بدھ , 30 نومبر 2022

اسرائیل کو بھرپور جنگ کا سامنا

(تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی)

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے یورپین قیادت پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیلی لیڈرشپ کو فلسطینیوں کے خلاف نسل پرستانہ رویئے کا ذمہ دار قرار دیکر ان سے باز پرس کریں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے یہ مطالبہ پیر کے روز برسلز میں منعقد ہونے والے ای یو اسرائیل ایسوسی ایشن کونسل کے اجلاس کے تناظر میں کیا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا کہ اسرائیل کا رویہ فلسطینیوں کے ساتھ انتہائی ظالمانہ اور نسل پرستی پر مبنی ہے اور وہ ان پر نقل و حمل، تعلیم پر پابندی اور ان کے گھروں پر قبضے اور انہیں، انہی کے علاقوں سے بےدخل کرنے جیسے ظالمانہ اقدامات کے ذریعے ظلم کے پہاڑ توڑ رہا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ اس رویئے پر اسرائیل کی قیادت کو اس ظلم کا باقاعدہ ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے اس سے باز پرس کی جانی چاہیئے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس اجلاس کے حوالے سے یورپین ایکسٹرنل ایکشن سروس کے اس بیان کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا کہ "مذاکرات میں شریک دونوں فریقین جمہوریت کی مشترکہ اثاث رکھتے ہیں۔”

ایمنسٹی نے یاد دلایا کہ کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب اسرائیل نے فلسطینیوں کے ساتھ کام کرنے والی انسانی حقوق کی کئی تنظیموں پر مبہم الزامات لگا کر ان پر پابندی عائد کر دی ہے۔ واضح رہے کہ یورپی یونین اور اسرائیل کے درمیان 14 سال کے طویل عرصے کے بعد یہ اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہو رہا ہے۔ اجلاس میں یورپ کی نمائندگی اس کے خارجہ امور کے سربراہ جوزپ بوریل اور اسرائیلی وفد کی قیادت اس کے وزیراعظم کریں گے۔ دوسری طرف فلسطینی تنظیموں نے، صیہونی فوج کے سربراہ کی دھمکی کا جواب دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی فوجی بکتر بند گاڑیوں میں بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ جنین کیمپ میں شہدائے استقامت کی یاد میں منعقدہ ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے فلسطین کے استقامتی گروہوں کی فوجی شاخوں کے ترجمان نے صیہونی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر فلسطینی مجاہدین اور کمانڈروں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے کی کوشش کی تو اسرائیل کو بھرپور جنگ کا سامنا کرنا پڑے گا۔

مذکورہ ترجمان نے یہ بات زور دے کر کہی کہ اسقامتی محاذ ، شہداء کی راہ پر گامزن ہے اور غاصبوں کی پسپائی تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔ اسرائیلی اخبار یدیعوت احارونوت نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ صیہونی فوج کے سربراہ آویو کوخاوی نے تحریک جہاد اسلامی، فتح تحریک کے فوجی بازو، شہدائے الاقصیٰ بریگیڈ کے اعلیٰ عہدیداروں پر حملے کی منظوری دے دی ہے۔ اخبار کا کہنا ہے کہ یہ حملے ممکنہ طور پر لڑاکا طیاروں کے ذریعے کئے جائیں گے اور آوی کوخائی نے اس بات پر اتفاق کرلیا ہے کہ ضرورت پڑنے پر غرب اردن میں استقامتی محاذ کے اعلیٰ عہدیداروں کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔ صیہونی حکومت یہودیوں کے مختلف تہواروں پر، غرب اردن میں فلسطینی مجاہدین کے حملوں کے خوف سے، فوجی نقل و حرکت میں اضافہ کر دیتی ہے۔ پچھلے دو ماہ اور خاص طور پر غزہ پر سہ روزہ جارحیت کے بعد سے صیہونی حکام کو غرب اردن کے علاقے میں، فلسطینیوں کے احتجاجی مظاہروں اور استقامتی کارروائیوں کا سامنا ہے۔

