بدھ , 30 نومبر 2022

روسی جوہری ایندھن اور ٹیکنالوجی جو صدر پوتن کی طاقت اور یورپ کی کمزوری بن چکے ہیں

(پیٹرا زیوک)

ماہر ماحولیاتی اُمور ولادیمیر سلویاک کو روس سے اس وقت فرار ہونا پڑا تھا جب ان کی تنظیم ’ایکو ڈیفنس‘ کو سنہ 2014 میں ’غیر ملکی ایجنٹ‘ قرار دے دیا گیا تھا۔ اس کے باوجود انھوں نے روسی جوہری ایندھن پر پابندیاں لگوانے کے لیے اپنی کوششوں میں کمی نہیں آنے دی۔

اب وہ جرمنی سے روس کی سرکاری جوہری ایجنسی روساٹوم کے خلاف اپنی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’یورپ میں کوئی بھی اس طرف نہیں دیکھنا چاہتا۔‘

ولادیمیر سلویاک کو یہ بات کافی عجیب لگتی ہے کہ ایک جانب روسی توانائی کے ذرائع مغربی سیاست دانوں اور میڈیا کے لیے بڑی پریشانی کا سبب ہیں تو دوسری طرف روسی جوہری ایندھن اور ٹیکنالوجی پر جاری انحصار کی پالیسی پر کوئی بات کرنے کو تیار نہیں۔

وہ سوال کرتے ہیں کہ آخر روسی جوہری ایندھن پر اس طرح پابندی کیوں نہیں لگائی جاتی جیسے تیل یا کوئلے پر لگائی گئی۔

ولادیمیر سلویاک نے آخری بار جس مظاہرے میں شرکت کی تھی، وہ لنجن شہر میں ایک جوہری ایندھن فیکٹری کے باہر کیا گیا تھا جہاں روسی یورینیئم پہنچایا جا رہا تھا۔

مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ جرمن حکومت روس کے ساتھ جوہری معاہدہ فوری طور پر ختم کرے۔ تاہم ان کے احتجاج کا کوئی اثر نہیں ہوا۔

جرمنی کی وزارت ماحولیات اور جوہری حفاظت کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’روسی گیس کے برخلاف روس سے جوہری ایندھن کی برآمد پر یورپی یونین کی جانب سے کوئی پابندی نہیں اور اسی لیے یہ تجارت ممکن ہے۔‘

واضح رہے کہ یورپی یونین نے 2030 تک روس کے ایندھن پر انحصار ختم کرنے کا اعلان کیا ہے جس کا آغاز گیس سے کیا جائے گا تاہم اب تک یورپی یونین نے صرف روسی کوئلے اور تیل پر پابندی عائد کی ہے، گیس اور جوہری ایندھن پر نہیں۔

ولادیمیر سلویاک اس صورتحال کو بدلنے کی کوشش کرنے والے اکیلے شخص نہیں ہیں۔

تقریبا 1800 کلومیٹر دور، یوکرین کے دارالحکومت کیئو میں، نتالیا لٹون انرجی ٹرانزیشن کوالیشن نامی ماحولیاتی تنظیم کی کوآرڈینیٹر ہیں۔ اُن کی تنظیم یورپی اور امریکی حکام سمیت بین الاقوامی اٹامک انرجی ایجنسی اور روسی سرکاری روساٹوم کے ساتھ تعلق رکھنے والی نجی کمپنیوں کو قائل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

اُن کا کہنا ہے کہ ’ہم اس بات کو سمجھتے ہیں کہ رہنما روس سے فوسل فیول کی برآمد روکنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ہم جوہری ایندھن کے بارے میں یہ بات نہیں کہہ سکتے۔‘

مغربی ممالک فروری 2022 میں یوکرین پر روس کے حملے کے وقت سے ہی کوشش کر رہے ہیں کہ روس کے تیل اور گیس پر انحصار کو کم کیا جائے۔

یورپی یونین کا کہنا ہے کہ روس سے گیس کی برآمد ایک سال کے اندر اندر دو تہائی تک کم کر دی جائے گی لیکن مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔

روس عالمی گیس منڈی کا ایک اہم کھلاڑی ہے۔ سنہ 2021 میں روس نے یورپ کو 45 فیصد گیس فراہم کی تھی۔ یورینیئم کے معاملے میں اس کا کردار قدرے محدود ہے۔ سنہ 2019 میں روس نے دنیا کا صرف آٹھ فیصد یورینیئم پیدا کیا۔

