بدھ , 30 نومبر 2022

جنرل باجوہ نومبر میں ریٹائرڈ نہیں ہونگے؟

(سید عدیل زیدی)

پاکستان میں چیف آف آرمی اسٹاف کی تعیناتی کا معاملہ ہمیشہ سے ہی غیر معمولی اہمیت کا حامل رہا ہے، بعض مواقع پر سیاسی و عسکری قیادتوں کے مابین اس اہم تعیناتی کے معاملہ میں اختلافات اس قدر شدت اختیار کرگئے کہ حکومتیں ختم ہوئیں اور مارشل لاء لگے۔ ملک میں عمران خان کی حکومت کا خاتمہ اور پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کی مخلوط حکومت قائم ہوئی تو اس کے بعد سے نئے آرمی چیف کے تقرر کے معاملہ پر موجودہ حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے مسلسل بھرپور سیاسی داؤ پیچ کھیلے جارہے ہیں۔ گوکہ افواج پاکستان کی جانب سے آئی ایس پی آر کے ذریعے یہ واضح پیغام دیا گیا ہے کہ فوج سیاسی معاملات سے الگ اور غیر جانبدار رہے گی، اس کے باوجود سیاسی میدان میں ادارے کو کسی نہ کسی صورت گھسیٹا جارہا ہے۔ عام تاثر یہی ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ رواں سال 29 نومبر کو ریٹائر ہوجائیں گے اور نئے آرمی چیف کی تعیناتی شہباز شریف ہی کریں گے۔

اس صورتحال میں وفاقی دارالحکومت کے صحافتی حلقوں میں جنرل قمر جاوید باجوہ کی ریٹائرمنٹ کے معاملہ کو لیکر نئی بحث شروع ہوچکی ہے اور نئی رائے سامنے آرہی ہیں کہ شائد جنرل باجوہ رواں سال نومبر میں ریٹائر نہیں ہوں گے۔ اس حوالے سے عسکری معاملات پر گہری نظر رکھنے والے اسلام آباد کے سینئیر صحافی اور تجزیہ نگار قیصر محمود بٹ نے بتایا کہ عام طور پر یہی تاثر تھا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ رواں سال 29 نومبر میں ریٹائرڈ ہوجائیں گے۔ اس حوالے سے جنرل باجوہ کے اس اعلان کا بھی خاص طور پر حوالہ دیا جاتا رہا ہے کہ انہوں نے آئی ایس پی آر کی وساطت سے پہلے ہی یہ اعلان کر رکھا تھا کہ وہ اپنی مدت ملازمت میں مزید توسیع کے خواہشمند نہیں ہیں، یعنی وہ نومبر میں ہی ریٹائر ہوجائیں گے۔ اب اسلام آباد اور راولپنڈی کے سیاسی و عسکری حلقوں میں اس نئی صورتحال کو تقویت مل رہی ہے کہ جنرل باجوہ 29 مئی 2023ء تک اپنے موجودہ عہدے پر قائم رہیں گے۔

قیصر بٹ کا کہنا ہے کہ کیونکہ تیکنیکی اعتبار سے جنرل قمر جاوید باجوہ کی ریٹائرمنٹ 29 نومبر 2022ء کو نہیں بلکہ 29 مئی 2023ء کو ہوگی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عمران خان کے دورہ وزارت اعظمیٰ میں 29 نومبر 2019ء میں اس وقت کے چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے جنرل قمر جاوید باجوہ کو مدت ملازمت میں توسیع دینے والا نوٹیفکیشن مسترد کردیا تھا اور 28 نومبر 2019ء کو جنرل باجوہ کو چھ ماہ کی عبوری توسیع دینے کا حکم دیتے ہوئے حکومت سے اس معاملہ میں مناسب قانون سازی کا مطالبہ بھی کیا تھا۔ یہ قانون سازی پارلیمنٹ میں جنوری 2020ء میں کی گئی، جس کے بعد اس وقت کے وزیراعظم عمران خان کے مشورے پر صدر مملکت نے جنرل قمر جاوید باجوہ کو مزید تین سال کیلئے آرمی چیف مقرر کردیا تھا۔ لہذا تیکنیکی اعتبار سے جنرل باجوہ کو سپریم کورٹ کے مطابق پہلے ہی چھ ماہ کی توسیع مل جانے کے باعث اب یہ توجیہہ پیش کی جارہی ہے کہ نئی قانون سازی کے بعد آرمی چیف کو دی گئی تین سال کی توسیع کا اطلاق 29 نومبر 2022ء کی بجائے 29 مئی 2023ء تک ہوگا۔ اس صورتحال میں وزیراعظم شہباز شریف کو نئے آرمی چیف کی تعیناتی کا فیصلہ اب نومبر 2022ء کی بجائے مئی 2023ء میں کرنا ہوگا۔

