ہفتہ , 26 نومبر 2022

’نظرِ بد‘ کی پُراسرار طاقت پر لوگوں کو اندھا یقین کیوں ہے؟

(کوین ہرجیتائی)

قدیم مصر میں تحفظ، شاہی طاقت اور اچھی صحت کی علامت عین حورس (آئی آف حورس) سے لے کر امریکی ماڈل جیجی حدید تک ہزاروں برسوں سے آنکھ نے انسانی تخیل پر اپنی گرفت برقرار رکھی ہوئی ہے۔

جب دنیا کی پُراسرار شیطانی قوتوں سے بچنے کی بات آتی ہے تو شاید ‘نظرِ بد’ سے زیادہ جانی پہچانی اور تسلیم کی جانی والی چیز اور کوئی نہیں۔

اسے ظاہر کرنے والی اور اس سے بچنے کے لیے مؤثر سمجھے جانے والے ٹوٹکوں کا ہر جگہ استعمال کیا جاتا ہے۔ نیلے رنگ کی آنکھ کی تصویر نہ صرف استنبول کے بازاروں میں، بلکہ ہوائی جہازوں کے اطراف سے لے کر مزاحیہ کتابوں کے صفحات تک میں ہر جگہ دکھائی دیتی ہے۔

گذشتہ دہائی میں ایسی تصویریں اکثر فیشن کی دنیا میں نمودار ہوتی رہی ہیں۔ امریکی ماڈل کِم کارڈیشین نے متعدد مواقع پر کھیلوں کے کڑے اور ہیڈ پیس کے ساتھ تصاویر بنوائی ہیں جس میں یہ علامت (شیطانی آنکھ) موجود ہے۔ جبکہ جیجی حدید نے آئی لو نامی جوتوں کا برانڈ متعارف کروا کر سنہ 2017 میں اس رجحان کو مزید فروغ دیا۔

مشہور شخصیات کی طرف سے اس حالیہ توثیق کے نتیجے میں نظرِ بد سے بچنے کے کڑے (بریسلیٹ)، ہار اور چابیوں کے چھلّے بنانے کے طریقے آن لائن شیئر کیے گئے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ ہزاروں برسوں سے آنکھ کی اس علامت نے انسانی تخیل پر اپنی مضبوط گرفت برقرار رکھی ہوئی ہے۔

جپسم الابسٹر سے تراشے گئے آنکھوں کے بت ‘تل براک’: مشرقِ وسطیٰ کے ملک شام میں کھدائی کے دوران دریافت ہوئے ہیں اور خیال کیا جاتا ہے کہ یہ 3500 قبل مسیح سے پہلے کے ہیں

نظر بد کی بنیاد کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے تعویذ اور نظر بد کے درمیان فرق کو سمجھنا چاہیے۔

نیلی آنکھ والی تعویذ کو اکثر ’شیطانی آنکھ‘ کہا جاتا ہے مگر دراصل اس کا مقصد نظرِ بد سے بچنا ہے۔ یہ سمجھا جاتا ہے کہ کسی دشمن کی بُری نگاہ سے ’نظر‘ لگ سکتی ہے۔ یہ تعویذ ہزاروں برسوں سے مختلف ترتیبوں میں موجود رہے ہیں اور بُری نظر کا تصور اتنا پرانا ہے کہ اس کی ابتدا جاننا ایک مشکل کام ہے۔قدیم مصر میں عین حورس فرعونوں کے ساتھ دفن کیا جاتا تھا تاکہ موت کے بعد ان کی حفاظت کی جا سکے

خلاصہ یہ ہے کہ نظر بد اور اس کے ممکنہ اثرات پر یقین رکھنا کوئی زیادہ پیچیدہ تصور نہیں۔ یہ اس یقین سے پیدا ہوتا ہے کہ جب کوئی بھی شخص بڑی کامیابی یا بڑا نام حاصل کرتا ہے وہ اپنے آس پاس کے لوگوں کے حسد کو بھی اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ یہ حسد کسی کی اچھی قسمت کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔ اس تصور کو قدیم یونانی رومانوی ناول ایتھیوپیکا میں ہیلیوڈورس آف ایمیسا میں کچھ یوں بیان کیا گیا ہے کہ ’جب کوئی شخص حسد بھری نظروں سے بہترین چیز کو دیکھتا ہے تو وہ آس پاس کے ماحول کو ایک نقصان دہ تعفن سے بھر دیتا ہے اور اپنی زہریلی سانسیں ماحول میں پھیلا دیتا ہے۔‘

’حمصہ‘ ہتھیلی کی شکل کا ایک تعویذ ہے جس کے درمیان میں ایک آنکھ ہے۔ اسے شمالی افریقہ اور مشرق وسطیٰ کے یہودیوں، مسیحیوں اور مسلمانوں نے اپنی اپنی ثقافتوں میں اپنایا ہے

