ہفتہ , 26 نومبر 2022

خیبر پختونخوا میں بڑے ذخائر کی دریافت کے باوجود گیس کی فراہمی کا منصوبہ ٹھپ کیوں پڑا ہے؟

(اسلام گل آفریدی)

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دو علاقوں شمالی وزیرستان اور فرنٹئیر ریجن بیٹنی میں دریافت ہونے والے گیس کے ذخائر کو قومی سسٹم میں لانے والے منصوبے پر تقریباً دو ماہ سے کام بند ہے۔

ستمبر 2021 میں یہاں گیس اور تیل کے زخائر کی دریافت کے بعد رواں سال 17 جون کو سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ نے گیس کو فیلڈز سے کمپنی کے ٹرانسمیشن نیٹ انجیکشن پوائنٹ یا گیس سسٹم میں لانے کے لیے 295 کلومیٹر طویل پائپ لائن بچھانے کے منصوبے کی منظوری دی تھی۔

23.4 ارب روپے لاگت کے منصوبے کی تکمیل جون 2023 تک متوقع تھی۔ تاہم ضلع بنوں کی تحصیل بکاخیل کے عوام نے 24 جولائی کو منصوبے پر احتجاجاً تعمیراتی کام بند کروا دیا۔ علاقے میں احتجاجی دھرنا پچھلے ایک ماہ سے جاری ہے۔

مقامی سیاسی اور سماجی رہنماء حاجی سعید اللہ نے منصوبے پر کام کے بندش کے حوالے سے کہا کہ مقامی سطح پر نکلنے والی گیس کو گھریلو اور صنعتی ضروریات کے لیے پہلے یہاں کے عوام کو مہیا کیا جائے اور بعد میں پنجاب منتقل کیا جائے۔

گیس اور تیل کے بڑے ذخائر کی دریافت
آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی نے ستمبر 2021 میں ضلع لکی مروت کے ایف آر علاقے بیٹنی اور جون 2022 میں ماڑی پیٹرولیم کمپنی نے شمالی وزیرستان میں واقع بنوں ویسٹ بلاک میں تحصیل شیوا میں گیس اور تیل کے بڑے ذخائر دریافت کیے۔

وزارت کے مطابق دونوں مقامات پر ایک ایک کنواں کھودا گیا اور توقع ہے کہ شمالی وزیرستان سے یومیہ 50 ملین مکعب فٹ جبکہ بیٹنی علاقے سے یومیہ 30 ملین معکب فٹ گیس حاصل کی جائے گی۔تاہم اس وقت یہ منصوبہ وقت پر مکمل ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔

خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع بنوں تحصیل بکاخیل کے ظفر خان وزیر رواں سال اپنے خاندان کی 120 کنال زمین پر چاول، مکئی اور گنے کی فصل کاشت نہیں کر سکتے کیونکہ اُن کی زمین میں شمالی وزیرستان سے آنے والی گیس پائپ لائن بچھانے کے لیے کمپنی نے رواں سال جولائی میں کام شروع کیا ہے۔

اُن کے خاندان کو زمین کا دو لاکھ 20 ہزار روپے معاوضہ ملا۔ اُن کا کہنا ہے کہ گیس پائپ لائن سے اُن کی زرعی زمین کو کافی نقصان پہنچا کیونکہ تعمیراتی کام کے لیے 33 فٹ چوڑی عارضی سڑک تعمیر کی گئی ہے جبکہ کام ختم ہونے کے بعد پائپ لائن کے قریب 11 فٹ میں کاشت کرنا مشکل ہو گا۔

بکاخیل احتجاجی دھرنے کے سرگرم رکن گوہر وزیر کا کہنا ہے کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 158 کے تحت جس علاقے سے معدنیات دریافت ہوں، وہاں کے مقامی لوگوں کا ہی اس پر پہلا حق ہے۔

ان کا ایک اور مطالبہ مقامی افراد کے لیے ملازمتوں کا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ شمالی وزیرستان، بنوں، لکی مروت اور بیٹنی اضلاع میں نوجوانوں کے بڑی تعداد بے روزگاری کے مسئلے سے دوچار ہے لیکن اس کے باوجود کسی مقامی بندے کو کام کرنے کا موقع فراہم نہیں کیا گیا۔

شمالی وزیر ستان کے تحصیل شیوا کے ملک عدیل خان کا کہنا ہے کہ 2018 سے علاقے میں گیس کے لیے سروے شروع ہوئی تو مقامی لوگوں نے کمپنی سے کام کے مواقع اور دیگر سہولیات فراہم کرنے کے باربار مطالبات کیے لیکن کوئی مثبت ردعمل سامنے نہیں آیا۔

اُنھوں نے کہا کہ اس سلسلے میں احتجاجی دھرنے بھی دیے گئے جس کی وجہ سے ضلعی انتظامیہ کے طرف سے مقامی عمائدین اور سماجی کارکنوں کے خلاف مقدمات درج کر دیے گئے۔