تاہم یورینیئم مائننگ جوہری ایندھن کی پیداوار کی جانب صرف پہلا قدم ہوتا ہے۔

امریکہ کی کولمبیا یونیورسٹی میں ریسرچ سکالر ڈاکٹر میٹ بووین کا کہنا ہے کہ ’دراصل یہ جوہری ایندھن کی پیداوار کے اگلے دو اہم مراحل ہیں جن کی وجہ سے روس بین الاقوامی منڈی میں اہمیت رکھتا ہے۔‘

جوہری ایندھن تیار کرنے کے لیے خام یورینیئم زمین سے نکالنی ہوتی ہے اور اسے یورینیئم آکسائیڈ سے ملایا جاتا ہے جس کے بعد اسے یورینیئم ہیکزا فلورائیڈ میں تبدیل کیا جاتا ہے اور آخری مرحلے میں یورینیئم راڈ تیار ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر میٹ بووین نے اپنی ایک تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ عالمی طور پر یورینیئم کی اس تبدیلی میں 2020 میں روس کا 40 فیصد حصہ تھا اور 2018 میں 46 فیصد۔

تاہم روس صرف جوہری ایندھن ہی برآمد نہیں کر رہا۔ روساٹوم دنیا میں جوہری ری ایکٹرز بنانے والا سب سے بڑا ملک ہے۔

سنہ 2021 میں روسی سرکاری جوہری ایجنسی بنگلہ دیش سے ترکی تک ایک درجن سے زیادہ ری ایکٹرز تیار کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی تھی۔

ڈاکٹر میٹ بووین کا کہنا ہے کہ ’مغرب کو روس کی اس حد تک عالمی جوہری میدان میں سرگرمی کو کم کرنے کی ضرورت ہے لیکن اس کے لیے پیسہ اور وقت صرف کرنا ہو گا۔‘

مغرب کے لیے روسی کردار کو محدود کرنا اس لیے بھی مشکل ہو گا کیوں کہ متعدد ری ایکٹرز روسی ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہے ہیں۔

صرف یورپ میں 2021 میں 30 سے زیادہ ری ایکٹرز روسی ساختہ وی وی ای آر تھے۔ وی وی ای آر واٹر-واٹر انرجیٹک ری ایکٹر کا مخفف ہے۔ ان میں سے بیشتر روسی جوہری ایندھن پر چلتے ہیں۔

یوکرین کے زاپوریژیا نیوکلیئر پلانٹ، جو اب روس کے کنٹرول میں ہے، میں تقریبا چھ وی وی ای آر ری ایکٹرز ہیں۔

واضح رہے کہ یوکرین اپنی توانائی کی نصف ضرورت جوہری ذرائع سے پوری کرتا ہے، سلوویکیا اور ہنگری کی طرح۔

نتالیا لٹون کی تنظیم یورپی حکام کو خبردار کرنے کی کوشش کر ہی ہے کہ کئی ممالک کے پاس روسی ایندھن خریدنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے۔

اُن کا کہنا ہے کہ بلغرایہ اور ہنگری کسی دوسرے ایندھن کو استعمال نہیں کر سکتے کیونکہ یہ پیچیدہ معاملہ ہے۔

’اگر آپ کے پاس گیس یا کوئلے پر چلنے والا پاور پلانٹ ہے، تو آپ گیس یا کوئلہ ڈال سکتے ہیں۔ لیکن جوہری پلانٹ میں آپ یورینیئم نہیں ڈال سکتے، آپ کو اس ٹیکنالوجی کی ضرورت ہو گی جس سے آپ اپنے مخصوص ری ایکٹر میں استعمال کے لیے جوہری راڈ بنا سکیں۔‘

ڈاکٹر میٹ بووین کا کہنا ہے کہ ’اگر روسی جوہری ایندھن کا متبادل تلاش کر بھی لیا جائے تب بھی کئی ممالک، جہاں وی وی ای آر ری ایکٹرز موجود ہیں، کو پرزوں اور سروس کے لیے روس کی ضرورت ہو گی۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’روس پر مکمل انحصار کا خاتمہ ناممکن نہیں ہے لیکن یہ کہنا مشکل ہے کہ اس میں کتنا وقت لگے گا۔‘

روس کے یوکرین پر حملے کے دو ماہ بعد فن لینڈ نے اعلان کیا کہ ملک میں تیسرے جوہری پاور پلانٹ کی تعمیر کے لیے روس کے ساتھ معاہدے سے دستبردار ہو رہا ہے جس کی وجہ یوکرین جنگ سے جڑے خطرات بتائے گئے۔

