ جیسے بڑے منصوبے پر کام کیا اور اسی منصوبے کے تحت پہلی مرتبہ ایک چارٹرڈ سکول کا قیام عمل میں لایا گیا۔

سنہ 2021 میں سارہ نے ابوظہبی کے ہی معیشت سے متعلقہ ادارے میں شمولیت اختیار کر لی جہاں ان کی بنیادی ذمہ داری سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کے لیے پالیسیاں ترتیب دینا تھا۔

سارہ دناوی کہتی ہیں کہ جب اُن کی سارہ انعام سے ملاقات ہوئی تو وہ اُس وقت اپنا مستقبل بہتر بنانے کی جدوجہد کر رہی تھیں۔ ’وہ اپنی زندگی میں ناصرف خود کامیاب ہوئیں بلکہ انھوں نے کئی دوستوں کو بھی بہتر مستقبل کی تعمیر کے مواقع فراہم کیے۔‘

سٹیفنی حبیب کے مطابق ’سارہ میرے جوائن کرنے سے پہلے ہی ڈیلوئیٹ میں کام کر رہی تھیں۔ میں نے جب کمپنی میں شمولیت اختیار کی تو انھوں نے میری ہر ممکنہ مدد کی۔ وہ محنتی، پُرجوش اور ذمہ دار شخصیت کی مالک تھیں جو اپنے سوا کسی پر بھروسہ نہیں کرتی تھیں۔ ایک حقیقی سنہری دل کی مالکہ۔ وہ ایک اور ہی قسم کی شخصیت تھیں جو دنیا میں شاید بہت کم ہوتی ہیں۔ اندازہ لگا لیں کہ کام کے دوران اگر میرا کھانا یا چائے چھوٹ جاتی اور اس کو پتا چلتا تو وہ پریشان ہو جاتی۔‘

سارہ کے ایک اور دوست سٹیفن نیش کہتے ہیں کہ ’متحدہ عرب امارات میں ہم سب لوگ کام کی تلاش اور بہتر زندگی گزارنے کے لیے موجود تھے۔ جہاں ہم لوگ اپنے خاندانوں سے دور ہوتے تھے وہیں سارہ انعام ہمارا سہارا ہوتی تھیں۔‘

سارہ دناوی کے مطابق ’میری سارہ سے دوستی کام کے دوران ہوئی تھی۔ وہ ہمیشہ مسکراتی رہتی تھی۔ اس کی مسکراتی ہوئی تصویر ابھی بھی میری آنکھوں کے سامنے سے نہیں ہٹ رہی۔ میں اور ہمارے تقریباً دس دوستوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز ساتھ ہی کیا تھا۔‘

’سارہ انعام کی بدولت ہمارے دس دوستوں کا گروپ بن گیا جو اپنی پیشہ ورانہ زندگی کے سلسلے میں دنیا کے مختلف ممالک میں موجود ہے۔ یہ فقط ایک گروپ نہیں بلکہ ایک خاندان تھا جسے ہم نے ’دی فیملی‘ کا نام دے رکھا تھا۔ ہم جہاں بھی ہوتے اور جو بھی کرتے، مگر سال میں ایک مرتبہ ملنے کی کوشش ضرور کرتے تھے اور اس ملاقات کا انتظام سارہ انعام کرتی تھیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ رواں برس بھی ہم دوبارہ ملنے کا پروگرام بنا رہے تھے اور ہمیشہ کی طرح سارہ ہی سارا انتظام کر رہی تھیں، ہم اب سوچ رہے ہیں کہ سارہ کے بغیر ’دی فیملی‘ کیسے چلے گئی اور کیا ہو گا۔

سٹیفنی حبیب نے بتایا کہ سارہ انعام کو مطالعے کا بہت شوق تھا۔ ’کبھی کبھی ابوظہبی میں اتفاقیہ طور پر اُن سے ملاقات ہوتی تو وہ کسی پارک یا کسی بھی مقام پر کسی بینچ پر بیٹھ کر کوئی کتاب پڑھ رہی ہوتی تھیں۔‘

سارہ دناوی بتاتی ہیں کہ وہ کیسے بھول سکتی ہیں کہ سارہ کتاب سے کتنی محبت کرتی تھیں۔ ’وہ فارغ ہوتیں تو اُن کا کام صرف اور صرف پڑھنا اور پڑھنا ہوتا تھا۔ سارہ کو سفر کرنا اور مختلف ثقافتوں کو تلاش کرنا پسند تھا۔ وہ مختلف زبانوں کو فوری طور پر سیکھ لیتی تھیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’ہمارے دوستوں کے گروپ نے ایک ساتھ بہت زیادہ سفر کیے ہیں۔ عمان سے لبنان اور ترکی تک۔ ہم لوگ مختلف میوزیمز اور مختلف مقامات پر ساتھ گئے۔‘