نظرِ بد کا یہ عقیدہ مختلف ثقافتوں کے ساتھ ساتھ کئی نسلوں تک پھیلا ہوا ہے۔ آج تک بُری آنکھ کے حوالے سے افسانوں کی سب سے جامع تصنیفات میں سے ایک فریڈرک تھامس ایلورتھی کی ’دی ایول آئی‘ ہے۔

یہ توہم پرستی کی ایک قدیم کہانی ہے۔ ایلورتھی متعدد ثقافتوں میں علامت کی مثالوں کو تلاش کرتے ہیں۔ یونانی گورگنوں کی ’دل دہلا دینے والی نظر‘ سے لے کر آئرش لوک کہانیوں تک جن میں وہاں کے مرد گھوڑوں کو نظر کے ایک ہی اشارے سے قابو کر سکتے ہیں، عملی طور پر ہر ثقافت میں ’نظر بد‘ سے متعلق ایک افسانوی کہانی موجود ہوتی ہے۔

آنکھ کی علامت ہر ثقافت میں اتنی گہرائی سے سرایت کر گئی ہے اور اس کا ذکر بائبل اور قرآن سمیت کئی مذہبی کتابوں میں بھی پایا جاتا ہے۔

آنکھ کے بدلے آنکھ
نظر بد پر یقین محض توہم پرستی سے بالاتر ہے۔ کئی مشہور مفکرین اس کی سچائی کی تصدیق کرتے ہیں۔

سب سے زیادہ قابل ذکر مثالوں میں سے ایک یونانی فلسفی پلوٹارک تھے جنھوں نے اپنی کتاب سمپوزیکس میں ایک سائنسی وضاحت تجویز کی تھی کہ انسانی آنکھ میں توانائی کی غیر مرئی شعاعیں جاری کرنے کی طاقت ہوتی ہے جو بعض صورتوں میں بچوں یا چھوٹے جانوروں کو مارنے کے لیے کافی طاقتور ہوتی ہیں۔

پلوٹارک اس کی مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ بحیرہ اسود کے جنوب میں بعض گروہ نظر بد کا استعمال کرتے ہیں۔ یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ نیلی آنکھوں والوں کے پاس مسحور کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔

یہ نظریہ کافی عام ہے کہ کچھ لوگوں کے پاس زیادہ طاقتور نظر ہوتی ہے جو نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ مگر اس میں لازم نہیں نظر بد کا تعلق کسی کے لیے بُرا چاہنے سے ہو۔

کچھ ثقافتیں اسے ایک بوجھ سمجھتی ہیں یعنی نحوست پھیلانے کی صلاحیت خود ایک نحوست کی شکل ہے۔

مثال کے طور پر ایلورتھی نے ایک قدیم پولینڈ کی لوک کہانی کا حوالہ دیا ہے جو ایک ایسے شخص کے بارے میں بتاتا ہے جس کی نگاہوں میں اس قدر طاقتور نحوست تھی کہ اس نے اپنے پیاروں کو بد نصیبی سے محفوظ کرنے کے لیے اپنی آنکھیں خود پھوڑ لیں۔

یہ عقیدہ بہت پھیلا ہوا ہے کہ کسی کی ایک بُری نظر آپ کو تباہ کن بدقسمتی سے دوچار کر سکتی ہے۔ مگر اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں کہ ان قدیم تہذیبوں کے لوگوں نے اس کا توڑ بھی تلاش کیا جس کی وجہ سے نظر بد کو رد کرنے کے تعویزوں کا آغاز ہوا۔ یہ آج بھی لوگوں کے زیرِ استعمال ہیں۔

مگر ایسے تعویذوں کا استعمال کب سے شروع ہوا ہو گا؟

استنبول میں مقیم آرٹ ہسٹری کے پروفیسر ڈاکٹر نیشے یلدران بی بی سی کلچر کو بتاتے ہیں کہ ’نظر بد سے محفوظ رکھنے کے تعویذ کی قدیم ترین شکل 3,300 قبل مسیح کی ہے۔‘

‘یہ تعویذ تل براک میں کھدائی کے دوران دریافت ہوئے جو میسوپوٹیمیا کے قدیم ترین شہروں میں سے ایک ہے، جو کہ آج کے دور کا شام بنتا ہے۔ وہ کٹی ہوئی آنکھوں سے بنے بت تھے۔‘

’خدا کی نظر‘ کا نشان اکثر فری میسنز کی علامات میں استعمال کی وجہ سے مشہور ہے۔ امریکی ڈالر کے نوٹ کی پشت پر بھی یہ نشان موجود ہے

تل براک کے الابسٹر سے بنے ہوئے قدیم بت ان نیلے شیشوں والے تعویذوں سے مختلف ہیں جو ہم آج دیکھتے ہیں۔ اس کی ابتدائی شکلیں 1500 قبل مسیح تک ظاہر نہیں ہوئی تھی۔ تو یہ ارتقا کا عمل کیسے وجود میں آیا؟

