ہفتہ , 26 نومبر 2022

عمران خان کا اصل ہدف

(ڈاکٹر توصیف احمد خان)

سیاسی محاذ آرائی میں اتنی شدت آگئی ہے کہ ریاستی اعلیٰ عہدوں کے تقررکے معاملہ پر بھی اپنی مرضی کے مطابق فیصلے کرنے کی بحث شروع کر دی گئی ہے۔ عمران خان کو یہ پریشانی ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نئے چیف آف اسٹاف کا تقرر کریں گے۔

انھوں نے مختلف شہروں میں جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے اس معاملے میں اپنے خیالات واضح کیے کہ اس پر ایسے فیصلہ کیا جائے، جیسا تقرر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا ہوتا ہے۔ صدر ڈاکٹر عارف علوی نے اس بحث میں شامل ہوتے ہوئے کہا کہ چیف آف اسٹاف کے تقررکے لیے مشاورت ہونی چاہیے۔

صدر عارف علوی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اتفاق رائے کی کوشش کررہے ہیں۔ ڈاکٹر عارف علوی کی کوششوں سے ایوانِ صدر میں ایک اجلاس کا امکان ہے۔ نئے پارلیمانی سال کا آغاز التوا کا شکار ہے۔ یہ پارلیمانی سال صدر ڈاکٹر عارف علوی کے خطاب سے شروع ہوتا ہے۔

برطانوی پارلیمنٹ کی روایت کے مطابق 10ڈاؤننگ اسٹریٹ یہ تقریر تیارکرتا ہے۔ یہ تقریر حکومت کی پالیسی کی عکاسی کرتی ہے۔ برطانیہ میں نئے پارلیمانی نظام کے آغاز پر اس دفعہ بادشاہ چارلس یہ تقریر پڑھیں گے۔ بھارت میں وزیر اعظم ہاؤس صدرکی تقریر تیارکرتا ہے اور صدر پارلیمنٹ میں یہ تقریر پڑھتے ہیں۔

پاکستان میں 1973ء کے آئین کے نفاذ کے بعد یہ روایت برقرار رہی مگر جنرل ضیاء الحق نے اپنے عملہ کی تیارکردہ تقریر پڑھنے کی روایت ڈالی۔ ڈاکٹر عارف علوی کا طلبہ تحریک سے تعلق رہا ، وہ ایک منجھے ہوئے سیاسی کارکن ہیں۔ بعض وفاقی یونیورسٹیوں کے اداروں کی صدارت کرتے ہوئے ان کا رویہ جمہوری اور غیرجانبدارانہ ہوتا ہے مگر جب تحریک انصاف کے معاملات آتے ہیں تو بات مختلف نظر آتی ہے۔

صدر نے ایک انٹرویو میں کہا کہ چیف آف اسٹاف کا تقرر مشاورت سے ہونا چاہیے۔ ظاہر ہے کہ مشاورت وزیر اعظم اور قائد حزب اختلاف کے درمیان ہوگی۔ پاکستان میں ہمیشہ چیف ایگزیکٹو نے فوج کے سربراہوں کا تقرر کیا۔ یہ تقررکبھی سینیارٹی اورکبھی پسند کی بنیاد پر ہوا، مگر یہ بالکل واضح ہے کہ ہر چیف آف اسٹاف کی اپنی پالیسی رہی۔ افغانستان سے متعلق Strategic Depth کی پالیسی 80ء میں واضح ہوئی۔ Deep state کی اصطلاح بھی عام ہوئی۔

مگر کبھی حزب اختلاف نے چیف آف اسٹاف کے تقررکو متنازعہ نہیں بنایا۔ پاکستان میں وزیر اعظم اور قائد حزب اختلاف کی مشاورت کا 2010ء سے پہلے کوئی تصور نہ تھا۔ آئین میں کی گئی 18ویں ترمیم کے تحت چیف الیکشن کمشنر اور انفارمیشن کمیشن کے سربراہ کے تقرر کے لیے وزیر اعظم اور قائد حزب اختلاف کے درمیان مشاورت کا اتفاق رائے کے الفاظ تحریر ہوئے ، جب یوسف رضا گیلانی وزیر اعظم تھے تو اس وقت کے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری نثار حسین سے پہلی مشاورت کے ذریعے دونوں سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس فخر الدین جی ابراہیم کے نام پر متفق ہوئے۔