ان کا مؤقف ہے کہ اگر اس حوالے سے پیش کی جانے والی توجیہات درست قرار پاتی ہیں تو آرمی چیف کی دوڑ میں شامل کچھ سینئر جرنیل تب تک ریٹائر ہوجائیں گے۔ یعنی سنیارٹی لسٹ میں موجود لیفٹینٹ جنرل آصف منیر، لیفٹینٹ جنرل اظہر عباس، لیفٹینٹ جنرل ساحر شمشاد، لیفٹینٹ جنرل نعمان محمود اور لیفٹینٹ جنرل محمد عامر اور لیفٹینٹ جنرل فیض حمید 29 نومبر 2022ء کی بجائے 29 مئی 2023ء کے دوران ریٹائر ہوجائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اس صورتحال میں مئی 2023ء میں سنیارٹی لسٹ تبدیل ہو جائے گی اور نئے آرمی چیف کی دوڑ میں موجود آئی ایس آئی کے چیف لیفٹینٹ جنرل ندیم انجم اور کور کمانڈر ملتان لیفٹینٹ جنرل چراغ حیدر پہلے اور دوسرے نمبر پر آجائیں گے۔ ان دونوں جرنیلز کی ریٹائرمنٹ 12 ستمبر 2023ء کو ہوگی۔ بعض باوثوق ذرائع کے مطابق یہ تجویز ہے کہ اگر جنرل قمر جاوید باجوہ کی ریٹائرمنٹ مئی 2023ء میں ہونی ہے تو ان کے بعد موجودہ سینئیر ترین جرنیل کو اگلے آرمی چیف کی دوڑ میں شامل رکھا جائے اور انہیں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی مقرر کردیا جائے کیونکہ اس عہدے پر اس وقت موجود لیفٹینٹ جنرل ندیم رضا بھی رواں سال نومبر میں ریٹائر ہورہے ہیں۔

قیصر محمود بٹ کے بقول ایسے میں سینئر ترین جرنیل ریٹائرمنٹ سے بچ جائیں گے اور انہیں مئی 2023ء میں جنرل قمر جاوید باجوہ کی جگہ آرمی چیف تعینات کرنے کا امکان موجود رہے گا۔ اس کے علاوہ موجودہ آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ کے بعد دو سینئر ترین جرنیلز لیفٹینٹ جنرل ندیم انجم اور لیفٹینٹ جنرل چراغ حیدر میں سے کسی ایک کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی تعینات کیا جاسکتا ہے۔ یاد رہے کہ موجودہ حکمران اتحاد پی ڈی ایم کی جانب سے عمران خان کے دور حکومت کے دوران مسلسل یہ پروپیگنڈا کیا گیا نومبر میں موجودہ آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ کے بعد جنرل فیض حمید کو چیف آف آرمی اسٹاف تعینات کیا جائے گا۔ اسی طرح دوسری جانب پی ٹی آئی بھی اپنی حکومت کے خاتمہ کا ذمہ دار امریکہ کے ساتھ ساتھ موجودہ آرمی چیف کو قرار دیتی رہی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور ان کے وزیر دفاع جنرل قمر جاوید باجوہ کی نومبر میں ریٹائرمنٹ کے معاملہ پر فی الحال خاموش دکھائی دیتے ہیں، تاہم موجودہ ملکی صورتحال کے تناظر میں اس امکان کو بھی رد نہیں کیا جاسکتا کہ وزیراعظم آرمی چیف کو چھ ماہ تک کی توسیع دینے پر رضامند ہوں گے۔بشکریہ اسلام ٹائمز

یہ بھی دیکھیں

ثانی زہرا حضرت زینب کبری (س) کا یوم ولادت پوری دنیا میں عقیدت و احترام کیساتھ منایا جارہا ہے

اسلام آباد: بنت علی، ثانی زہرا، شریکہ الحسین، حضرت زینب علیہا سلام کی ولادت باسعات …