اس سے پہلے صیہونی حکومت کے ملٹری انٹیلی جنس کے سابق سربراہ تمیر ہیمن نے فلسطینیوں کے درمیان حماس اور تحریک جہاد اسلامی کی پوزیشن کو مضبوط کرنے اور مغربی کنارے میں انتفاضہ کے زیادہ امکان کے بارے میں خبردار کیا تھا۔ اپنے ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ فلسطین کے استقامتی گروہوں کی پوزیشن اور عوامی حمایت میں اضافہ ہوا ہے، کیونکہ فلسطینی عوام کے خیال میں یہ نظریہ پوری طرح ناکام ہوچکا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ سیاسی حل ممکن ہے۔ انہوں نے اسرائیلی اخبار یدیعوت آحارونوت کو بتایا کہ جہاد اسلامی اور حماس جیسے گروپوں کی طاقت بڑھ رہی ہے، جس کی وجہ سے بقول ان کے ایک غیر مستحکم صورتحال پیدا ہو رہی اور نتیجے میں کسی بھی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ صیہونی حکومت کی اس سابق انٹیلی جنس اور فوجی شخصیت کی جانب سے فلسطینی انتفاضہ کے امکان کے بارے میں انتباہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب حال ہی میں بعض دیگر صیہونی عہدیداروں نے بھی اس بارے میں خبردار کیا ہے۔

واضح رہے کہ غرب اردن میں استقامت کا پھیلتا ہوا دائرہ غاصب صیہونی حکومت کے لئے ڈراؤنا خواب بن گیا ہے، جس سے صیہونی حکام کی نیندیں اڑ گئی ہیں۔ غاصب صیہونی فوجی آئے دن مختلف بہانوں سے فلسطینیوں کو شہید، زخمی اور گرفتار کرتے رہتے ہیں، جبکہ فلسطینی بھی صیہونی مخالف کارروائیاں انجام دے کر ان کے جارحانہ اور دہشتگردانہ اقدامات کا جواب دیتے ہیں۔ فلسطینی مجاہدین کی دلیرانہ کارروائیوں سے خائف ہو کر غاصب صیہونی فوجی سکیورٹی کے لحاظ سے اب خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں، جس کی بنا پر غاصب صیہونی حکومت کے لئے مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسے دیگر کئی ادارے صیہونی حکومت کی طرف سے کی جانے والی انسانی حقوق کی پامالی کا برملا اظہار کرچکے ہیں، لیکن اس غاصب حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔

یہی وجہ ہے کہ فلسطین کے تمام مقبوضہ علاقوں میں موومینٹ تیز ہونے کی خبریں موصول ہو رہی ہیں اور اسی تناظر میں جنین کیمپ میں شہدائے استقامت کی یاد میں منعقدہ ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے فلسطین کے استقامتی گروہوں کی فوجی شاخوں کے ترجمان نے صیہونی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر فلسطینی مجاہدین اور کمانڈروں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے کی کوشش کی تو اسرائیل کو بھرپور جنگ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ فلسطین کی استقامت نئے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ اسرائیل کی حمایت و دفاع میں یورپ و امریکہ کے اخراجات بہت بڑھ چکے ہیں، یہاں تک کہ ان ممالک کی بھرپور حمایت کے باوجود مختلف جنگوں میں غاصب صیہونی حکومت کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ صیہونی فوجیوں سے برسرپیکار فلسطینی بچے اور نوجوان مستقبل کے فلسطینی حکمراں ہیں، جو فلسطینی استقامت کی حمایت کرنے والے ملکوں میں پیدا ہوئے ہیں، جس سے علاقے میں نیا توازن برقرار ہوگا اور بلاشبہ مختلف شعبوں میں فلسطینی موومینٹ اور تحریک استقامت مسلسل پروان چڑھے گی۔بشکریہ اسلام ٹائمز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

کیچڑ

(جاوید چوہدری) افلا طون اپنے استاد سقراط کے پاس آیا اور اس سے کہنے لگا …