ہفتہ , 26 نومبر 2022

کیا چینی قرضوں کی واپسی میں سہولت پاکستان کے لیے ’لائف لائن‘ بن گئی ہے؟

(محمد صہیب)

چین کے قرضوں کی واپسی پر نظرِ ثانی اور اس ضمن میں سہولت حاصل کرنے کے حوالے سے امریکہ کی جانب سے ماضی میں بیانات دیے جاتے رہے ہیں لیکن حال ہی میں پاکستان کے وزیرِ خارجہ بلاول بھٹو کے ایک بیان نے ایک مرتبہ پھر اس جانب توجہ مبذول کروا دی ہے۔

ڈان اخبار کے مطابق بلاول بھٹو نے جریدے فارن پالیسی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ پاکستان نے چین سے قرضوں کی واپسی کو ری سٹرکچر کرنے، مؤخر کرنے یا سواپ کرنے کے بارے میں بات نہیں کی اور اگر ایسا ہو گا بھی تو یہ پاکستان کی شرائط پر ہو گا۔

سیلاب سے متاثرہ پاکستانی معیشت کو موجودہ بحران سے نکالنے کے لیے پاکستان کو عالمی برادری کی مدد درکار ہے لیکن ماہرین کے مطابق سنہ 2010 کے سیلاب کے برعکس اس مرتبہ زیادہ بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی کے بعد پاکستان کو امریکہ اور چین دونوں سے ہی وہ امداد نہیں مل سکی جس کی اسے ضرورت ہے۔

امریکہ کی جانب سے تو اس ضمن میں یہ توجیہ پیش کی گئی ہے کہ سنہ 2010 میں اس کے پاس جو وسائل موجود تھے وہ مختلف وجوہات کے باعث اس مرتبہ موجود نہیں ہیں لیکن ساتھ ہی پاکستان پر زور دیا گیا ہے کہ وہ چین سے قرضوں کی چھوٹ اور ان کی ری سٹرکچرنگ کرنے کی کوشش کرے۔

اس کے ردِعمل میں چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ امریکہ کو سیلاب سے متاثرہ پاکستان کے لیے کچھ ‘حقیقی اور مفید’ کام کرنا چاہیے اور انھوں نے امریکہ کی ‘پاکستان چین تعاون پر غیر ضروری تنقید کرنے پر’ مذمت بھی کی ہے۔

خیال رہے کہ جمعے کو امریکہ کی جانب سے پاکستان کو 13 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کے قرضے کی معطلی کی سہولت فراہم کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کے ان کی ترجیح پاکستان میں وسائل کی فراہمی ہے۔

اس سے قبل، قرضوں کے سواپ اور ری سٹرکچر کرنے کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کی جانب سے دورہ پاکستان کے دوران تجویز دی گئی تھی۔

اس ضمن میں اقوامِ متحدہ کی جانب سے گذشتہ ہفتے شائع کیے گیے ایک پیپر میں کہا گیا کہ پاکستان سے بیرونی قرضوں کی واپسی کے عمل کو فوری طور پر معطل کرتے ہوئے قرض دینے والے ممالک اور ادارے انھیں ری سٹرکچر کریں۔

تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اب پاکستان کو اس معاشی بحران اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا مداوا کرنے کے لیے چین سے قرضوں کی چھوٹ لینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے؟ اور کیا پاکستان ایسا کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہے؟

پاکستان نے چین سے کتنا قرض لے رکھا ہے؟
پاکستان کی جانب سے لیے گئے بیرونی قرضوں پر نظر ڈالی جائے تو رواں ماہ کے آغاز میں آئی ایم ایف کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر پاکستان نے چین سے 30 ارب ڈالر کا قرض لے رکھا ہے جو اس کے کل بیرونی قرضوں کا ایک تہائی حصہ بنتا ہے۔

معاشی امور پر گہری نظر رکھنے والے صحافی خرم حسین اس بارے میں تفصیل بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ چین سے قرضے کے حوالے سے پاکستان کی مشکل سنگین ہے۔

انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ کوئی ایک قرضہ نہیں ہے جو پاکستان نے چین سے لیا ہو، بلکہ یہ مختلف اشکال میں ہے۔‘

’اس میں آپ کے ریزرو ایکسٹینشن سہولت ہے، ڈپازٹس ہیں، کمرشل قرضے موجود ہیں اور پراچیکٹ فنانس اور اس حوالے سے قرضے موجود ہیں۔ تو اگر ری سٹرکچرنگ کی بات ہوتی ہے تو یہ خاصی پیچیدہ ہوتی ہے۔‘

اس حوالے سے تھنک ٹینک ایس ڈی پی آئی کے سربراہ عابد قیوم سلہری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے بیرونی قرضوں میں پہلے پیرس کلب کے ممبران سے لیا گیا قرضہ آتا ہے اس کے بعد چین کی باری آتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ تاثر غلط ہے کہ چین پاکستان کو سب سے زیادہ قرضہ دیتا ہے اور چین کے قرضے طویل مدتی ہیں اور ان کی فوری واپسی ضروری نہیں ہے۔‘

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’یہ ایک عام سی بات ہے کہ جب بھی کوئی ادارہ یا ملک آپ کو قرضہ دیتا ہے تو وہ ایسا کرنے سے قبل آپ کی جانب سے لیے گئے دیگر قرضوں کے بارے میں پوچھتا ہے۔‘