اُنھوں نے الزام عائد کیا کہ اس کے باوجود بھی لوگ اپنے مطالبات سے پیچے نہیں ہٹے تو کمپنی نے مجبور ہو کر کچھ کو ڈرائیور اور چوکیدار کی نوکری دی گئی۔

شمالی وزیر ستان سے رکنِ قومی اسمبلی محسن داوڑ نے بی بی سی کو بتایا کہ آئین کے مطابق گیس کے سہولت اور ملازمتوں پر پہلا حق مقامی آبادی کا ہے جبکہ یہاں پر گیس کا اتنا ذخیرہ موجود ہے جس سے پوری صوبے کی ضرورت پوری ہو سکتی ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ اس حوالے سے وزیر اعظم شہباز شریف سے بھی بات ہوئی اور قومی اسمبلی میں توجہ دلاؤ نوٹس پر بحث کے بعد متعلقہ قائمہ کمیٹی کو مزید کارروائی کے لیے بھیج دیا گیا ہے تاہم اب تک اس حوالے سے کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔

گیس پائپ لائن کے منصوبے پر کام کرنے والے ایک انجینیئر نے بی بی سی کو بتایا کہ شمالی وزیرستان میں شیوا کے مقام پر گیس کے لیے ایک ریفائنری قائم کی گئی ہے جبکہ گیس کو ٹرانسمیشن نیٹ انجیکشن پوائنٹ میں لانے کے لیے 18 انچ پائپ کی مدد سے پنجاب کے ضلع میانوالی کے علاقے عیسیٰ خیل تک پہنچایا جائے گا۔

اُنھوں نے کہا کہ ’ایسا ممکن نہیں کہ پیداواری مقام سے براہ راست صارفین کو گیس فراہم کی جائے کیونکہ اس کے پریشر کو کنٹرول کرنا مرکزی نظام میں شامل کے بغیر ناممکن ہے۔‘ اُن کے بقول ’جب گیس کی پیدوار شروع ہو جائے گی تو خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع لکی مروت، بنوں اور شمالی وزیر ستان کو گیس فراہم کی جا سکتی ہے۔‘

ماڑی پٹرولیم کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ شیوا کے علاقے میں 4300 فٹ گہرا ایک کنواں کھودا گیا ہے جبکہ علاقے میں مزید گیس کے ذخائر موجود ہیں۔ تاہم ایک کنویں کی کھدائی پر ایک سال سے زیادہ کا عرصہ درکار ہوتا ہے جبکہ ان کے مطابق علاقے میں امن و امان کی غیر یقینی صورتحال کی بناء پر عملے کے لیے کام کرنا مشکل ہے۔

سوئی ناردرن گیس پائپ لائن کمپنی کے مطابق خیبر پختونخوا کے مختلف مقامات سے یومیہ 400 ملین مکعب فٹ گیس پیدا ہوتی ہے جبکہ ضرورت 380ملین مکعب فٹ یومیہ ہے۔

کمپنی نے بتایا کہ نئے کنکشنز کے لیے دو لاکھ درخواستیں جمع کی جا چکی ہیں لیکن مرکزی حکومت کے فیصلے کے مطابق صارفین کو نئے کنکشن کے تحت گیس کی فراہمی پر پابندی ہے۔ کمپنی کے مطابق سردیوں میں گیس کی کمی کا مسئلہ ملک کے دیگر صوبوں کی نسبت خیبر پختونخوا میں کم ہوتا ہے جس کی بنیادی وجہ گیس کا کمرشل شعبے میں کم استعمال ہے۔

وزرات توانائی کے مطابق ملک کے مختلف حصوں سے قدرتی گیس کی یومیہ پیدوار 3200 ملین مکعب فٹ ہے جبکہ اسے صاف کرنے کے بعد 3000 ملین مکعب فٹ خالص گیس حاصل ہو جاتی ہے۔

یومیہ 1800 ملین مکعب فٹ گیس سوئی ناردرن اور سوئی سدرن گھریلو صارفین کو مہیا کرتی ہیں جبکہ یومیہ 1200 ملین مکعب فٹ انڈسٹری، سی این جی پمپس اور توانائی پیدا کرنے لیے او جی ڈی سی ایل، ماڑی پیٹرولیم کمپنی اور پاکستان پیٹرولیم کمپنی فراہم کر رہی ہیں۔ یومیہ 1000 ملین مکعب فٹ ایل این جی بیرونی ممالک سے درآمد کی جاتی ہے۔بشکریہ بی بی سی

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

یہ بھی دیکھیں

’آرمی چیف کی تعیناتی کے بعد کیا چھڑی اور گھڑی کی سیاست ختم ہوسکے گی؟‘

(فہیم پٹیل | محمد عمید فاروقی) حالیہ دنوں میں پاکستانی سیاست میں سب سے زیادہ …