’جہاں تک نیلے رنگ کا تعلق ہے، یہ یقینی طور پر سب سے پہلے مصری چمکدار مٹی سے آتا ہے، جس میں آکسائیڈز کی زیادہ مقدار ہوتی ہے۔ جب پکایا جائے تو کاپر اور کوبالٹ اسے نیلا رنگ دیتے ہیں۔‘

یلدران نے مصر میں کھدائی کے دوران دریافت ہونے والے حورس پینڈنٹس کی کئی نیلی آنکھوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک طرح سے ابتدائی دور کے جدید بدنظری کو رد کرنے کے تعویذ کے زیادہ بااثر پیشرو کے طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

یلدران کے مطابق ابتدائی ترک قبائل اپنے آسمانی دیوتا ’تنجیری‘ (ٹینگری) کے ساتھ وابستہ ہونے کی وجہ سے نیلے رنگ کے اس سائے کے ساتھ شدید دلچسپی رکھتے تھے اور ممکنہ طور پر اس کے نتیجے میں کوبالٹ اور تانبے کے استعمال کا انتخاب کرتے تھے۔

نیلی آنکھوں کے موتیوں کی مالا اس خطے میں بڑے پیمانے پر زیرِ استعمال تھی، جسے فونیشین، آشوری، یونانی، رومی اور شاید سب سے زیادہ عثمانی دور کے لوگ استعمال کرتے تھے۔

اس کے معنی سے لاعلم؟
نیلی آنکھ کے بارے میں جو چیز سب سے زیادہ دلکش ہے وہ اس کی محض لمبی عمر نہیں ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس کے استعمال میں ہزاروں سال کے دوران تھوڑا سا انحراف ہوا ہے۔

ہم ابھی بھی اپنے طیاروں کے اطراف میں نیلی آنکھ کو اسی طرح چسپاں کر رہے ہیں جس طرح مصر اور اتروسک کے لوگوں نے محفوظ گزرگاہوں کو یقینی بنانے کے لیے اپنے بحری جہازوں پر اسے چسپاں کیا تھا۔

ترکی میں یہ اب بھی ایک روایت ہے کہ نوزائیدہ بچوں کو نظر بد سے بچاؤ کا نشان لگایا جائے کیونکہ یہ مانا جاتا ہے کہ چھوٹے بچے اکثر اس کا سب سے زیادہ شکار ہوتے ہیں۔لیکن کوئی بھی سوائے حیران ہونے کے کچھ نہیں کر سکتا ہے کہ کیا جدید دنیا کے ذرائع کے ساتھ ساتھ اس کی شکل بدل رہی ہے، اس کے معنی اور تاریخ نئے رنگوں میں ڈھل رہے ہیں۔

آنکھ کی تاریخ بہت پرانی ہے اور یہ بہت سے لوگوں کی ثقافت کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ لہذا نیلی آنکھ کے نشان کا استعمال کرنے والے بہت سے جدید صارفین حقیقت میں ورثے کے لحاظ سے اس سے تعلق رکھتے ہیں۔

مثال کے طور پر کم کاریشیئن اور جیجی حدید دونوں کا تعلق ایسی ثقافتوں سے ہے جن میں نظر بد کا تصور موجود ہے۔

یلدران کو یقین نہیں ہے کہ یہ کوئی مسئلہ ہے۔ ’نظرِ بد اس تشویش سے بالاتر ہے کیونکہ یہ ایک بڑے جغرافیے کا حصہ رہی ہے اور ہم نظرِ بد سے اخذ کردہ تعویذوں کی مختلف شکلیں دیکھتے رہیں گے۔‘

اگرچہ علامت میں حدود سے تجاوز کرنے کی صلاحیت ہو سکتی ہے، خواہ وہ ثقافتی، جغرافیائی یا مذہبی ہو، یہ محض ایک حلیے یا فیشن سٹیٹمنٹ سے ہٹ کر نئے معنی کے مطابق۔

نظر بد تہذیب کے آغاز کے دور کی باقیات میں سے ہے جو انسانیت کے کچھ انتہائی پائیدار اور گہرے عقائد کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اس طرح کے علم کے بغیر تعویذ پہننا نہ صرف اس کی حفاظتی صلاحیتوں کو بیکار بنا سکتا ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ طاقتور نحوست کا باعث بن سکتا ہے، اگر یہ واقعی ایسی چیز ہے جس پر آپ یقین رکھتے ہیں۔بشکریہ بی بی سی

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

یہ بھی دیکھیں

’آرمی چیف کی تعیناتی کے بعد کیا چھڑی اور گھڑی کی سیاست ختم ہوسکے گی؟‘

(فہیم پٹیل | محمد عمید فاروقی) حالیہ دنوں میں پاکستانی سیاست میں سب سے زیادہ …