سٹیفن نیش کہتے ہیں کہ ’سارہ انعام ایک مفکر تھیں۔۔۔ ذہین اور نرم گفتار انسان۔ وہ اپنا فارغ وقت نان فکشن کتابوں کو پڑھنے میں گزارتی تھیں۔ تاریخ اور سیاست سے لے کر مذہب تک۔ ہم نے اکثر اس کو کسی نہ کسی کیفے کے کونے میں بیٹھ کر سکون سے کوئی نہ کوئی کتاب پڑھتے پایا ہے۔‘

سٹیفنی حبیب کے مطابق سارہ کو اپنے خاندان اور ثقافت کا بہت پاس تھا۔

’وہ ہمشیہ اپنے والدین کو خوش رکھنا اور انھیں محبت اور سکون فراہم کرنا چاہتی تھیں۔ وہ چاہتی تھیں کہ اُن کے والدین اُن پر فخر کر سکیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ وہ اکثر اپنے والدین اور دوست احباب کو ملنے کینیڈا اور پاکستان آتی جاتی رہتی تھیں۔ ’وہ اپنے والدین کو اپنے پاس ابوظہبی بلاتی تھیں، خاص کر وہ اپنی والدہ کے حوالے سے بہت زیادہ حساس تھیں۔‘

سٹیفنی حبیب کا کہنا تھا کہ ’وہ اپنی والدہ کا بہت خیال رکھتی تھیں۔ اکثر اُن کا ذکر کرتی تھیں۔ وہ اپنی والدہ کی بھی لاڈلی تھیں۔ میں جب سوچتی ہوں کہ اس کے والدین کس طرح اپنی بیٹی کے ساتھ ہونے والے واقعے کو برداشت کر رہے ہوں گے تو میرے دل میں ہول اٹھنے لگتے ہیں۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ اُن کے لیے اپنے خاندان سے بڑھ کر کوئی بھی نہیں تھا۔

وہ کہتی تھیں ’مجھے امید ہے کہ ایک دن ہمارے بچے بھی ہمارے دوست ہوں گے۔ اس بات سے اندازہ لگا لیں کہ اس کے لیے اپنے خاندان سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں ہو سکتا تھا۔‘

سارہ دناوی کہتی ہیں کہ عمر کے اس حصے میں اب وہ اپنی فیملی لائف شروع کرنا چاہتی تھیں۔ ’ہر کسی کی طرح وہ بھی چاہتی تھیں کہ وہ بھی کسی کو چاہییں اور اُن کو بھی کوئی بہت محبت دے۔ میں جانتی ہوں کہ اگر وہ ماں بن جاتی تو وہ کتنی عظیم ماں ہوتی۔ وہ اپنے مسقبل اور اپنی فیملی لائف کے حوالے سے ہم سے بات کرتی تھی۔‘

سٹیفن نیش کہتے ہیں کہ ’دی فیملی‘ بکھر چکی ہے۔ اب شاید اُن کا گروپ اُس طرح اکھٹا نہ ہو سکے جس طرح پہلے ہوتا تھا۔ ’مگر اب ’دی فیملی‘ کا ایک ہی مقصد رہ گیا ہے اور وہ یہ کہ سارہ انعام کو انصاف ملے، اس کے والدین کو انصاف ملے۔ اسی لیے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم لڑیں گے جس طرح بھی ممکن ہوا لڑیں گے۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ ’میں جب سوچتا ہوں کہ اس واقعے کے وقت سارہ کتنی خوفزدہ، پریشان ہوئی ہو گئی تو اُس وقت میں خود پریشان اور خوفزدہ ہو جاتا ہوں۔ میں تصور بھی نہیں کر سکتا کہ سارہ کے ساتھ ایسا سلوک ہوا ہو گا۔‘

سٹیفن نیش نے کہا کہ ’میں صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ والدین نے اپنی اکلوتی بیٹی کو کھو دیا ہے، جو ایک پیاری بہن اور خالہ بھی تھی۔‘

سارہ دناوی کہتے ہیں کہ ’اب سارہ واپس نہیں آ سکتی۔ مگر مجھے امید ہے کہ ہمیں انصاف ملے گا۔ دنیا بھر میں ان تمام خواتین کے لیے انصاف ملے گا جو اپنے شوہروں کے ہاتھوں تشدد برداشت کرتی ہیں اور قتل ہوتی ہیں۔‘بشکریہ بی بی سی

 

یہ بھی دیکھیں

کیچڑ

(جاوید چوہدری) افلا طون اپنے استاد سقراط کے پاس آیا اور اس سے کہنے لگا …