قرض واپسی سے متعلق سہولت حاصل کرنا اتنا مشکل کیوں ہے؟
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کے لیے قرض واپسی کے حوالے سے سہولت لینا اتنا مشکل کیوں ہو گیا ہے۔خرم حسین کے مطابق اس کی وجہ قرض دینے کی صلاحیت رکھنے والے ممالک کی تعداد میں اضافہ ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’پاکستان نے ماضی میں بھی قرضوں کی مد میں ری سٹرکچرنگ کی ہے لیکن اس وقت آپ نے ایک سنگل ونڈو پر جا کر بات کرنی ہوتی تھی یعنی پیرس کلب سے قرضے کے لیے بات کرنی ہوتی تھی کیونکہ جن سے آپ نے قرضہ لینا ہوتا تھا ان کی نمائندگی وہاں ہوتی تھی۔‘

انھوں نے اس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ’جیسے سنہ 2002 کے بعد پاکستان کو بہت بڑی قرضوں کی ری سٹرکچرنگ ملی تھی جو افغان جنگ کے حوالے سے دی گئی تھی اور پاکستان کو اس وقت 10 یا 12 ارب ڈالر ملے تھے۔‘

تاہم اب صورتحال مختلف ہے اور قرضہ دینے والے ممالک میں پیرس کلب کے علاوہ چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات بھی شامل ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’جب آپ پیرس کلب کے پاس جاتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ پہلے چین سے بات کریں۔ جب چین کے پاس جاتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ پہلے پیرس کلب سے ہمیں یہ یقین دہانی دلوا دیں۔‘

’جب آپ سعودی عرب کے پاس جاتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ ہمیں آئی ایم ایف سے یہ یقین دہانی دلوا دیں۔ یوں یہ ری سٹرکچرنگ بہت مشکل ہو جاتی ہے۔ تو آپ شروع کہاں سے کریں گے پہلے کہاں جائیں جب آپ کو چار جگہوں پر جانا پڑے۔‘

کیا چین پاکستان کو قرض واپسی میں سہولت دے گا؟
اس مشکل وقت میں کیا چین پاکستان کو قرضوں کی واپسی کے حوالے سے سہولت دے گا؟ اس بارے میں خرم حسین کہتے ہیں اس بات کا امکان تو ہے لیکن یہ ایک پیچیدہ عمل ہے۔

خرم حسین کا کہنا تھا کہ ’آج بلاول کہہ رہے ہیں کہ ہم نے چین سے قرضوں کی ری سٹرکچرنگ کی بات نہیں کی، انھیں معلوم ہے کہ جب یہ چین کے پاس جائیں گے تو وہاں سے برہمی کا اظہار کیا جائے گا۔‘

انھوں کہا کہ ’کیونکہ چین پاکستان سے بہت پہلے سے نظام بہتر کرنے کے بارے میں بات کرتا آیا ہے اس لیے اب ری سٹرکچرنگ کی بات کرنے پر پاکستان کو چین کی جانب سرزنش کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘

تاہم انھوں نے کہا کہ ’لیکن پاکستان کو اس مشکل مرحلے سے گزرنا پڑے گا اور چین کے پاس جانا پڑے گا، وہ اپنی شرائط لگائیں گے لیکن شاید آخر کار اس حوالے سے چھوٹ مل جائے گی لیکن یہ ایک پیچیدہ عمل ہو گا جس میں وقت لگے گا۔‘

خرم حسین کے مطابق یہ پاکستان کی لائف لائن بن گئی اور یہ قرضے ’نہ صرف چین ری سٹرکچر کرے، پیرس کلب ری سٹرکچر کرے بلکہ سب ہی ایسا کریں لیکن سب ایک دوسرے سے اس امر کو مشروط کر رہے ہیں۔‘

’تو آپ (پاکستان) کو ہر دروازے پر جا کر ذلت کا سامنا کرنا پڑے گا لیکن اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔‘

قرضوں کی سہولت کس قسم کی ہوتی ہیں اور ڈیٹ سواپ کیا ہے؟
عابد سلہری نے اس بارے میں تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ’ایک ہوتا ہے ڈیٹ ویور، یعنی قرضہ بالکل معاف کر دیا جائے۔ ایک ہوتا ہے ڈیٹ ڈیفرمینٹ، یعنی آپ قرضہ واپسی کے حوالے سے مہلت مانگ لیتے ہیں۔‘

ان کے مطابق ’تیسرا ڈیٹ سواپ ہوتا ہے جس میں قرضہ لینے والا اور دینے والا ایک فنڈ بنا لیتے ہیں اور جو رقم واپس کرنی ہوتی ہے وہ اس فنڈ میں چلی جاتی ہے۔ پھر جس مقصد کے لیے وہ فنڈ بنا ہوتا ہے صرف اس کے لیے وہ رقم خرچ کی جاتی ہے۔‘

’مثال کے طور پر اگر وہ فنڈ سیلاب کے لیے مختص کیا جاتا ہے تو اسے صرف اس بارے میں ہی استعمال کیا جائے گا پھر قرضہ دینے والا ملک یا ادارہ آپ سے حساب مانگ سکتا ہے کہ یہ پیسے کہاں لگائے گئے ہیں۔‘

خیال رہے کہ پاکستان کو تا حال ڈیٹ سواپ کی مد میں کسی ملک نے قرض واپس کرنے کی سہولت نہیں دی ہے اس لیے اگر آنے والے دنوں میں ایسا کیا جاتا ہے تو اس کی شرائط اسی وقت واضح ہوں گی۔بشکریہ بی بی سی

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

یہ بھی دیکھیں

’آرمی چیف کی تعیناتی کے بعد کیا چھڑی اور گھڑی کی سیاست ختم ہوسکے گی؟‘

(فہیم پٹیل | محمد عمید فاروقی) حالیہ دنوں میں پاکستانی سیاست میں سب سے زیادہ …