بتایا جاتا ہے کہ کئی معروف وکلاء نے جن میں عاصمہ جہانگیر نمایاں تھی اس اتفاق رائے میں اہم کردار ادا کیا تھا مگر جب فخر الدین جی ابراہیم کے استعفیٰ کے بعد کسی چیف الیکشن کمشنر کے نام پر دونوں طرف سے اتفاق رائے نہیں ہوا تو کہا جاتا ہے کہ موجودہ چیف الیکشن کمشنر راجہ سلطان کا نام شیخ رشید نے پیش کیا تھا ، پھر عمران خان نے اس پر اتفاق کا اظہار کیا۔ اب فواد چوہدری کہتے ہیں کہ راجہ سلطان کا نام اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے آیا تھا۔

عدلیہ کی تاریخ کے الجہاد ٹرسٹ کیس کے فیصلہ کے تحت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور ہائی کورٹس کے چیف جسٹس کا تقرر سینیارٹی کے تحت ہونے لگا اور جب عمران خان نے موجودہ چیف آف اسٹاف کی ملازمت میں توسیع کا مسئلہ اٹھایا تو اس وقت کے چیف جسٹس کھوسہ نے ازخود نوٹس کے عدالتی حق کو استعمال کرتے ہوئے معاملہ پارلیمنٹ کو ارسال کیا تاکہ پارلیمنٹ قانون سازی کرسکے مگر عمران خان نے اپنے موجودہ خیالات کے تحت قانون سازی پر توجہ نہ دی، یوں قانون بننے کا موقع ضایع ہوا۔ میرٹ درحقیقت ایک متنازعہ لفظ ہے۔

ہر فرد میرٹ کی اپنی تعریف کرتا ہے، یوں ہر شخص اپنے میرٹ کے مطابق اپنے امیدوار کا نام تجویزکرے گا اور ایک غیر سیاسی عہدے پر سوالات پیدا ہوں گے۔ صدرعارف علوی مشاورت پر زور دیتے رہے ہیں۔ وزیر اعظم کی قائد حزب اختلاف سے مشاورت سے یہ معاملہ مزید پیچیدہ ہوجائے گا۔

ماہر قانون رشید رضوی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’’ سینیارٹی کا طریقہ کار اپنایا جائے ‘‘ رشید رضوی کی دلیل بالکل مناسب ہے۔ بھارت میں فوج کے سربراہ کا تقرر سینیارٹی کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ وہاں فوج کے سربراہ کی تقرری انتہائی غیر محسوس انداز میں ہوتی ہے اور فوج کے نئے کمانڈر انچیف انتہائی مختصر تقریب میں چارج سنبھال لیتے ہیں۔ پارلیمنٹ کو اس معاملہ کو دائمی طور پر حل کرنے کے لیے قانون سازی کرنا ہوگی۔

عمران خان پارلیمنٹ میں نہیں آئیں گے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ان کا حقیقی ہدف پورا نہیں ہوگا۔ ان کا میرٹ پر فوج کے سربراہ کے تقرر کا نعرہ لگانے کا واضح مقصد یہ ہے کہ وہ اقتدار میں آکر اپنی مرضی کے فوج کے سربراہ کا تقرر کریں، یوں وہ پی ڈی ایم کے خدشات کی توثیق کررہے ہیں۔

عمران خان کی مخالف سیاسی جماعتوں نے جب ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی تھی تو ان رہنماؤں کا کہنا تھا کہ عمران خان اگلے انتخابات میں برسر اقتدار آئے تو وہ آئین میں من مانی ترامیم کرکے صدارتی نظام نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ وہ یہ بھی کہتے تھے کہ 2018ء کے انتخابات میں محکمہ زراعت کے اہلکاروں نے عمران خان کی کامیابی کے لیے کردار ادا کیا تھا اور پولنگ والے دن RTS کا نظام بند ہوگیا تھا۔

اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان اور صدر ڈاکٹر عارف علوی نے پارلیمانی کمیٹی قائم کی تھی مگر اس پارلیمانی کمیٹی کا کبھی اجلاس نہ ہوا۔ فواد چوہدری اس بارے میں مختلف تاویلیں پیش کرتے رہے۔

عمران خان نئے انتخابات میں کامیابی کے لیے الیکٹرونک ووٹنگ مشین پر اربوں روپے خرچ کرنے پر تیار ہوگئے جس کے بارے میں سوفٹ ویئر ماہرین کی رائے تھی کہ اسے کہیں بھی مینیج کیا جاسکتا ہے۔ یوں صدر علوی کی مشاورت کی تجویز اور عمران خان کی تجویز سے ان کا اصل ہدف سامنے آجاتا ہے۔بشکریہ ایکسپریس نیوز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

’آرمی چیف کی تعیناتی کے بعد کیا چھڑی اور گھڑی کی سیاست ختم ہوسکے گی؟‘

(فہیم پٹیل | محمد عمید فاروقی) حالیہ دنوں میں پاکستانی سیاست میں سب سے زیادہ …