تاہم اسی جنگ کے باوجود ہنگری، جو خود بھی یورپی یونین کا رکن ہے، نے سنہ 2014 میں روس سے ہونے والے معاہدے کو ختم نہیں کیا۔

ہنگری کی وزارت خارجہ نے اگست میں اعلان کیا کہ روسی کمپنی روساٹوم ملک میں ساڑھے 12 ارب ڈالر کے دو جوہری ری ایکٹرز پر کام کا آغاز کرے گی۔

ولادیمیر سلویاک روساٹوم کو روسی صدر ولادیمیر پوتن کی حکومت کا ’اہم ترین بازو‘ قرار دیتے ہیں جو دنیا میں روسی اثر و رسوخ پھیلانے میں مددگار ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اس کے خلاف احتجاج سے باز نہیں آئیں گے۔

’اگر ہم اس پر بات نہیں کریں گے، اگر ہم سیاست دانوں پر دباؤ نہیں ڈالیں گے، وہ کچھ نہیں کریں گے۔‘

ان کی تنظیم ایکو ڈیفنس کے لنجن مظاہرے کے بعد جرمنی کی وزارت ماحولیات اور جوہری حفاظت کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یورینیئم کی ٹرانسپورٹ کو یوکرین کے خلاف روسی جارحیت کی وجہ سے تنقیدی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’روس کو یورینیئم کی فراہمی پر بالادستی حاصل نہیں ہے، اس کی خریداری دوسرے ممالک سے بھی ممکن ہو سکتی ہے۔‘

تاہم وزارت کا کہنا ہے کہ وہ کچھ نہیں کر سکتے کیونکہ ’روس سے یورینیئم خریدنے کا یہ فیصلہ لنجن میں پلانٹ چلانے والی فیکٹری کا ہے اور وزارت کے پاس اُن کو روکنے کا کوئی قانونی جواز موجود نہیں۔‘

جہاں تک پابندی کا سوال ہے، اس کا فیصلہ یورپی کمیشن ہی کر سکتا ہے۔

صدر پوتن کی جانب سے حال ہی میں نئی فوجی بھرتیوں کے اعلان کے بعد یورپی یونین نے روس کے خلاف نئی پابندیوں کی تجویز دی ہے۔

یورپی یونین کی سربراہ ارسلا وان کی جانب سے سامنے آنے والی تجاویز میں روساٹوم کا ذکر نہیں کیا گیا۔

یورپی یونین کے ایک ترجمان نے ان تجاویز کے منظر عام پر آنے سے قبل بی بی سی کو بتایا تھا کہ ’ہم نئی پابندیوں کے عمل پر بات نہیں کرتے کیوں کہ یہ ایک خفیہ عمل ہوتا ہے جس میں پورا اختیار رکن ممالک کے پاس ہوتا ہے۔‘

ڈاکٹر میٹ بووین کا کہنا ہے کہ ’روسی طرز کے ری ایکٹرز رکھنے والے ممالک کے لیے یہ مشکل فیصلہ ہو گا کہ وہ روسی جوہری ایندھن کی درآمد پر پابندی لگائیں۔‘

یورپ میں آنے والے موسم سرما میں ممکنہ توانائی بحران کے پیش نظر یہ معاملہ مذید اہم اور پیچیدہ ہو جاتا ہے۔

مثال کے طور پر جرمنی نے جوہری توانائی کے مکمل خاتمے کے فیصلے سے پسپائی اختیار کی ہے جو 2011 میں جاپان کے فوکوشیما حادثے کے بعد لیا گیا تھا۔

یہ بات تو واضح ہے کہ یورپی ممالک کے سامنے کچھ مشکل فیصلے ہیں تاہم لٹون کا اصرار ہے کہ مغرب کو جلد از جلد کچھ کرنا ہو گا اور روسی جوہری ایندھن پر پابندی لگانی ہو گی۔

’روس نے یورپ میں ایک بڑی جنگ شروع کی جو ہم نے دوسری جنگ عظیم کے بعد سے نہیں دیکھی تھی۔ پابندیوں کے معاملے میں اب مذید کسی ابہام کی گنجائش نہیں ہے۔‘بشکریہ بی بی سی

 

یہ بھی دیکھیں

ثانی زہرا حضرت زینب کبری (س) کا یوم ولادت پوری دنیا میں عقیدت و احترام کیساتھ منایا جارہا ہے

اسلام آباد: بنت علی، ثانی زہرا، شریکہ الحسین، حضرت زینب علیہا سلام کی ولادت باسعات …